مذاکراتی عمل۔۔۔ چینی قیادت کا پاکستان اور بھارت کو صائب مشورہ

مذاکراتی عمل۔۔۔ چینی قیادت کا پاکستان اور بھارت کو صائب مشورہ

  

چین کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی بہتری اس میں ہے کہ وہ باہمی تعاون اور بات چیت کا عمل جاری رکھیں، پٹھان کوٹ کے واقعہ سے باہمی تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کے دو اہم اور ذمہ دار مُلک ہیں، علاقائی امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے دونوں ملکوں کے تعلقات کا بہتر ہونا ضروری ہے، چین نے پٹھان کوٹ حملے اور میڈیا کی الزام تراشیوں کی مذمت کی۔بھارتی میڈیا اور ایسے عناصر جو پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے مخالف ہیں مسلسل بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ اِن عناصر کی کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی جو ملاقات 14جنوری کو طے شدہ ہے وہ کسی نہ کسی طور پر ملتوی ہو جائے، لیکن باشعور حلقوں کا خیال ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کی معطلی سے خطے کے تمام مُلک مشکل میں پڑ جائیں گے، مذاکراتی عمل جاری رہنا پاکستان، بھارت اور افغانستان تینوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملے اور بعد میں افغانستان میں مزار شریف کے بھارتی قونصل خانے پر حملے سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ کچھ قوتیں ایسی ہیں جو پاک بھارت مجوزہ مذاکرات شروع نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ بھارتی میڈیا پاکستان پر جو الزام تراشی کر رہا ہے اس میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی،پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے اور کہا ہے کہ خطے میں دہشت گردی سے موثر انداز میں نپٹنے اور اس کے خاتمے کے لئے بھارتی حکومت کی فراہم کردہ معلومات پر کام ہو رہا ہے، پاکستانی حکومت اپنے وعدوں کے مطابق اس مسئلے پر مسلسل نئی دہلی سے رابطے میں ہے۔

بھارتی حکومت نے اس واقعہ کے بعد پاکستان پر براہِ راست تو کوئی الزام نہیں لگایا، بلکہ کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم اس حملے میں ملوث ہے، اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ بھارت مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں یا تو چند ملاقاتوں کے بعد ان میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی ہے یا پھر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ خارجہ سیکرٹریوں کے جو جامع مذاکرات اس سے پہلے ہو رہے تھے وہ بھارت نے اس بنیاد پر ملتوی کر دیئے تھے کہ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات کر لی تھی۔ پھر گزشتہ برس جولائی میں اوفا(روس) میں نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے سیکیورٹی ایڈوائزر نئی دہلی میں بات چیت کریں گے۔ اس وقت سرتاج عزیز سیکیورٹی ایڈوائزر تھے اور دہلی جانے والے تھے کہ بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ سشما سوراج نے اعلان کیا کہ کشمیر پر نہیں، دہشت گردی پر بات ہو گی، جبکہ سرتاج عزیز کا اصرار تھا کہ کشمیر کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جس پر یہ ملاقات بھی نہ ہو سکی، پھر پیرس میں نواز شریف اور مودی کی ملاقات کے بعد حالات نے پلٹا کھایا، بنکاک میں سیکیورٹی ایڈوائزروں کی طویل ملاقات ہوئی، بھارتی وزیر خارجہ نے اسلام آباد کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کی اور اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی اور خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات بحال کرنے کا اعلان کیا۔14جنوری کو ملاقات کی تاریخ مقرر ہے کہ پٹھان کوٹ کے واقعہ کے بعد ان کے انعقاد پر شکوک و شبہات کے سائے منڈلا رہے ہیں۔

چین دُنیا اور خطے کی بڑی طاقت ہے، اس کی مدبر قیادت نے اپنے مُلک کو درپیش مسائل سے بڑی حکمت عملی اور تدبر سے نکالا ہے، ہانگ کانگ اس کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح آ گرا،تائیوان چین کا حصہ ہے، لیکن چینی قیادت نے اِس مسئلے پر کوئی جنگ نہیں چھیڑی، بہتر وقت کا انتظار کرتا رہا اور اب دونوں حصوں کے عوام کی آمدو رفت ایک دوسرے مُلک میں شروع ہے۔ تاہم چین اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اِس معاملے کا حل چاہتا ہے۔ بھارت کے ساتھ بھی چین کا تنازع موجود ہے،لیکن معمول کے تعلقات کی راہ میں اِس تنازع کو حائل نہیں ہونے دیا جاتا۔چینی صدر نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھارت کا دورہ کیا، وہاں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کیا، پاکستان کے ساتھ تو چین کے تاریخی روابط ہیں اور دونوں کی دوستی مثالی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر چین46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، اِس لئے اگر چینی قیادت پاکستان اور بھارت کو کوئی مشورہ دیتی ہے تو اس میں حکمت و دانش ہوتی ہے۔ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور وہ پاکستان کی بہتری میں ہی خوش ہے اِس لئے اگر چین کا مشورہ یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت بات چیت کا عمل جاری رکھیں تو دونوں کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ تو مذاکرات کا حامی ہے اور یہ واضح کر چکا ہے کہ بھارت کے ساتھ اپنے ہر قسم کے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان مذاکرات میں کوئی نہ کوئی اڑچن آن پڑتی ہے،کبھی پارلیمینٹ کے باہر دھماکوں کے بعد بھارت پاکستان کی سرحدوں پر فوج جمع کر دیتا ہے اور ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیتا ہے اور کبھی ممبئی دہشت گردی کے بعد مذاکرات کی بساط لپیٹ دیتا ہے، اب اگر دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہونے والا تھا تو پٹھان کوٹ کا واقعہ ہو گیا، جن عناصر نے دہشت گردی کی یہ واردات کی ہے اگر اُن کا ہدف ’’براستہ پٹھان کوٹ‘‘ خارجہ سیکرٹریوں کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنا تھا اور اس کے نتیجے میں مذاکرات ایک دفعہ پھر ملتوی ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب تو یہی ہو گا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز نے یہ واردات جس مقصد کے لئے کی تھی اس میں وہ کامیاب ہو گئے،اس لئے سنجیدگی و دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے تاکہ دہشت گرد اپنے آپ کو کامیاب نہ سمجھیں۔

مزار شریف میں بھارتی قونصل خانے پر حملہ بھی اسی مقصد کے لئے کیا گیا ہے اور افغانستان کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ اس طرح ایک تیر سے دو شکار کئے جا سکتے ہیں۔ ایک تو پاک بھارت مذاکرات کو تار پیڈو کیا جا سکتا ہے اور دوسرے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بہتری کا جو عمل شروع ہے، اسے بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، افغان مسئلے پر چار فریقی کانفرنس بھی اسلام آباد میں15جنوری کو ہونے والی ہے،اس مقصد کے لئے دعوت نامے بھی جاری ہو چکے ہیں،اِس لئے جنگجوؤں نے بیک وقت دو محاذوں کو نشانہ بنایا ہے اب اگر پاکستان، بھارت اور افغانستان کی قیادتیں اس جال میں پھنس کر مذاکرات کو ملتوی کر دیتی ہیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ دہشت گرد جیت گئے اور مکالمہ ہار گیا، اِس لئے مذاکراتی عمل کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان کے دوست چین کا پاکستان کو بھی یہ مشورہ ہے اور بھارت کو بھی،اس مشورے میں پوشیدہ حکمت کو سمجھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

اداریہ -