صرف زندہ رہے ہم، تو مر جائیں گے

صرف زندہ رہے ہم، تو مر جائیں گے
 صرف زندہ رہے ہم، تو مر جائیں گے

  

ہر سال نیا سال آجاتا ہے مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے سال گزارا یا سال نے ہمیں گزار دیا۔مغرب نے پانچ سو برس پہلے اور جاپانیوں، کوریائیوں، چینیوں نے پچھلے سو سال کے دوران یہ راز پا لیا کہ وقت کو طاقت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔ ہنرمندی و تعلیم سے بے وقعت وقت کو قیمتی کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اسے پیداواری دولت کی شکل کیسے دی جا سکتی ہے۔ وسائل قلیل ہوں یا نہ بھی ہوں تو بھی وقت کو وسائل کا متبادل کیسے بنایا جا سکتا ہے؟وقت کو سرمایہ سمجھنے والے ممالک میں باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے کہ قوم نے انفرادی و اجتماعی طور پر کتنے پیداواری گھنٹے برتے یا ضائع کیے اور اس اسراف کو اگلے ہفتے، مہینے یا برس میں کیسے کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

کبھی غور فرمایا کہ انگریز نے برِصغیر کے ہر اہم شہر میں گھنٹہ گھر کیوں بنوائے تھے؟ حالانکہ ہم سب ہی بچپنے سے سنتے آ رہے ہیں کہ اتنا سونا ٹھیک نہیں ہے، وقت کا کھونا ٹھیک نہیں ہے۔ جب پہلی جماعت میں داخل ہوتے ہیں تو کلاس روم کی دیواروں پر موٹا موٹا خوشخط لکھا پاتے ہیں، گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں، وقت کی قدر کرو، وقت بڑی دولت ہے، آج کا کام کل پر نہ ٹالو وغیرہ وغیرہ۔اساتذہ ہمیں یہ بتانا کبھی نہیں بھولتے کہ محمد علی جناح وقت کے کتنے پابند تھے، نہرو جی کو دیکھ کے لوگ کیوں اپنی گھڑی کی سوئیاں ٹھیک کر لیتے تھے۔ پھر ہم اور بڑے ہوتے جاتے ہیں تو ارمان بھری چمکتی گھڑی خریدتے ہیں۔ وقت پر جاگنے کے لیے الارم کلاک لگاتے ہیں۔ دفتر، اجلاس یا تقریب میں پہنچنے کے لیے جلدی جلدی تیار ہوتے ہیں اور بروقت پہنچ کر فاتحانہ نظروں سے ان کرسیوں کی جانب دیکھتے ہیں جو خالی پڑی ہیں۔اپنے مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے میں وقت لگانا بالکل برا نہیں مگر 24 گھنٹے یہی کرنا کتنا فائدہ مند ہے؟

ہو سکتا ہے یہود و ہنود مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے ازلی دشمن ہوں مگر کیا یہ بھی اغیار کی سازش ہے کہ ہم اپنے ذمے لگا کام بھی وقت پر مکمل نہ کر پائیں، کسی بھی شادی غمی میں وقت پر پہنچنے کو بے وقوفی سمجھیں، کسی بھی بڑے یا چھوٹے منصوبے کی ڈیڈ لائن ہمارے لیے مقدس نہ ہو، امپورٹ ایکسپورٹ کا کوئی بھی آرڈر یہ جانے بغیر لیتے چلے جائیں کہ ظاہر و غائب اسباب کے سبب یہ بر وقت مکمل نہ ہو سکا تو بے عزتی ہوگی۔ہم تو کسی کو فوری امداد بھی وقت پر نہیں دے پاتے بھلے سائل خود ہی چل کے کیوں نہ آ جائے۔ یہ بھی ہماری سوچ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ سرگرمی اور کاروبار دن کی روشنی میں کرو تاکہ توانائی اور وسائل اگلے روز کام آ سکیں۔آپ کسی سے بھی وقت مانگ کے دیکھ لیں اکثر یہی سننے کو ملے گا شام کے بعد جب چاہے مل لو، صبح آجاؤ۔ بس والے سے پوچھیں کتنے بجے چلے گی؟ جواب ملے گا ایک آدھ گھنٹے میں؟ وزیر سے پوچھیں یہ منصوبہ کس تاریخ تک مکمل ہوگا وہ کہے گا سال چھ مہینے میں۔ اگر اصرار کریں کہ اندازاً کس تاریخ تک؟ تو وہ الٹا آپ سے پوچھ سکتا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہو یا فرانس میں؟

قوم کے غم میں مرا جانے والا ہر رہنما کیسی آسانی سے کہہ کر جان چھڑا لیتا ہے کہ ہمارے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ راتوں رات سب ٹھیک ہو جائے۔ مگر کتنے لوگ جانتے ہیں کہ وقت ہی دراصل الہ دین کا چراغ ہے اور یہ چراغ سب کے پاس ہے لیکن شعور کم کم ہے۔چونکہ وقت ہی سیدھا نہیں ہو پا رہا اس لیے کچھ بھی سیدھا نہیں ہو پا رہا۔ حیرت ہے جس ملک کی آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے ہو، جہاں وسائل اپنے استعمال کے انتظار میں سوکھ رہے ہوں، جہاں صلاحیتوں کی کمی نہ ہو، وہاں اکثریت کے پاس فرصت ہی فرصت ہے۔یہ کوئی المیہ ہی نہیں کہ صبح سے رات تک ہر قصبے اور بستی کے چائے خانے اپنا کام کسی اور پر ڈالنے والے ویہلے لوگوں سے کچھا کھچ بھرے رہتے ہیں۔ دن باتوں، تبصروں، ٹی وی بینی اور غیبتوں میں گذر جاتا ہے اور رات کی قبر سے اٹھنے والا ایک نیا دن پھر سے سب کو دبوچ لیتا ہے۔دن دبے پاؤں مہینوں اور برسوں اور عشروں میں بدلتے جاتے ہیں اور خواب میں ترقی کی عادی باتونی اکثریت سے قبرستان بھرتے جاتے ہیں:

بے دلی کیا یونہی دن گذر جائیں گے

صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے

( جون ایلیا )

مزید :

کالم -