کشمیریوں کا حق خودارادیت اور بھارتی فوج کے مظالم

کشمیریوں کا حق خودارادیت اور بھارتی فوج کے مظالم
 کشمیریوں کا حق خودارادیت اور بھارتی فوج کے مظالم

  

پاکستان اور کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے یوم حق خود ارادیت منایا ۔ اس موقع پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے مشن کو ایک یادداشت پیش کی گئی کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلائے۔کشمیری لیڈروں نے کہا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر حل نہ کیا تو جہاد کے لئے تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کا چارٹر بھی اس کی اجازت دیتا ہے، پُرامن کشمیری اقوام متحدہ کی قرارداد وں کے مطابق حق خودارادیت چاہتے ہیں۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبے کو دبا نہیں سکتے۔ کشمیری پُرامن اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے۔کشمیری رہنماؤں کا کہناہے کہ اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرائے ،جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے یہ سال نوید کا سال ہے، ہمیں اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز تر کرنا ہو گا۔

آج کا یہ دن1949ء کی قرارداد کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا۔ جموں وکشمیر متنازعہ خطہ ہے، اس خطے کے لوگوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی ،کشمیری جو فیصلہ دیں گے ،وہی حتمی ہو گا ،مگر ہندو بنیا اپنی اس بات سے مکر گیا۔ آل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا حق خود ارادیت ایسا حق ہے جس سے کسی قوم یا خطے کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔ آج مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر زندہ ہے، اس کی وجہ کشمیریوں کی بے پنا ہ قربانیاں اور سیاسی جدوجہد ہے۔ یہ لا تعداد انسانی قربانیاں پوری کشمیری قوم کے لئے شناخت بن چکی ہیں۔ جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکے امیرنے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت نہ دلاسکا تو دنیا میں امن کیسے قائم ہوگا۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے اور اس کے خلا ف سلامتی کونسل میں قرارداد لاکر اس کے خلاف عملی اقدامات کرے اور کشمیریوں کوان کا حق دلائے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس گیلانی کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی سوچ کشمیر کے حوالے سے اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگی ،جب تک پاکستان میں آنے والی ہر حکومت ،چاہے وہ آمرانہ سوچ ہو یا جمہوریت پسند سوچ، وہ کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کرتی رہے گی،مگر پاکستانی قیادت اور سیاسی قوتوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ 68 برسوں سے کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتے کشمیریوں نے اپنے 6 لاکھ شہداء، 10 ہزار لاپتہ افراد، 67 سو نامعلوم قبروں کے کتبوں کو فراموش نہیں کیا اور بھارتی افواج اور پولیس کے آگے سینہ سپر رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت بھی بھارتی حکومت اور سیاسی قوتوں سے دوستی کے راگ الاپ رہی ہے۔ کہیں نوازشریف اپنی حلف برداری کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کی آمد کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور کہیں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے ہاتھوں بھارت کے حکمرانوں کو دعوت کے پیغامات بھجوائے جاتے ہیں، مگر پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے ،بھارت میں چاہے جو بھی حکومت ہو، ان کی سوچ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ایک جیسی رہے گی۔

پاکستانی حکومت جب بھارت سے سرکریک اور سیاچن کے مسئلے پر بات چیت کی خواہش ظاہر کرتی ہے تو کشمیریوں کی تشویش بڑھ جاتی ہے کہ پاکستان کہیں بھارت سے خفیہ ڈیل نہ کرلے ۔۔۔جنرل (ر) پرویز مشرف نے جب 4 نکاتی فارمولا دیا تھا تو اس سے کشمیر کے مسئلے کو بہت نقصان ہوا تھا۔ اس وقت کشمیر کے مسئلے کو متنازعہ ماننے کی بجائے دونوں ملک اسے سرحدی تنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ 57 مسلم ممالک کی اتنی بڑی او آئی سی تنظیم ہے، اس میں بھی بار بار کشمیر کے حوالے سے قرارداد آنی چاہئے۔ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس مسئلے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جاسکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے حوالے سے اپنی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق 1947ء سے 2015ء کے اختتام تک پانچ لاکھ افراد شہید اور 9988 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔

رپورٹ میں باور کرایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں گمنام قبریں 5900 اور غائب شدہ افراد کی تعداد دس ہزار ہے ،جبکہ ایک لاکھ دس ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد گرفتار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے کالے قوانین پوٹا، ٹاٹا اور آفسپا کے تحت 24 افراد مختلف جیلوں میں عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ شہید کئے گئے افراد میں زیادہ تعداد گیارہ سال سے 60 سال تک کے بچوں اور بوڑھوں کی ہے، جبکہ 710 خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا جو انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔ ایک لاکھ دس ہزار افراد ابھی تک مختلف جیلوں میں کالے قانون کے تحت سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ بھارت نے 1990ء سے 2013ء تک ایک لاکھ 6 ہزار افراد کو شہید کیا، مگر اقوام متحدہ ان مظالم پر خاموش تماشائی بنی رہی۔

اس رپورٹ میں صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی بھارتی فوجوں کے مظالم کی نشاندہی نہیں کی گئی، بلکہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کے واقعات سے بھی دنیا کو آگاہ کیا گیا ہے۔ بھارت نے گزشتہ دو سال کے دوران عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 140 مرتبہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی ،اس دوران تین ہزار سے زائد مارٹر گولے فائر کئے جو گزشتہ دو سال کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ ان واقعات میں تقریباً 60 افراد شہید ہوئے، جبکہ نقل مکانی کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے سینکڑوں خاندان آج بھی پاکستان اور مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔بھارت کے ساتھ یک طرفہ دوستی کی خواہش رکھنے والے ہمارے حکمرانوں، سیاست دانوں اور دیگر مکاتب زندگی کے لوگوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ وہ پاکستان کی سلامتی کے درپے اس دشمن کے ساتھ دوستی کی خواہش پال کر ملک کی سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں یا ملک کی تباہی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ وقت تو دنیا کے سامنے بھارت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کا ہے ،تاکہ کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد آزادی میں دنیا کی مزید حمایت حاصل ہو سکے۔

مزید :

کالم -