جنوبی کشمیر کے پلوامہ قصبے میں جامع مسجد کے امام سمیت 25افراد گرفتار

جنوبی کشمیر کے پلوامہ قصبے میں جامع مسجد کے امام سمیت 25افراد گرفتار

  

سری نگر(کے پی آئی) جنوبی کشمیر کے پلوامہ قصبے میں جامع مسجد کے امام سمیت 25افراد کی گرفتاری کے خلاف منگل کو ہڑتال رہی پولیس نے جامع مسجد کے امام و خطیب سمیت اب تک 25افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔ تاہم کئی گھنٹوں کی حراست کے بعد امام و خطیب کو رہا کردیا گیا۔ اس دوران پلوامہ ٹریڈرز اور ضلع پولیس کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔قصبے میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جس کے نتیجے میں یہاں ہو کا عالم تھا۔ اگر قصبے میں عمومی طور پر صورتحال پر امن رہی البتہ پرچھو اور نیوکالونی کے نزدیک نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے گاڑیوں پر پتھرا کیا۔پولیس کی بر وقت کارروائی کے بعد مشتعل نوجوان بھاگ گئے۔ادھرسانبورہ اور کاکا پورہ میں پیر کے روز دکانیں اور کاروباری ادارے کھل گئے ۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس و فورسز نے دوران شب ژاٹہ پورہ مرکزی جامع مسجد کے امام وخطیب عبدالرحمان شاہین سمیت کئی مزید افراد کو گرفتار کیا۔ قصبہ پلوامہ سے 12نوجوانوں کو سنگ بازی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔اسکے علاوہ گوسو سے پانچ اور کاکا پورہ سے 9گرفتار کئے گئے۔دریں اثناپلوامہ ٹریڈرزفیڈریشن اور دیگر سرگردہ افراد پر مشتمل وفد نے ایس ایس پی پلوامہ تیجندر سنگھ کے ساتھ ملاقات کی۔ملاقات کے دوران پولیس حکام سے کہا گیا کہ فوری طور پر قصبے سے فورسز کو ہٹایا جائے۔ وفد نے پولیس حکام سے کہا کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو بھی رہا کیا جائے تاکہ قصبے میں حالات معمول پر آسکے۔میٹنگ میں شہید پارک پر جاں بحق افراد کے ناموں سے منسوب ڈیجٹل سائن بورڈ نصب کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث لایا گیا ۔پلوامہ ٹریڈرز ایسو سی ایشن کے صدر بشیر احمد وانی نے میٹنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس حکام نے انہیں یہ یقین دہانی کرائی کہ گرفتار کئے گئے نوجوانوں کو رہا کیا جائے گا ۔ البتہ پولیس نے شہید پارک کے نزدیک ڈیجٹل سائن بورڈ نصب کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مزید :

عالمی منظر -