قیمتوں میں کمی کے باوجود ایل پی جی کی مہنگے داموں فروخت

قیمتوں میں کمی کے باوجود ایل پی جی کی مہنگے داموں فروخت

  

لاہور( لیاقت کھرل) شہر میں ایل پی جی کی قیمتوں کے اثرات شہریوں تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں 10 روپے فی کلو کمی کی گئی ہے، جس میں ایل پی جی 100 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں اوگرا نے ڈی سی اوز کو قیمتوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا حکم دے رکھا ہے ، لیکن گزشتہ روز شہر میں ایل پی جی 100 روپے فی کلو کی بجائے 110 روپے فی کلو سے 115 روپے فی کلو میں فروخت کی گئی ہے جس پر صارفین سراپاء احتجاج بنے رہے ۔ رکشہ ڈرائیورز ٹیکسی اور پک اپ ڈرائیوروں سمیت گھریلو ور کمرشل صارفین سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اور ایل پی جی کی بلیک میں فروخت پر اوگرا اور ڈی سی او کی ٹیموں کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ لاہور کے جن علاقوں میں ایل پی جی کی لوٹ مار اور بلیک میں فروخت کا سلسلہ جاری رہا ہے ان علاقوں میں راوی روڈ، مزنگ ، سمن آباد، اچھرہ، گڑھی شاہو اور مغل پورہ کے علاقے شامل ہیں۔ ’’پاکستان سروے‘‘ میں رکشہ ڈرائیور نوشیر خان، اظہر علی، جمشید اقبال، نصرت محمود ، اسلم خاں اور شعیب ولی سمیت ایاز خاں، منیر حسین، دلبر علی نے کہا کہ حکومت نے ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی تو کر دی ہے لیکن تاحال اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اس ملک میں کوئی بھی چیز مہنگی ہو یا اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تو حکومتی نوٹیفیکیشن سے پہلے ہی دکاندار اضافہ کر دیتے ہیں جبکہ قیمتوں میں کمی ہو تو کئی کئی دن تک اس پر عمل نہیں ہوتا ۔ اس موقع پر گھریلو صارفین بھی ایل پی جی مہنگے داموں میں فروخت ہونے پر سراپاء احتجاج بنے رہے ۔ خواتین میں صغراں بی بی، مسز اسلم، شکیلہ انجم، امتیاز بی بی اور دیگر نے کہاکہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایک طرف گھروں میں گیس نہیں آ رہی تو دوسری طرف اگر ایل پی جی سستی کرہی دی ہے تو اس پر حکومت کو عملدرآمد کروانا چاہیے اور منافع خور اور بلیک میل فروخت کرنے والوں کیخلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں تاکہ کوئی بھی مصنوعی قلت ، منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ نہ کر سکے۔ دوسری جانب اوگرا کے سخت امکانات کے باوجود ڈی سی او کی ٹیم نے کارروائی نہیں کی ۔ اس حوالے سے ڈی سی او کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی مہنگے داموں اور بلیک میں فروخت کی اجازت نہیں اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -