پاکستان کی سلامتی سب پر مقدم ہے

پاکستان کی سلامتی سب پر مقدم ہے
 پاکستان کی سلامتی سب پر مقدم ہے

  

کیا ہمیں اس امر پر شکر ادا نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارے پاس دُنیا کی ایک منظم فوج موجود ہے۔ یہ بات مَیں نے خطے میں اُبھرتے ہوئے مسائل اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کہی ہے۔ داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات نے پورے عالم اسلام ہی نہیں، بلکہ ایشیا کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سعودی عرب میں47 افراد کے سر قلم ہوئے تو ایک شور مچ گیا۔ایک شیعہ عالم کی وجہ سے ایران نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا، حالانکہ یہ سعودی عرب کا داخلی معاملہ ہے اور خود سعودی بادشاہت کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ کس طرح ان افراد کو سزائیں دینے سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے، لیکن چونکہ حالات بہت کشیدہ ہیں اور پہلے ہی سے ایران اور سعودی عرب میں کھچاؤ اور تناؤ کی صورتِ حال موجود ہے،اس لئے اس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ سعودی عرب کو داعش سے اس لئے زیادہ خطرہ ہے کہ اُس کے پاس بڑی فوج موجود نہیں، جو داعش جیسی بڑی تنظیم کا سامنا کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے34 ممالک کے اشتراک سے ایک دفاعی فوج کا نظریہ پیش کیا ہے،جس میں پاکستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔۔۔ جس سے یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ پاکستان کو اس اتحاد میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں،اور اگر شامل ہونا ہے تو اس کی صورت کیا ہونی چاہئے؟

پاکستان کے لئے اطمینان کا باعث یہ حقیقت ہے کہ جب پورے خطے میں دہشت گردی کے بادل منڈلا رہے ہیں،ہمارے ہاں امن واپس لوٹ رہا ہے اور دہشت گردی دم توڑ رہی ہے۔ آج اگر کوئی پیچھے مڑ کر دیکھے اور ضربِ عضب کی صورت حال سے پہلے کے حالات کو ذہن میں لائے تو اسے بخوبی اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ یہ آپریشن کس قدر بروقت اور پاکستان کی سلامتی کے لئے ضروری تھا۔مشرقِ وسطیٰ میں جس تیزی کے ساتھ داعش نے قدم جمائے اور سب سے بڑا خطرہ بن کر اُبھری،اگر پاکستان کے شمالی و جنوبی علاقوں میں اُسی طرح دہشت گردوں کی آماج گاہیں قائم رہتیں اور وہ اِن علاقوں کو ایک آزاد مملکت کے طور پر استعمال کرتے رہتے تو پاکستان میں داعش کا خطرہ کس قدر بڑھ جاتا، اس بارے میں کسی تبصرے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا، جس سے اُن کی کمر ٹوٹ گئی۔آج کسی دہشت گرد تنظیم یا داعش کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ پاکستان میں کوئی منظم دہشت گردی کر سکے یا کسی علاقے کو اپنی پناہ گاہ بنا لے۔ یہ ایک قابلِ فخر بات ہے۔ پوری دُنیا دیکھ رہی ہے کہ اب پاکستان ایک پُرامن ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی مستعد ہیں اور آئے روز کہیں نہ کہیں سے مختلف ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لا کر اُن کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں جس بات کی اشد ضرورت ہے، وہ قومی یکجہتی ہے۔ کسی بھی طرح اس یکجہتی کو پارہ پارہ نہیں ہونا چاہئے۔ چاہے مذہبی اختلافات ہوں یا سیاسی، اس نکتے پر سب کا اتفاق ہونا چاہئے کہ پاکستان میں دہشت گردی کو کسی بھی طرح پنپنے نہیں دیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے ہونے والے ہر فیصلے کی ہر قسم کے سیاسی و مذہبی تعصبات اور اختلافات سے بالاتر ہو کر حمایت کی جائے گی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے تہران میں سعودی عرب کے سفارخانے پر حملے کی شدید مذمت کی ہے،اگر یہ بیان اسے سفارتی آداب کی خلاف ورزی سمجھ کر دیا گیا ہے، تو درست ہے، لیکن اگر ہم نے یہ تاثر پیدا کیا کہ ہم بھی بحرین اور سوڈان کی طرح سعودی عرب کی حمایت میں ایران سے تعلقات توڑ سکتے ہیں تو یہ بہت بڑی خرابی کو جنم دے گا۔ سیاسی قائدین کی طرف سے بجا طور پر وزیراعظم محمد نواز شریف سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کرانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ پاکستان کا کردار بنتا بھی یہی ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے افغانستان کے ساتھ اپنا محاذ بند کیا ہے۔اب ہم کوئی اور محاذ کھولنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ اگر پاکستان کی کوششوں سے دونوں ممالک میں صلح ہو جاتی ہے تو اس کا فائدہ پورے ریجن کو پہنچے گا۔ پاکستان اب کسی نئے محاذ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے بڑی قربانیاں دینے کے بعد امن کی منزل حاصل کی ہے، اب ہم اسے کسی صورت میں کھو دینے کا رسک نہیں لے سکتے۔ سب کچھ فوج کے کاندھوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ حیرت ہے کہ ہمارے ہاں سعودی عرب اور ایران کی حمایت اور مخالفت میں جلوس نکل رہے ہیں، حالانکہ جو کچھ ہوا ہے، اُس میں ہمارا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ہم پر کوئی زد پڑی ہے۔ایسا بھی نہیں کہ کوئی غیر مسلم ملک مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہا ہے، سب کچھ مسلمان خود کر رہے ہیں اور اس کے لئے اپنے اپنے دلائل بروئے کار لا رہے ہیں، ہمیں اس موقع پر پرائی جنگ میں کودنے کی بجائے دانشمندانہ کردار ادا کرنا چاہئے اور یہ کردار غیر جانبداری کے سوا ادا نہیں کیا جا سکتا۔

ہم نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا ہے۔ہمیں اس کامیابی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے، جب ہمیں صرف پاکستانی بن کر سوچنا ہے، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیگر تمام مسلم ممالک بھی صرف اپنے اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے تو ایران اسلامی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا ہمسایہ بھی ہے۔ ہمارے ہاں سُنی اور شیعہ آبادی کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہے، اگر یہ ہم آہنگی پرائی جنگ میں کودنے کی وجہ سے خراب ہوتی ہے، تو اس سے زیادہ احمقانہ بات اور کوئی نہ ہو گی۔اس بات پر اطمینان ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ ہماری فوجی و سول قیادت میں اس وقت دہشت گردی کے حوالے سے ایک مستحکم اتحاد موجود ہے، جس کی بدولت جرأت مندانہ فیصلے ہو رہے ہیں اور اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک بہترین فوج ہونے کے ناطے پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس فوج کی موجودگی میں پاکستان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،حتیٰ کہ بھارت بھی، جو پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلائے رکھتا ہے، پاکستانی فوج کے سامنے بے حیثیت ہو کر رہ جاتا ہے۔

دُنیا نے حال ہی میں پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد بھارتی فوج کی صلاحیتوں کو دیکھ لیا ہے۔ پانچ دن گزر جانے کے باوجود بھارتی فوج اور کمانڈوز دہشت گردوں سے ہوائی اڈے کو خالی نہیں کرا سکے، وہ بھارتی فوج کا اس طرح مقابلہ کر رہے ہیں، جیسے کسی بستی کے نہتے لوگوں کا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی فوج نے ایسی کسی کارروائی کے دوران اپنی بے پناہ مہارت اور صلاحیت کا مظاہرہ کر کے نہایت قلیل وقت میں دہشت گردوں کا صفایا کیا۔ بھارت کا سارا زور اس بات پر ہے کہ یہ حملہ آئی ایس آئی نے کرایا ہے، حالانکہ وہ اس کے کوئی شواہد سامنے نہیں لا سکا۔ یہ بات بذاتِ خود اُس کے جھوٹا ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ بھارت دو دہشت گردوں سے لڑتے لڑتے ہلکان ہو رہا ہے،جبکہ پاکستانی افواج نے آپریشن ضربِ عضب کے دوران ہزاروں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اپنی فوج کی اس عظیم صلاحیت پر ہمیں فخر ہونا چاہئے اور ہمیں اس بات کو سمجھ لینا چاہئے کہ دُنیا میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے، اُس میں وہی مُلک بچے گا، جس کے پاس منظم فوج ہو گی اور عوام اُس فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

آج سعودی عرب کو اپنے بچاؤ کے لئے اتحادی فوج اس لئے بنانا پڑ رہی ہے کہ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود اس کے پاس پیشہ ورانہ صلاحیت کی حامل معقول تعداد میں فوج نہیں اور کسی وقت بھی یہ خطرہ ہے کہ داعش جیسی تنظیمیں اُس کے اقتدار اعلیٰ کی بساط نہ لپیٹ دیں۔۔۔موجودہ حالات دو باتوں کے متقاضی ہیں۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھیں۔ بیرونی اثرات کو اس طرح قبول نہ کریں کہ وہ ہمارے لئے مسئلہ بن جائیں۔ خاص طور پر علمائے کرام کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ سعودی عرب یا ایران کی کشیدگی کو پاکستان میں عوام کی تفریق اور تقسیم کا باعث نہ بنائیں، کیونکہ اس سے پاکستان میں خانہ جنگی کو ہوا مل سکتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی فوج کو کمزور اور متنازعہ نہ بنائیں، بلکہ دہشت گردی کے اقدامات کی بھرپور حمایت کریں۔ قومی یکجہتی اور عسکری طاقت مل کر اُس چیلنج کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں جو ہمیں لمحۂ موجود میں درپیش ہیں۔

مزید :

کالم -