2016ء : نئے اہداف، نئی امنگیں

2016ء : نئے اہداف، نئی امنگیں

  

2015ء گزر گیاجس میں پاکستان کی معاشی ، اقتصادی اور سیاسی صورت حال مستحکم رہی۔ ضربِ عضب کامیابی سے جاری ہے، نواز حکومت کے میگا پراجیکٹس پر پیش رفت، ادھر زرمبادلہ کے ذخائر21ارب ڈالر تک پہنچ گئے اور اس سب سے بڑھ کر دہشت گردی میں نمایاں کمی۔ 2015ء کو بلدیاتی انتخابات کا سال کہا جائے توشاید یہ بھی غلط نہ ہو۔ ہم تمام فوجی جوانوں، افسروں اور عام لوگوں کو‘ جنہوں نے اس جنگ میں قربانیاں دیں، سلام پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں کہ اِن کی کاوشوں سے ملک امن و سلامتی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اس میں ایک اہم کردار سانحہ اے پی ایس کے شہداء کا بھی ہے کہ ان کے خون نے قومی سیاسی و عسکری قیادت کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے نیا جوش و ولولہ دیا اور قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح اُن کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ 2015ء میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ضربِ عضب کو تیزتر کیا گیا۔ دہشت گردی میں ملوث افراد کو نشانِ عبرت بنایا گیا،انہیں پھانسیاں دی گئیں، جس سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی۔ امن وامان کی بہتر صورت حال کے ساتھ سیاسی طور پر بھی 2015ء مستحکم رہا۔ 2014ء میں دھرنا سیاست نے ملک کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایاتھا، جبکہ 2015ء میں کوئی قابلِ ذکر احتجاجی مظاہرہ نہیں ہوا۔

تاریخ میں پہلی مرتبہ دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ صوبوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا۔اب2016ء میں اہم چیلنج بلدیاتی اِداروں کو فعال بنانا اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگاجس سے جمہوری نظام مزید مضبوط اور پروان چڑھے گا۔خیبر پختونخوا میں ناظموں اور کونسلروں نے اختیارات نہ ملنے پر احتجاج شروع کردیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی نظام کی اصل روح کو سمجھتے ہوئے اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کرتی ہیں یا نہیں؟کراچی آپریشن کے حوالے سے بھی 2015ء کافی بہتر رہا، اگرچہ اب سندھ اور وفاق میں رینجرز اختیارات پر ٹھن گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی ڈاکٹر عاصم کو بچانے اور کرپشن کوچھپانا چاہتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت سندھ اسمبلی کی قرارداد کو مسترداوراپنے آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے رینجرز کو 2ماہ کے لئے پورے اختیارات کے ساتھ سندھ میں کام جاری رکھنے کا کہہ چکی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ 2016ء میں یہ تنازعہ کِس حد تک جاتا ہے اور اس بارے میں حکومتِ سندھ اور وفاق میں خلیج بڑھتی ہے یا کم ہوتی ہے؟ لیکن یہ اعتراف کئے بغیر چارہ نہیں کہ 2015ء میں کراچی آپریشن نہایت کامیاب رہا، عیدالفطر، عیدالاضحی اور 14اگست کو کراچی میں اربوں روپے کی ریکارڈ سیل ہوئی۔ عام لوگوں اور تاجروں نے سکھ کا سانس لیا کہ روشنیوں کا شہر دوبارہ روشنیوں کی طرف لوٹ رہا ہے۔

پاکستان کی یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ سی پیک(پاک چین اقتصادی راہداری) کے 46ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ چین کے صدر خود پاکستان تشریف لائے ۔ سی پیک اس خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ملک میں لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کثیر تعداد میں پاکستان آئے گا۔ 2015ء کے آخری دِنوں میں وزیراعظم نے سی پیک کے مغربی روٹ کا افتتاح کیا جس میں وہ رہنما بھی شریک ہوئے جو اس روٹ پر تنقید کر رہے تھے ۔ پھر یکم جنوری کو آرمی چیف نے گوادر کا دورہ کیا اورمقامی لوگوں سے ملے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج دونوں گوادر پورٹ اور سی پیک کو مکمل کرنے کے لئے بھرپور عزم رکھتے ہیں۔ اب اس پر کام زور شورسے جاری ہے۔ ایک سپیشل فورس بھی بنادی گئی ہے جو چینی ماہرین اور راہداری کی حفاظت کرے گی۔ اپنے گوادر کے دورے میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 2016ء دہشت گردی کاآخری سال ہوگا۔ جنرل راحیل شریف پُرعزم ہیں کہ اسی سال دہشت گردوں کو جڑ سے ختم کردیں گے۔ یقیناًجنرل راحیل شریف کے دور میں دہشت گردوں کے خلاف گھیر ا تنگ ہوا ہے۔ ملک سکون کی طرف بڑھتا جارہا ہے، جِس کا کریڈٹ دونوں’’شریفوں‘‘ کو جاتا ہے۔

2015ء میں بجلی کے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ۔ اس میں شک نہیں کہ 2015ء میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 4سے 6گھنٹے شہروں اور6سے 8گھنٹے دیہات میں رہی۔ حکومت نے جو منصوبے شروع کئے ہیں وہ 2017ء تک مکمل ہوں گے جس سے 12ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سٹیشن میںآئے گی۔ 2016ء میں یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کہ حکومت بجلی کی کمی پر مزیدکتناقابو پاتی ہے۔ آج کل گیس کی کمی نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے قطر سے ایل این جی اگر اسی سال آجاتی ہے تو شاید2016ء کی سردیوں میں اس کمی سے نجات مل جائے۔ نریندرمودی کا 2015ء کے آخری ہفتے پاکستان آنا نوازشریف کی کامیاب سفارتکاری ہے۔ ہماری پاک فوج امریکہ ، انڈیا اور افغانستان سے متعلق حکومت کی خارجہ پالیسی پر کڑی نظر رکھتی ہے۔ نوازحکومت کِس حد تک فوج کو اپنی پالیسیوں میں اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوتی ہے، ایک اہم بات ہے ۔ 2015ء میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں تعاون مثالی رہا۔ اُمید ہے کہ یہ 2016ء میں بھی قائم رہے گا۔

2016ء پاکستان کے لئے 2015ء سے بھی بہتر ثابت ہوگا۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ قوم کا غیر متزلزل عزم ہے ،جس نے اسے دہشت گردی کے خلاف متحد اور مضبوط بنا رکھا، ورنہ بعض عرب ممالک’’عرب سپرنگ‘‘کا دباؤ برداشت نہ کرسکے اور بہہ گئے، لیکن پاکستانی قوم عزم و استقامت سے کھڑی ہے۔ سالِ نو کا سورج پاکستان کے لئے نئی امنگیں لے کر آیا ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبے سے جہاں پورے ملک کو فائدہ ہوگا وہاں غیر ملکی سرمایہ دار اربوں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ حکومت اورنج لائن ، میٹرو، موٹرویزسمیت متعدد میگا پروجیکٹوں کے ساتھ ساتھ صحت ، تعلیم اور روزگار پر بھرپور توجہ شروع کررہی ہے۔ 2015ء میں آئی ڈی پیز گھروں کو نہ جاسکے، حکومت اب اس چیلنج کو بھی پورا کرے گی۔ 2016ء میں پولیس، جوڈیشل اور انتخابی اصلاحات کی بہت ضرورت ہے۔ حکومت کو اب مزید بہتر گورننس دِکھانا پڑے گی۔ خارجہ پالیسی کی طرف بھی مزید توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ سیاستدانوں کو کرپشن کے خلاف بھرپور اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔ عام آدمی کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر حل کرنا ہوگا۔ اللہ پاک کے حضور دُعا ہے کہ ملکِ عزیز کو امن و سکون کا گہوارہ بنادے ،پاکستان اور پاکستانی قوم کو ہر میدان اور ہرشعبہ میں ترقی عطا فرمائے۔۔۔آمین

مزید :

کالم -