پنجاب حکومت کاقائم کردہ قرآن بور ڈ اغراض ومقاصد حاصل کرنے میں ناکام

پنجاب حکومت کاقائم کردہ قرآن بور ڈ اغراض ومقاصد حاصل کرنے میں ناکام

  

لاہور(محمد نواز سنگرا)پنجاب حکومت کی طرف سے بنایا جانیوالا قرآن بور ڈ اغراض ومقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔2004میں قیام عمل میں لائے جانے والے قرآن بورڈ کا مقصد غلطیوں سے پاک قرآن کا مثالی نسخہ سامنے لانا تھا۔قرآن بورڈ شہید ہونے والے قرآن پاک اور اوراق کو بھی محفوظ بنانے کیلئے محض چند شہروں کے علاوہ قرآن محل بھی تعمیر نہ کر سکا۔نگران کمیٹی ،قرآنی اوراق کو اکٹھا کرنے والی ،عوام کو آگاہی دینے والی اور سٹینڈر ڈ کاپی فراہم کرنے والی کمیٹیاں بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب نظر نہیں آرہیں ۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے دور میں قرآن بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کا مقصد قرآنی اوراق کو اکٹھا کرنا،شہید قرآن مجید کو محفوظ بنانا، قران پاک کو غلطیوں سے پاک بنانا ،عوام کو آگاہی دینا،مثالی نسخہ تیار کروانا اور دیگر شامل ہیں ،قرآن بورڈ کے قیام کو15سال گزرگئے ہیں لیکن بورڈ مذکورہ اغراض مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔مقدس اوراق کو محفوظ بنانے کیلئے کوئی انتظام کیا گیا نہ ہی مذکورہ بورڈ اغلاط سے پاک قرآن کی اشاعت کو یقینی بنا سکا۔نہ عوام میں آگاہی و شعور پیدا کیا جا سکااور نہ ہی مثالی نسخہ تیار کیا جا سکا اور قرآن بورڈ محض اغلاط کی نشاندہی تک محدود ہو گیا ہے جبکہ غلطیوں پر مبنی قرآن پاک چھاپنے والے پبلشرز کو سزا بھی نہیں دی جا سکی۔قرآن پاک کو محفوظ بنانے کیلئے لاہور،گوجرانوالہ،سرگودھا،فیصل آباد سمیت محض چند شہروں میں اکا دکا قرآن محل تعمیر کیے گئے ہیں جہاں پر شہید قرآنی نسخہ جات کو محفوظ بنایا جاتا ہے،جبکہ صوبہ کے30سے زائداضلاع میں تاحال قرآن پاک کو محفوظ کرنے کے انتظامات نہیں کیے جا سکے۔قرآن پاک کے اوراق کی ری سائیکلنگ کیلئے ’’الف ل م‘‘ کے نام سے فیصل آباد میں ایک فیکٹری موجود ہے جو شہید اوراق کی ری سائیکلنگ کرتی ہے جبکہ ری سائیکلنگ کے دوران استعمال ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے پر بھی تاحا ل سوالیہ نشان ہے۔ سٹینڈرڈ کے مطابق سیاہی اور کاغذ کے استعمال کو بھی یقینی نہیں بنایا جا سکا۔قران بورڈ کے45سے زائد ارکان ہیں جس کے چئیرمین علامہ غلام محمد سیالوی ہیں جبکہ ممبران میں 10دیوبندی علماء،10سنی علماء5شیعہ علماء،5اہلحدیث علماء،سپیشل برانچ اور پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی لیول کے افسران شامل ہیں ۔اس حوالے سے جب چئیرمین قرآن بورڈ علامہ غلام محمد سیالوی سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ قرآن پاک کے شہید اوراق کو محفوظ بنانے،اغلاط کے پاک قرآن پاک ،عوام کو آگاہی اور سٹینڈر ڈ کاپی کے حوالے سے کمیٹیاں کام کی گئی ہیں جو ذمہ داری سے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور جہاں بھی کوئی غلطی یا کمی کوتاہی سامنے آتی ہے تو اس کو دور کیا جاتا ہے ۔1973کے آئین کے مطابق محض انجمن حمایت اسلام کی طرف سے چھاپے جانیوالے قرآن پاک کودرست قرار دیا گیا تھا۔متعدد شہروں میں قرآن محل تعمیر کیے ہیں اور مثالی نسخہ سے مراد اغلاط سے پاک قرآن پاک کی چھپائی ہے نیا قرآن تعمیر کرنا نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام امور کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور جہاں بھی کمی کوتاہی ہے اس کی نشاندہی کی جاتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -