شادی کی ایک تقریب میں پٹھانکوٹ پرحملے کا تجزیہ!

شادی کی ایک تقریب میں پٹھانکوٹ پرحملے کا تجزیہ!
شادی کی ایک تقریب میں پٹھانکوٹ پرحملے کا تجزیہ!

  

میرے چند قریبی عزیز ایک عرصے سے امریکہ جا کر بس گئے تھے۔ پہلے تو کبھی کبھار ان سے ٹیلی فون پر بات ہو جاتی تھی یا کسی عزیز کی غمی یا خوشی پر وہ لوگ پاکستان آتے تھے تو گفتگوؤں کے سلسلے دراز رہتے تھے لیکن اب تو چند برس سے سوشل میڈیا نے (کم از کم تخیلاتی طور پر ہی سہی) یہ دوریاں ختم کر دی ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن Whatsappیا Viberپر طویل (اور مفت) بات چیت کا موقع مل جاتا ہے۔ لگتا ہے دنیا واقعی سکڑ کر رہ گئی ہے۔۔۔ ’’ازدیدہ دور از دل دور‘‘ یا ’’آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل‘‘ والی ضرب الامثال اب بالکل بے معنی ہو چکی ہیں اور شائد اسی لئے متروک بھی کر دی گئی ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک عزیزہ کی شادی پر یہ پاکستانی امریکی عزیز و اقارب خاصی بڑی تعداد میں لاہور آئے ہوئے تھے۔ لاہور ویسے بھی زندہ دلوں کا شہر کہلاتا ہے۔ یہاں ہر لحظہ، کہیں نہ کہیں غم اور خوشی کے مواقع پر ملاپ کے بے شمار مظاہرے دیکھنے اور سننے کو مل جاتے ہیں۔ جدید دنیا اگرچہ کہاں سے کہاں نکل گئی ہے لیکن بیاہ شادی کی قدیم رسوم جو صدیوں پہلے برصغیر کی ثقافت کا حصہ تھیں، ان میں آج تک کوئی کمی نہیں آئی۔ ہم پاکستانی ماڈرن تہذیب و تمدن کے حصار میں گِھر کر بھی ان رسوم سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ دماغ ان کو فضولیات کے زمرے میں ڈالتا ہے لیکن دل ہے کہ پاسبانِ عقل سے تنہا ہو کر اپنی ایک الگ دنیا بسا لیتا ہے۔ ہم لاکھ دلیلیں لائیں کہ اسلام میں شادی کا مطلب صرف نکاح کے چار بول ہیں لیکن جونہی کسی عزیز یا عزیزہ کی شادی قریب آتی ہے یہ چار کلمات چار مختلف ایامِ سرخوشی میں ڈھل جاتے ہیں جن کو بتدریج مایوں، مہندی، برات اور ولیمہ کا نام دیا جاتا ہے۔ شادی بیاہ کے ان مقررہ عناصرِ اربعہ کے علاوہ بھی قبل از بیاہ ’’ڈھولکیوں‘‘ کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں۔ کوئی خاندان جتنا بڑا ہوگا، ان ڈھولکیوں کی تعداد اسی نسبت سے بڑھ جائے گی۔ پاکستان سے باہر جا کر بس جانے والوں نے بھی اس رسم کا نام ’’ڈھولکی‘‘ سے بدل کر برائڈل شاور (Bridal Shower) رکھ لیا ہے۔ مجھے جب اس ’’غُسلِ عروسی‘‘ کی وجہ تسمیہ جاننے کی فکر ہوئی تو عجیب و غریب داستانیں سننے کو ملیں اور معلوم ہوا کہ مشرق ہی نہیں ،سارا مغرب بھی باوجود اس کے کہ رسومِ کہنہ کا قاتل کہلاتا ہے، روایاتِ کہنگی کا قتیل بن چکا ہے۔۔۔ مغرب کی یہ برائیڈل شاور مشرق کی ایک قسم کی ڈھولکی ہی کے مترادف ہے!

برصغیر کی ان رسوماتِ عروسی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ عہدِ حاضر کی تیز رفتار اور برق آسا زندگی میں مدتوں کے دیکھے اور بچھڑے ہوئے عزیز و اقربا اور دوست احباب پھر سے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ماہ و سال کی گردش نے اگرچہ چہروں کی شناخت دھندلا دی ہوتی ہے، پھر بھی سیاہ بالوں کی چاندی، سرخ و سفید گالوں کی جھریاں اور شوخ و شنگ آنکھوں کی نیم ویرانیاں دورِ گزشتہ کو دورِ حاضر میں لا بٹھاتی ہیں اور دونوں فریق چند ثانیوں کے بعد ایک ہی صفحے پر آ جاتے ہیں۔

جس شادی کا ذکر کررہا ہوں، اس میں بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ لوگ چونکہ ایک ایسے دیس میں رہتے ہیں جہاں دنیا کے مختلف براعظموں سے آئے ہوئے لوگ مل جل کر رہنا سیکھ گئے ہیں۔ اس لئے مختلف اقوام جو اپنے اوطانِ مالوف میں ایک دوسری کی دشمن تصور کی جاتی ہیں، وہاں رہ کر دوستیاں اور دشمنیاں بھول جاتی ہیں۔ جہاں تک برصغیر کا تعلق ہے تو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں بسنے والے تارکینِ وطن نے وہاں جا کر بھی گویا اپنے اپنے اوطانِ مالوف کی الگ الگ ’’کالونیاں‘‘ بنا رکھی ہیں۔ کسی ایک بڑے یورپی یا امریکی شہر کا نام لیں وہاں آپ کو پاکستان اور بھارت کی وہ دوستیاں اور دشمنیاں دیکھنے کو مل جائیں گی جنہیں آپ بزعمِ خویش برسوں پہلے اپنے دیس میں چھوڑ گئے تھے۔ ان تقریباتِ عروسی کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے سٹرٹیجک اور ٹیکٹیکل مسائل و موضوعات پر سیر حاصل ڈسکشن سننے کو مل جاتی ہے۔

ایک کزن کے بیٹے جو نیوجرسی سے آئے تھے ان سے حالیہ پٹھانکوٹ (انڈیا) فضائی مستقر پر حملہ کا موضوع زیر بحث آیا تو ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے دیرینہ مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں۔ گرم جنگ یا سرد جنگ کی اب کوئی بھی آپشن کارآمد نہیں رہی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہاں امریکہ میں لوگ پاکستانی موقف کو درست مانتے ہیں یا بھارتی کو تو جواب ملا کہ پاکستانی کالونی پاکستانی موقف کو درست جانتی ہے اور انڈین کالونی،بھارتی موقف کے ساتھ ہے۔ البتہ اب انڈین کالونی کا بھی یہی خیال ہے کہ پاکستان، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مخلص اور بے لوث ہوتا جا رہا ہے۔ پٹھانکوٹ پر حملہ بے شک پاکستانی سرزمین سے اٹھا ہو گا لیکن اسے پاکستانی موقف کی تائید حاصل نہیں۔ اس کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اگر بھارت یہ شواہد پاکستان کو فراہم کر دے کہ یہ حملہ پاکستان کی فلاں تنظیم نے کروایا تھا یا فلاں تنظیم نے اس کی ٹریننگ پاکستانی سرزمین پر کی تھی تو پاکستان کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔۔۔ یہ ایک نہایت سنجیدہ (Serious) واقعہ اور سنگین سانحہ ہے۔ اگرچہ اس میں ملوث چھ افراد مارے جا چکے ہیں لیکن ان کا تعلق اگر کسی بھی حوالے سے پاکستان سے ثابت ہو جائے تو اس کے ردعمل میں پاکستان کو ایک مضبوط، نتیجہ خیز اور فوری ایکشن کرکے بھارت کے شکوک و شبہات دور کرنے چاہئیں۔

شرکائے بحث میں سے ایک صاحب نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پاکستان، کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کو اپنے ہاں کرش (Crush) کر دیتا ہے تو کیا بھارت کو ہلہ شیری نہیں مل جائے گی کہ کشمیری مسلمانوں کے جذبہ ء حریّت کو سرد کرنے کی کوششوں میں پاکستان بھی شریک ہو گیا ہے۔ بالفرض اگر بھارت یہ ثبوت پاکستان کو مہیا کر دیتا ہے کہ یہ حملہ، سرزمینِ پاکستان پر پلان کیا گیا تھا اور اس کی ٹریننگ بھی پاکستان ہی میں کی گئی تھی تو کیا پاکستان اپنی نصف صدی کی جدوجہدِ آزادیء کشمیر ترک کر دے گا؟ کیا لاکھوں کشمیری مسلمانوں کے خون کی قربانی رائیگاں جائے گی؟۔۔۔ ان سوالوں کا جواب ملواکی (شکاگو) سے آئے ایک اور عزیز نے یہ دیا کہ پاکستان کو اپنا مستقبل دیکھنا چاہیے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے نہ کہ ماضی کے کشمیریوں کی قربانیوں کو گلے سے لگا کر بیٹھے رہنا چاہیے۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ اس عزیز کے استدلال میں گو تلخی کا عنصر نمایاں تھا لیکن اس کی بات سب کے دل کو لگی اور سب سوچتے رہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے۔ آیا اپنا مستقبل سنوارنا چاہیے یا کشمیر کے ماضی و حال کے ساتھ لٹک کر اپنا توازن بھی کھو دینا چاہیے؟

ایک اور عزیز جو آرمی میں مڈل رینکنگ کے آفیسر ہیں، اسی شب امریکہ سے ایک کورس کرکے واپس آئے تھے۔ چونکہ وہ ایک ایرو کورس (Cessna-208)کرنے گئے تھے اس لئے پٹھانکوٹ ائر بیس پر ان کے تبصرے میں بعض تکنیکی معلوماتی پہلو بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں امریکن بیس پر کہ جہاں وہ کورس کرنے گئے تھے یہ تاثر عام پایا جاتا ہے کہ انڈین پولیس اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں ہمیشہ پسماندگی کا شکار رہی ہے۔ خبروں کے مطابق پٹھانکوٹ کے موجودہ سانحے میں چھ دہشت گردوں نے 30اور 31دسمبر 2015ء کی درمیانی شب پٹھانکوٹ چھاؤنی کے ایک ایس پی (سپرنٹنڈنٹ پولیس) کی گاڑی پر چھاپہ مارا اور اس کے ڈرائیور کو ہلاک کرکے گاڑی قبضہ میں کر لی اور پھر انڈین پولیس کی وردیاں زیب تن کرکے پٹھانکوٹ کینٹ میں داخل ہو گئے۔

یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ یہ پولیس کے آفیسر بغیر حفاظتی سکواڈ (گارڈ) کے رات گئے اپنی کار سڑک پر کیوں لائے جبکہ انٹیلی جنس والوں نے مطلع کر دیا تھا کہ مستقر پر حملہ ہونے والا ہے؟۔۔۔ دوسرے یہ کہ ڈرائیور ہی کو کیوں مارا گیا اور خود ایس پی بچ کر کیسے نکل گیا؟۔۔۔ اور تیسرے یہ کہ ایس پی ’’شہید‘‘ کیوں نہ ہوا؟

یہ تینوں سوال بڑے اہم ہیں۔ پولیس وین یا پولیس موبائل پر چھاپہ مارنا دہشت گردوں کا ایک معروف حربہ ہے اور اتنا عام بن چکا ہے کہ اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ انڈین پولیس سروس (IPS) میں کمیشن پانے والے افسروں کے بارے میں یہ بات کیوں عام ہے کہ وہ اپنی جان کو اپنے ماتحتوں کی جانوں سے زیادہ عزیز گردانتے ہیں؟ اسی سانحے میں بھارتی فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل (نرنجن کمار) بھی تو مارا گیا۔ سوال یہ ہے کہ فوج کا اگر کوئی کرنیل اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا تو پولیس کا افسر کیوں جان بچا کر نکل جاتا ہے؟ اوروہ کیوں اپنے ٹروپس کے ساتھ ’’شہید‘‘ نہیں ہو جاتا؟

دہشت گردی کی ابتلاء سے تو پاکستان بھی گزرا ہے اور ابھی تک گزر رہا ہے لیکن پاکستان پولیس کے جتنے آفیسرز دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے، ان کی تعداد رینجرز اور ریگولر آرمی کے مقابلے میں بھی کچھ ایسی کم نہیں کہ نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ علاوہ ازیں جب انڈین پولیس آفیسر کی کار پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا اور ایس پی جان بچا کر بھاگ گیا تھا تو اس نے بعداز فرار کیا رول ادا کیا؟ کس کو خبردار کیا؟ اور اس سے بڑی اور حیران کن بات یہ بھی ہے کہ حملہ آوروں نے اس پولیس آفیسر کو بچ کر کیوں نکلنے دیا۔ کیا ان کو خبر نہیں تھی کہ یہ جا کر اس حملے اور ان کی موجودگی کی اطلاع دے دے گا اور اس طرح حملہ آوروں کا پورا پلان سبوتاژ ہوجائے گا۔۔۔ان حقائق کو جاننے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ بڑی عرق ریزی سے اس کی ایک ایک تفصیل کی چھان پھٹک کی جائے گی اور تب جا کر معلوم ہوگا کہ یہ حملہ ناکام کیوں ہوا اور اس ناکامی کا اصل سہرا آیاپولیس کے سر باندھا جائے گا یا انڈین آرمی کے ان محافظوں کے سر جو 1500خاندانوں پر مشتمل اُس تعمیراتی کمپلیکس کی حفاظت پر مامور تھے جو پٹھانکوٹ ائربیس کے افسروں / عہدیداروں کے اہلِ خانہ کی رہائش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے۔

مزید :

کالم -