تن من دھن کالا

تن من دھن کالا
 تن من دھن کالا

  

انکم ٹیکس ترمیمی بل 2016ء سے مجھے چین میں ہونے والی بنک ڈکیتی کی کہانی یاد آگئی ہے۔کئی سال پہلے جب چین میں کرپشن عروج پر تھی اور پورا نظام ہی کرپشن کی لپیٹ میں تھا تو چین میں یہ کہانی بہت مشہور تھی جو یوں تھی کہ ڈاکوؤں کے گروہ میں ایک ایم بی اے نوجوان شامل کیا گیا تا کہ وہ پڑھے لکھے علاقوں میں جدید طریقے سے ڈکیتی کی منصوبہ بندی کیا کرے۔نوجوان کو پہلا ٹاسک شہر کے گنجان آباد علاقے میں ایک بینک لوٹنے کا ملا۔وہ اپنے ساتھیوں کو لے کر گیا۔ بینک لوٹ کر کامیابی سے واپس آیا اور اپنے سردار کو ڈکیتی کی کہانی سنانے لگا:’’میں نے بینک میں داخل ہوتے ہی سب سے کہا کہ کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے اور کسی قسم کی حرکت نہ کرے کیونکہ یہ رقم سٹیٹ کی ہے اور تم لوگوں کی زندگی اپنی،سب لوگ چپ چاپ کھڑے رہے،سردار دلچسپی سے روداد سن رہا تھا ۔۔نوجوان نے کہا :باس اس کوسوچ بدلنا کہتے ہیں تا کہ وہ جذبات میں آکر کوئی گڑ بڑ نہ کر دیں،پھرجب ایک عورت چیخنے لگی تو میں نے اس سے کہا یہ بینک ڈکیتی ہے آپ کی عزت پر حملہ نہیں وہ خاموش ہو گئی۔۔باس اسے پروفیشنلزم کہتے ہیں کہ اپنے مشن پر فوکس رکھا جائے اور دوسروں کو باور کرایا جائے کہ آپ کا اس سے کوئی نقصان نہیں۔۔۔اور یہ لیں بیگ اسے گن لیں اس میں کتنی رقم ہے۔

ادھیڑ عمر سردارنے نوجوان کے چہرے پر نظر ڈالی جو اپنی کامیابی پر نازاں تھا، باس نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا :’’تم ابھی بچے ہو،میں اتنی بڑی رقم گننے میں کیوں کئی گھنٹے صرف کروں ابھی تھوڑی دیر بعد بینک والے پولیس میں رپورٹ درج کرائیں گے ،پھر ٹی وی پر بینک لوٹنے کی خبر چلے گی تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ کتنا پیسہ تم لوگ لوٹ کر لائے ہو۔نوجوان حیرانی سے باس کو دیکھ رہا تھا ،باس نے کہا ینگ مین اسے تجربہ کہتے ہیں جو تعلیم سے نہیں ،عمر سے آتا ہے اور تجربے کا کوئی نعم البدل نہیں۔دوسری طرف جونہی بینک لوٹنے کے بعد ڈاکو فرار ہوئے تو بینک منیجر نے اپنے وائس پریذیڈنٹ کو ڈکیتی کی اطلاع دی وائس پریذیڈنٹ نے کہا، رپورٹ درج کراتے وقت دھیان رکھنا دس ملین روپے ہمیں آپس میں بانٹنے ہیں اور ستر ملین کی جو پہلے خورد برد ہے اس کو بھی ساتھ جمع کرکے ڈکیتی کی رقم میں شامل کر لینا ،تاکہ انشورنس والوں سے ہمارا نقصان بھی پورا ہو جائے اور فائدہ بھی ہو، اس کو ہماری اصطلاح میں ڈوبتے انسان کا پانی کی لہروں سے ہیروں کے جزیرے پر پہنچنا کہتے ہیں۔

چند گھنٹوں بعد ٹی وی پر خبر چلی کہ ڈاکو بینک سے سو ملین ڈالر چوری کرکے لے گئے ہیں۔ڈاکوؤں نے جوش سے رقم بانٹنے کے لئے تقسیم کرنا شروع کی تو وہ بیس ملین پر ختم ہو گئی انہوں نے بار بار گنی تو وہ بیس ملین ڈالر ہی نکلی۔سردار نے نوجوان کی طرف دیکھا تو نوجوان نے شرمندگی سے کہا ہم نے اتنی منصوبہ بندی کے بعد اپنی جانوں پر کھیل کر صرف بیس ملین ڈالر ہی کمائے ،جبکہ بینک مینیجر نے بیٹھے بیٹھے اَسی ملین کما لئے اس سے ظاہر ہوتا ہے تعلیم حاصل کرکے ڈکیتی کرنے سے بہتر ہے کسی مالی ادارے میں ملازمت کی جائے۔سردار نے آہ بھری اور کہا مجھے ایک سوال کا جواب دو۔۔۔اصل ڈاکو کون ہے ہم یابینک مینیجر۔۔۔نوجوان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اسحاق ڈار بھی آج ہمیں ایسی ہی کہانی کو دہراتے نظر آتے ہیں ۔وہ بھی اس ملک کے خزانے کو لوٹنے والے خاندانوں اور گروہوں کو نئی ترکیب بتا کر اپنے کالے دھن کو مزید سفید کرنے کا راستہ دکھا رہے ہیں اور ہمیں درس دے رہے ہیں کہ اس سے عام آدمی کا کوئی نقصان نہیں الٹا فائدہ ہے۔اسحاق ڈار شاید بھول گئے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو عوام نے مینڈیٹ کالے دھن کو سفید کرنے کا نہیں دیا تھا، بلکہ ان کا گریبان پکڑ کر الٹا لٹکا کر پاک دھرتی سے لوٹا مال واپس لانے کا دیا تھا۔لوگوں نے انہیں خط غربت سے نیچے چالیس فیصد زندگی کی سزا بھگتنے والوں کی خوشحالی کے لئے سوئس بینکوں سے پیسے واپس لانے کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے ووٹ دےئے تھے۔علی بابا چالیس چوروں کے کالے تن من دھن کو سفید کرنے کا مینڈیٹ نہیں دیا تھا ،بلکہ سڑکوں پر احتساب کے نعروں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ووٹ دےئے تھے۔عوام نے کالے دھن کو ان لوگوں سے چھیننے کا فیصلہ دیا تھا ،مگر یہ تو انہیں اس دھن کا مالک بنانے کی قانون سازی کر رہے ہیں۔حکومت کا کام کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوتا ہے ،ان کی بلیک منی وائٹ کرنے کا طریقہ ایجا د کرنانہیں اگر یہی کرنا ہے تو پھر کون مستقبل میں کالا دھن کماتے ہوئے شرمائے گا۔ یہ تو اس کی حوصلہ افزائی کا عمل ہے۔

منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی پر دل چاہتا ہے انہیں کوئی اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا جائے ،ویسے پاکستان میں کچھ بعید بھی نہیں کہ انہیں سچ مچ کوئی اعلیٰ اعزاز دے دیا جائے اور کچھ نہیں تو ہماری یونیورسٹیاں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں دینے میں تو اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ذرا سوچئے جس ملک میں رحمان ملک کو ڈاکٹریٹ کی اعزا زی ڈگری مل سکتی ہے،ڈالر گرل ایان علی یونیورسٹی جا کر لیکچر دے آئے تو کیاغلط ہے۔لیاقت کا معیار جب کالا دھن ہے تو پھر اس کالے دھن کو سفید کرنے کی بھی کوئی نہ کوئی ترکیب ضرور ہونی چاہئے،دیکھئے اس عظیم کارنامے پر اسحاق ڈار کو کون سی یونیورسٹی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازتی ہے۔کاش کو ئی ایک لمحے کے لئے سوچ لیتا کہ اس ملک میں ایمانداری سے روزی کمانے والوں کو انکم ٹیکس ترمیمی بل سے کیا سبق ملے گا کہ ایماندری سے روزی کمانے والے سب سے بڑے بیوقوف ہیں۔

کچھ چیزوں کی تاثیر ہی الٹی ہے۔اگر مسلم لیگ (ن) انتخابات کے دوران احتساب کے دعووں کے برعکس چلنے لگی ہے تو حیرانی کیسی۔۔۔ ہمارے ہاں دسمبر جنوری کے سرد موسم میں دہشت گردوں اور کرپٹ عناصر کے خلاف رینجرز اور سیکیورٹی اداروں نے ایسی حرارت پیدا کی ہے کہ کرپٹ عناصر کو سرد موسم میں بھی پسینے آرہے ہیں۔اس یخ بستہ موسم میں سائبیریا سے اڑ کر آنے والے پرندوں کی ڈاروں کے نظارے تو ہم دیکھ چکے تھے ،مگر یہاں سے اڑ کر دبئی جانے کا نظارہ چشم حیران پہلی بار دیکھ رہی ہے۔جن پرندوں کے یہاں مضبوط گھونسلے ہیں اور انہیں گھونسلوں میں خوب دانہ چگنے کو مل رہا ہے، انہوں نے سردموسم میں اڈاری مار کر جانے سے بچنے کے لئے بلیک منی کو وائٹ کرنے کا فارمولانکال کر دبئی کے ساحلوں پر پہنچنے کی بجائے، یہیں دبئی بنانے کا منصوبہ سوچ لیا ہے ،مگر دل چا ہتا ہے کہ ان شہ دماغوں کے کان میں سر گوشی کی جائے۔۔۔جا اپنی حسرتوں پہ آنسو بہا کے سو جا‘‘ قوم اب ایسے کھیل تماشوں یا شعبدوں سے بہلنے والی نہیں۔

مزید :

کالم -