اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ، احسن اقبال

اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ، احسن اقبال

  

 اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی واصلاحات احسن اقبال نے کہاہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کو متنازعہ بنانے سے گریز کیا جائے ،یہ کسی ایک صوبے نہیں پورے خطے کا منصوبہ ہے ،اس سے3 ارب کی آبادی کو فائدہ ملے گا ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب د ینگے، یہ ریجنل پروگرام ہے کسی ایک صوبہ یا ملک کا نہیں ہے۔ میڈیا کے اندر قومی منصوبہ کو متنازعہ نہ بنایا جائے، اگر متنازعہ بنائیں گے،غیر ملکی سر مایہ کار سرمایہ کاری نہیں کریں گے، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں منصوبے سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں، 15سال بعد دوبارہ جی آئی ایس کا آغاز کر رہے ہیں،اس کی بدولت اقتصادی راہداری میں شامل منصوبوں کی پلاننگ، مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل میں فائدہ ملے گا ۔ وہ گزشتہ روز وزارت منصوبہ بندی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت منصوبوں کی پلاننگ ،مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کے حامل نظام جیوپاٹیل ٹیکنالوجی اور گلوبل انفارمیشن سسٹم(جی آئی ایس) سیل کاافتتاح کرنے کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے بتایا کہ 15سال کیلئے یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی لیکن حکومت ختم ہونے کے بعد منصوبہ ختم کیا گیاا ورہم 15سال بعد دوبارہ اس سسٹم کا آغاز کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی بدولت انفراسٹرکچر کو سائنسی بنیادوں پر تعمیر میں مدد ملے گی، ٹیکنالوجی چین پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں شامل منصوبوں کی پلاننگ، مانیٹرنگ اور بروقت تکمیل میں فائدہ دے گی، چین کے تھنک ٹینک کے سربراہ نے سوال کیا کہ ہم اتنا بڑا منصوبہ پاکستان لے کر جا رہے ہیں اور وہاں پر تنازعات کھڑے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ قومی اور شفاف منصوبہ ہے اور پاکستان کے تمام صوبوں کو اس کے ثمرات ملیں گے اور منصوبہ سے خطہ کے تین ارب لوگ فائدہ اٹھائیں گے، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں منصوبے سے فائدہ اٹھانے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے ایک تھنک ٹینک کے سربراہ نے سوال کیا کہ ہم پاکستان میں اتنا اہم منصوبہ لے کر جا رہے ہیں اور وہاں پر آپ تنازعات کھڑے کئے جا رہے ہبں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مشرقی روٹ پر جو ترقی ہو رہی ہے وہ مغربی روٹ پر نہیں کی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور، پشاور ، کراچی موٹروے کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کے ساتھ تعلق نہیں،46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری وفاقی حکومت کی صوابدید پر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اندر منصوبہ کی سڑک 2لین ہے اور خنجراب سے کاشغر تک ایک ہی سڑک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار انفراسٹرکچر ڈیویلپ کیا جائے گا۔

مزید :

علاقائی -