ہتھکڑی!

ہتھکڑی!
 ہتھکڑی!

  

خواتین و حضرات! اپنے اسی روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں تین چار روز قبل ایک دلچسپ اور حیرت انگیز خبر چھپی ہے۔ خبر کے مطابق پولیس والوں کے پاس ہتھکڑیوں کی کمی ہو گئی ہے اور اب وہ ملزمان اور مجرمان کو رسیوں سے باندھ کر عدالت میں پیش کرتے ہیں۔ مناواں انویسٹی گیشن پولیس نے 27دسمبر کو ایسے ہی چند ملزمان کو ہتھکڑیاں نہ ہونے کے باعث رسی سے باندھ کر عدالتِ عالیہ کے روبرو پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس کے پاس اب ٹرانسپورٹ کی کمی بھی ہو گئی ہے۔ انہی ملزمان کو موٹرسائیکل رکشے میں بٹھا کر عدالت تک لایا گیا۔ ہمیں وہ وقت یاد آ گیا جب فیض احمد فیض کو ہتھکڑیوں کے ساتھ تانگے میں بٹھا کر علاج کی غرض سے جیل سے ہسپتال لایا گیا۔ شاید وہ اس وقت کے انتہائی ’’خطرناک‘‘ مجرم تھے۔ ہتھکڑی کے ساتھ فیض کو شہر میں گھمانے سے ان کی عزت میں کوئی کمی نہ آ سکی، بلکہ مشہور زمانہ نظم۔۔۔’’آج بازار میں پابجولاں چلو‘‘۔۔۔وجود میں آ گئی۔ یوں بھی وہ کچھ ایسا دور تھا جب پولیس کے پاس ہتھکڑیاں اور بیٹریاں وافر تعداد میں ہوا کرتی تھیں۔ حق سچ کی آواز لگانے اور انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کے لئے پولیس اہلکار وافر تعداد میں ہتھکڑیاں اور بیٹریاں لئے گشت پر رہتے تھے۔ اِدھر کسی نے حکومت کے خلاف زبان کھولی، اُدھر انہوں نے اپنی پوٹلی کھولی اور ہتھکڑی نکال کر پہنا دی اور اب یہ دور ہے کہ غضب خدا کا، باقاعدہ مجرموں کے لئے بھی ہتھکڑی دستیاب نہیں۔ ہتھکڑی کے بغیر کسی مجرم یا ملزم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بھلا رسی سے بندھا کوئی شخص کبھی قانون شکن شخص لگ سکتا ہے۔

ہماری فلموں کا ہیرو، بالخصوص پنجابی فلموں کا ہیرو ہتھکڑی کے بغیر ہیرو کہلا ہی نہیں سکتا۔ ہتھکڑی تو اس کا زیور ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی سیاستدان کے لئے جیل جانا، ہتھکڑی کے ساتھ تصویر بنوانا اور چھپوانا ایک اضافی سند، تجربے اور پختگی کی علامت تصور ہوتی ہے۔ ہاتھ میں ہتھکڑی ،ہاتھ بلند، ’’وی‘‘ کا نشان بنانا، پوسٹر چھپوانا، الیکشن جیتنے کے لئے بسا اوقات ضروری بھی ہو جاتا ہے۔ ہتھکڑی کے بغیر پنجابی فلم اور الیکشن کچھ پھیکا پھیکا اور سُونا سُونا لگتا ہے۔ پولیس ہتھکڑیوں کے لئے فلم سازوں سے رابطہ کر سکتی ہے۔ پولیس کے پاس ہتھکڑیوں کی کمی کی صورت میں اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ کل کلاں پولیس اخبارات میں ایسا اشتہار بھی دے جس میں ملزمان سے التماس اور درخواست کی گئی ہو کہ وہ کسی واردات کے وقت ہتھکڑی ہمراہ رکھیں، تاکہ ان کی گرفتاری کے وقت سہولت ہو سکے۔ مزید برآں ملزمان کوشش کریں کہ وہ مطلوبہ واردات اپنی ذاتی کار یا جیپ پر کریں اور یہ ٹرانسپورٹ اپنے پاس ہی رکھیں تاوقتیکہ پولیس پارٹی نہ پہنچ جائے،کیونکہ آج کل پولیس کے پاس ٹرانسپورٹ کی کمی بھی ہے ۔ محکمہ پولیس، ملزمان کے اس تعاون پر ان کا شکر گزار ہو گا۔

خواتین و حضرات !ہتھکڑی کاصرف جرم، جیل اورمجرموں سے ہی تعلق نہیں، بلکہ ہماری شاعری، ادب اور فلم میں بھی اسے خاص مقام حاصل ہے۔ محبوب کو اپنی محبت میں گرفتار کرنے کے لئے زلفوں کا استعمال بمعنی ہتھکڑی کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک مکمل پنجابی فلم ’’ہتھکڑی‘‘ کے نام سے بن چکی ہے۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے بھی ایک پنجابی نغمہ گایا ہے، جس میں ہتھکڑی اور بیٹری کا ذکر بہت خوبصورت انداز میں کیا گیا ہے:

پُھلاں دی ہتھکڑی بنانواں زلفاں دی میں بیٹری

پلکاں وچ لوکا کے تینوں صورت تکاں تیری!

مرزا غالب سے لے کر فیض احمد فیض، حبیب جالب ، استاد دامن اور ریاض شاہد تک کو ہتھکڑی لگ چکی ہے کہ انہوں نے اور ایسے کئی حق کے علم برداروں نے ظلم کے خلاف اعلان جنگ کیا:

ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، مَیں نہیں جانتا ،مَیں نہیں مانتا

مرمر کو صبا، ظلمت کو ضیاء بندے کو خدا کیا کہنا

خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھ عدد ملزمان کو رسیوں سے باندھ کر، موٹر سائیکل رکشہ کے ذریعے جب عدالت میں لایا گیا تو عدالتِ عالیہ کے جج صاحب نے اس بات کا نوٹس لیا اور اپنی برہمی کا اظہار کیا اور وضاحت چاہی۔ اس پر پولیس والوں کے پاس کوئی تسلی بخش جوابنہیں تھا۔ انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ پولیس کی گاڑی خراب ہونے کے باعث موٹرسائیکل رکشامیں لایا گیا اور ہتھکڑیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس کا استعمال کیا گیا۔ واضح ہو کہ موٹرسائیکل رکشا کا کرایہ بھی معصوم ملزمان نے ادا کیا۔۔۔ گویا پولیس کا خیال تھا کہ کوئی شخص کسی واردات کے بعد از خود تھانے یا عدالت کچے دھاگے سے بندھا چلا آئے گا۔ آپ نے یہ بھی سنا اور پڑھا ہوگا کہ مجرم ہتھکڑی سمیت عدالت یا پولیس کی تحویل سے فرار ہو گیا۔ ایسے تمام مجرموں کو پولیس کی جانب سے درخواست کرنا ہوگی کہ وہ فرار بخوشی ہوں، لیکن ہتھکڑی واپس کر جائیں، جس کے عوض ان کی سزا میں کمی کی جا سکتی ہے۔

ہمیں اندیشہ ہے کہ ہتھکڑیوں کی کمی کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھ نہ جائیں۔ کم از کم انہیں ہتھکڑی لگنے کا خوف تو نہیں رہے گا۔ جیسا کہ اکثر لوگ دھمکی دیتے ہیں کہ ’’میں تمہیں ہتھکڑی لگوا کر رہوں گا‘‘۔۔۔ اب شاید ہتھکڑی کی عدم موجودگی میں کہا جائے گا کہ ، میں تمہیں رسی ڈلوا کر رہوں گا۔ وہ مجرم ہی کیا جس نے ہتھکڑی نہ پہنی اور پولیس کی جیپ کا منہ نہ دیکھا۔ محبت میں گرفتار ہونے اور کسی جرم میں گرفتار ہونے میں فرق صرف ہتھکڑی کا ہوتا ہے۔ بقول مرزا غالب:

بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ

ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں

مزید :

کالم -