’’ان کی یادوں کا شجر روشن ہے‘‘

’’ان کی یادوں کا شجر روشن ہے‘‘

  

تمہاری اپنی کیا حیثیت ہے؟ تم تو اپنے باپ کی وجہ سے پہچانی جاتی ہو۔ اسمبلی میں جاری بحث کے دوران ایک ممبر بہن نے مجھ پر اپنے تئیں طنز بھرا تیر چلایا۔ میں نے اُٹھ کر جواب دیا کہ الحمدللہ میں یہاں اپنی جماعت کی ایک کارکن کی حیثیت سے آئی ہوں اور اپنی پارٹی کی نمائندہ ہوں مگر آج آپ نے مجھے میری شناخت یاد کرادی ہے تو میں آپکی بڑی شکر گزار ہوں۔ عورت اپنے محبوب، محبت اور حفاظت کے رِشتوں کی وجہ سے پہچانی جائے تو معاشرے میں اسکا وقار اور اعتبار بڑھ جاتا ہے اور میں اللہ کی بڑی شکر گزار ہوں کہ میں اپنے شفیق آغا جان کے حوالے سے پہچانی جاتی ہوں کسی اور حوالے سے یاد کرنے سے اللہ تعالیٰ سب عورتوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔

اُس وقت تو ایوان میں بھی بڑی پذیرائی ملی مگر آج جبکہ آغاجان کو بچھڑے 3 برس ہونے کو ہیں۔ کوئی بھی دن ایسا نہیں گزرا جب آغا جان کی کوئی بات ، کوئی جملہ، کوئی مسکراہٹ آس پاس چمک نہ رہی ہو۔ میں ہر روز چشمِ خیال سے ان کا محبت بھرا مسکراتا چہرہ دیکھتی ہوں اور انکی خوبصورت گونجدار آواز میں کی گئی تقریروں سے اپنے لیئے راہمنائی لیتی ہوں وہ میرے لیئے خصوصاً اور اپنے پورے خاندان کے لیئے ایسی ڈھال تھے جن سے گزر کر کوئی مشکل ہم تک کبھی پہنچی ہی نہ تھی۔

جہاں پر بھی جائیں اور جس جگہ پر بھی ان کے حوالے سے کوئی بات کرے تو لوگوں کی محبت اور احترام کا عالم ہی کچھ اور ہو جاتا ہے۔ میں سوچتی ہوں ساری عمر اُنھوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے ساتھ وفاداری کا اعلا ن کرتے گزاری اور خود نمائی ، ریاکاری اور ملمع کاری سے بے نیازی نے اُنھیں خلقِ خدا کا محبوب بنادیا۔

قرآن کریم، سیرت رسولؐ اور کلیاتِ اقبال ان کی غذا تھی۔ مولانا مودودی ؒ ، امام حسن البناء شہید اور سید قطب شہید کا لٹریچر ان کے علم و عمل اور شعور و آگاہی کا سبب۔ میں نے ایک دن اُن سے سوال کیا کہ آپ نے اتنی اچھی انگلش اور فارسی کہاں سے سیکھی؟ جواب دیا کہ بیٹا جو بھی زبان اگر اچھی طرح سیکھنی ہو تو اُس زبان کے ترجمے والا قرآن پڑھا کرو۔ قرآن اللہ کا کلام ہے اور سب سے زیادہ خوبصورت اور مدلل الفاظ کی ڈکشنری بھی قرآن کے ذخیرۂ الفاظ سے ہی زبان خود بخود خوبصورت ہوتی چلی جاتی ہے۔

ہمیں فارسی کی کلیات سے لمبی لمبی نظمیں سناتے تھے۔ اِسی وجہ سے فارسی زبان بھی سکھا دی۔ کلیات کے شروع میں مولانا روم کے یہ اشعار اتنی کثرت سے سنائے ہیں کہ ازبر ہوگئے ہیں۔’’ ایک بوڑھا چراغ ہاتھ میں لیئے شہر میں گشت کر رہا تھا کسی نے پوچھا کیا کر رہے ہیں؟ ؟ جواب دیا کہ سست اور نکمے ساتھیوں سے بیزار ہو کر شیرِخدا اور رستم زمان جیسی روحانی اور جسمانی طاقت والے لوگوں کی تلاش میں ہوں۔ جواب ملا کہ ایسے لوگ تو اب نایاب اور ناپید ہیں اور نہیں ملتے۔ اُس بوڑھے نے جواب دیا کہ وہ جو نایاب اور ناپید ہیں۔ اُنھی کی تلاش اور آرزو میں پھر رہا ہوں۔‘‘ مجھے بھی اپنے آغا جان اُنھی نایاب لوگوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ وہ خود ایک کامیاب تاجر تھے۔ 1970ء کے اوائل میں اُس وقت کے صوبہ سرحد کے چیمبر آف کامرس کے نائب صدر بنے تھے اور اللہ نے اُنھیں صوبہ کے گنتی کے کامیاب تاجروں کی فہرست میں شامل کردیا تھا مگر جب اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کی جدوجہد میں شامل ہوئے تو کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ سودوزیاں سے بالاتر ہوکر نقد جاں اسی جدوجہد میں ہار دی اور سرخرو ہوگئے۔ عالم عرب اور فارسی و ترکی اور وطن عزیز کے حکمرانوں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے اور کتنی دفعہ کاروبار اور مراعات کی پیشکشیں بھی ہوئیں مگر نہ خود اور نہ اپنی اولاد کے لیئے کسی قسم کی رعایت قبول نہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اُنھیں بڑی برکات سے نوازا۔

مجھے اُنکے کچھ فارسی اشعار جو وہ ہر وقت سنایا کرتے تھے بہت یاد آتے ہیں۔

* ’’نئے چاند کی طرح اِس نیلی فضا میں ہر دم پھیلتے چلے جاؤ اور اگر اس دنیا میں اپنامقام بنانا چاہتے ہو تو اللہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑو اور حضورﷺ کے راستے پر چلو۔‘‘

* ’’اے میری بیٹا! یہ نازو انداز اور تہذیب جدید کے فتنوں اور آرائش و زیبائش کو چھوڑ دو مسلمانوں کے ساتھ یہ کافرانہ روش مناسب نہیں لگتی۔ اپنے کردار کی طاقت سے دلوں کو مسخر کرنا سیکھو۔‘‘

* ’’اے میری اُمت کی عورتوں! میری قسمت کی تاریک شب سے سحر کی نوید لے آؤ۔ اِس اُمت کو پھر سے قرآن سنادو۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ یہ تیری تلاوت کا سوز ہی تو تھا جس نے حضرت عمرؓ کی تقدیر بدل دی۔‘‘

اقبال کے ساقی نامہ کے یہ اشعار تو ان کی زبان پر ہی رہتے ۔

میرا دل، میری رزم گاہِ حیات

گمانوں کے لشکر یقین کا ثبات

یہی کچھ ہے ساتھی متاعِ فقیر

اِسی سے فقیری میں ہوں میں امیر

میرے قافلے میں لگا دے اسے

لٹا دے ٹھکانے لگا دے اسے

مسدس حالی بھی بہت سوز کے ساتھ سناتے تھے۔ اور اُمت کی زبوں حالی پر تڑپ جاتے تھے۔ ان کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح ہم اپنی عظمت رفتہ کو بازیاب کراسکیں۔ آبدیدہ ہوکر یہ اشعار سناتے ۔

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی برلانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا، ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی، غلاموں کا مولا

اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

میری بہت ہی عزیز بہن ڈاکٹر عزیزہ انجم نے آغا جان کے بارے میں اپنے تاثرات میں لکھا’’بہت سے ناممکن اُنھوں نے ممکن بنائے، کارواں ترتیب دئیے، عزیمت کی داستانیں لکھیں۔ محبت کی شمعیں جلائیں، دعوت کے چراغ روشن کیئے، اُس کی معیت میں تحریک کی دنیا کے انداز بدل گئے، نئی تاریخ رقم ہوئی۔

اُس نے حرف کو معنوں کے روپ میں ڈھالا، جذبوں کو قدروقیمت دی، پہاڑوں پر چڑھا اور فتح و کامرانی کا وقار سمیٹا، اجنبیوں کو دوست بنایا، مختلف راستوں کو ملاکر شاہراہ میں ڈھالا، سب کو لے کر چلا، تخت پر فقیری کے نمونے دکھائے، تحریک اسلامی کو کامیابی کے مفہوم سے آشنا کیا ور دامن جھاڑ کر فقیر کی چادر اوڑھ کر درویشوں میں آبیٹھا، اُسکی یادوں کا شجر روشن ہے اللہ سے دعا ہے کہ اُن کی قبر بھی روشن ہو ۔

زیر زمین بھی روشنی ہو

مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے

رب ارحمھما کما ربّیٰنی صغیراًo

******

مزید :

ایڈیشن 2 -