زکوٰۃ کی وصولی اور صوبہ سندھ

زکوٰۃ کی وصولی اور صوبہ سندھ

  

ایک اطلاع کے مطابق حکومتِ سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ سالانہ زکوٰۃ کی رقم وہ خود وصول کرے گی۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وفاقی حکومت کو خط لکھ کر آگاہ کیا جائے۔ ہر سال یکم رمضان المبارک کو بینک کھاتوں سے زکوٰۃ کٹتی ہے اور اس کے علاوہ بھی بعض ادائیگیوں کے ضمن میں کٹوتی ہوتی ہے اب تک یہ نظام وفاق کے پاس ہے، جو مرکزی زکوٰۃ کونسل کے ذریعے وصول شدہ رقم کو صوبوں میں بھی تقسیم کرتا ہے۔ بعض اوقات اس تقسیم میں تاخیر ہو تو اثر صوبوں سے اضلاع تک اور زکوٰۃ کے مستحقین تک بھی ہوتا ہے۔یہ درست کہ 18ویں ترمیم کے تحت بہت سے شعبے وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونا ہیں اور امکانی طور پر زکوٰۃ کا محکمہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ یکطرفہ ممکن نہیں۔ بہتر عمل یہ ہوگا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں یہ مسئلہ رکھا جائے اور وہاں ایک اجتماعی اور اصولی فیصلہ ہو جائے تو پھر چاروں صوبوں کو یہ حقوق مل جائیں گے۔ جب تک یہ نہیں ہوتا اسے مسئلہ یا ایشو نہ بنایا جائے، خط لکھنا عیب نہیں تاہم یہ مشترکہ مفادات کونسل کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -