خود روزگار سکیم کی رقم میں اضافہ کریں

خود روزگار سکیم کی رقم میں اضافہ کریں

  

جب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف یہ اقرار کر رہے تھے کہ اس ملک کا غریب آدمی ایماندار اور محنتی ہے۔ اس ملک کا غریب آدمی ملک کی دولت نہیں لو ٹتا۔ وہ قرضہ واپس کرتا ہے۔ وہ جب یہ اعلان کر رہے تھے کہ ان کی خود روزگار سکیم کے تحت غریب لوگوں کو اپنے کاروبار کے لئے جو قر ضے د یے گئے تھے ان میں سے نناوے فیصد واپس لوٹائے گئے ہیں ۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کا امیر طبقہ جو خود کو اشرافیہ کہلاتا ہے ۔ نہ صرف بد عنوان ہے، بے ایمان ہے بلکہ قرضہ چور بھی ہے۔میں انتہا ئی سکون اور اطمینان محسوس کر رہا تھا۔ مجھے فخر ہونے لگا کہ اس ملک میں اکثر یت غریب لوگوں کی ہے۔ امیر کم ہیں۔ گنتی کے چند خاندان ہیں جو لوٹ مار کر رہے ہیں۔ اور اب حکمران چاہے خود بھی ان کی کلاس سے ہوں ۔ لیکن ان کرپٹ بدعنوان، قرضہ خوروں کا دفاع نہیں کر سکتے۔

تقریب تو بہت سادہ تھی مگر پر وقار تھی ۔ تاریخی بادشاہی مسجد کے صحن میں اخوت کے زیر اہتمام دس ہزار لوگوں کو بلا سود چھوٹے قرضہ د یے جارہے تھے۔ اخوت کے روح رواں ڈاکٹر امجد ثاقب نے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ انہوں نے بتا یا کہ سو سے زائد ایسے کاروبار ہیں جو ان چھوٹے قرضوں سے شروع کئے جا سکتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کون سے وہ کہنے لگے پنکچر کی دکان۔ درزی کی دکان۔ چائے کا ہوٹل۔ سبزی کی ریڑھی، پھل کی ریڑھی ،سمیت سو سے زائد کاروبار ہیں۔ جو اخوت سے چھوٹا قرضہ لیکر کئے جا سکتے ہیں۔ وہ جب بتا رہے تھے کہ ان چھوٹے قرضوں کے لئے کسی بھی غریب آدمی سے کوئی گارنٹی نہیں لی جاتی۔ وہ خود ہی اپنا ضامن ہے۔ کوئی گارنٹی نہ ہونے کے باوجود ان قرضوں کی واپسی کی شرح نناوے فیصد سے زیادہ ہے۔ لوگ قرضہ لیتے ہیں اور پھر برو قت اس کو واپس بھی کرتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے محمد یونس کو بنگلہ دیش میں اسی طرح غریب لوگوں کو چھوٹے قرضے دینے پر نوبل پرائز بھی دیا گیا۔ اس طرح بلا شبہ یہ ایک نیک کام ہے۔ اگر ڈاکٹر امجد ثاقب پاکستان میں یہ کام کر رہے ہیں۔ وہ بھی ہمارے لئے ایک ہیرو ہیں۔ کیا ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت ملک میں غربت کی شرح میں کوئی بہت بڑی کمی کر سکے گی؟ شاید ایسا نہیں۔ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ان کے کام نے کم ازکم یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک کا غریب آدمی محنتی ایماندار ہے۔ یہ درست ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ خود روزگار سکیم کو اخوت کے تعاون سے چلانے کا فیصلہ کر کے کم از کم اس بات کو تو یقینی بنا دیا ہے کہ یہ رقم غریبوں تک پہنچ جائے۔ورنہ اگر وہ یہ کام کسی سرکاری ادارے کو دے دیتے تو نہ صرف رقم ہڑپ ہو جاتی بلکہ یہ الزام بھی لگ جا تا کہ غریب تو ہیں بد عنوان۔ ان کو جتنا بھی دے دو ۔ ان کا پیٹ ہی نہیں بھرتا۔ لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت نے کم ازکم اس ملک کے غریب کی عزت رکھ لی ہے۔ جس پر کم از کم اس ملک کے غریبوں کو انہیں خراج تحسین پیش کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت کی ایک خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ یہ مسجد میں بیٹھ کر قرضہ دیتا ہے۔ اور جو غریب مسجد میں بیٹھ کر قرضہ لیتا ہے وہ مسجد کے ساتھ اپنی مذہبی عقیدت کی وجہ سے ہی اسے واپس کر دیتا ہے۔ اسی لئے گزشتہ روز بھی دس ہزار لوگوں کو قرضہ دینے کی تقریب کا انعقاد بھی لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد میں کیاگیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے تقریب میں خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اخوت کے ساتھ چلنے والی اس خود روزگار سکیم سے اب تک آٹھ لاکھ لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں آٹھ لاکھ کی تعداد بہت کم ہے۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ پنجاب میں غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی غربت ختم کرنے کا واحد طریقہ وزیر اعلیٰ خود روزگار سکیم ہی ہے ۔ تو اس سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد کو ہنگامی طور پر بڑھانا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے خود روزگار سکیم کی رقم کو بڑھا نا ہو گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب ٹھیک کہ رہے تھے اس ملک کے اشرافیہ نے ملک کو لوٹا ہے۔ قرضے ہڑپ کئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت کہ ایک امیر و اشرافیہ کو دیا جانیوالا ایک قرضہ جب غریبوں میں تقسیم کیاجاتا ہے تو سینکڑوں نہیں ہزاروں غریب لوگوں کی زندگی میں انقلاب لا یا جا سکتا ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے یہی درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ فوری طور پر خود روزگار سکیم کی رقم دس ارب تک بڑھائیں۔کیونکہ پنجاب کی آبادی اب دس کروڑ سے کم نہیں بتائی جاتی۔ اگر اس دس کروڑ میں سے آدھی غربت کی شرح سے نیچے ہے تو کم از کم پانچ تو بہت غریب لوگ پنجاب میں ہیں۔ اس لئے یہ سمجھنا ہو گا کہ ا س پروگرا م کو پانچ کروڑ لوگوں تک ہنگامی طور پر پہنچا نا ہے۔ اس لئے اس پروگرام کی رقم کو کئی گنا بڑھانا ہو گا ۔ صر ف اسی طرح ہم اپنے ملک کے غریب کے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔ جب یہ طے ہو گیا ہے کہ غریب رقم لوٹا دیتا ہے تو یہ کسی بھی طرح گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ بس اس ملک کے غریبوں پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ملک و قوم اور معاشرہ سمیت سب کو فائدہ ہو گا۔

مزید :

کالم -