گیس کا بحران سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے پیدا کیا، انجینئرز کی رپورٹ میں انکشاف

گیس کا بحران سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے پیدا کیا، انجینئرز کی رپورٹ میں ...

  

لاہور( لیاقت کھرل) وزیر اعظم کے حکم پر وزارت پٹرولیم کی نگرانی میں مختلف محکموں کے حاضر و ریٹار انجینئروں پر مشتمل ایک ٹیم نے رپورٹ تیار کی ہے کہ گیس بحران خود سیاست دانوں اور بیوروکریسی کاپیدا کردہ ہے۔ نئے ذخائر کی تلاش میں مبینہ طور پر فرائض سے چشم پوشی سے کام لیا گیا۔ گیس ذخائر جو کہ آج سے دس سال قبل 2400 سے 2600 ملین کیوبک فٹ تھے اور اس کے مقابلہ میں کھپت ڈیمانڈ 1500 ملین کیوبک فٹ سے بھی کم تھی، گیس ذخائر انتہائی زیادہ اور وافر تھے ۔ اس میں مشرف دور میں سیاسی طور پر ذخائر کا غلط استعمال کیاگیا۔ سی این جی سیکٹر سمیت گیس کی کھپت بڑھانے کے منصوب شروع کئے گئے جس سے گیس چوری اور گیس کے لائن لاسز بڑھ گئے ، گیس کمپنی کو جہاں ذخائر کی کمی کا سامنا کرنا پڑا وہاں ہر سال گیس چوری اور لائن لاسز کی شکل میں اربوں روپے برداشت کرنا پڑے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں اوگرا جیسی اتھارٹی بھی ناکام رہی۔ اس سے گیس کمپنی جس کا کام گیس ذخائر خرید کر صارفین کو فروخت کرنا ہے۔ گیس فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدنی کے مقابلہ میں لاسز اور نقصانات بڑھنے پر گیس کمپنی کی مالی حالت بھی ہر سال کمزور ہوتی چلی گئی۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیاگیا ہے کہ گیس حکام نے اپنی سیٹوں کو بچانے کے لئے خاموشی سے کام لیا بلکہ سب اچھے کی رپورٹ میں ہاں ملائی اور ڈیما نڈ کے مقابلہ میں گیس ذخائر میں اضافہ کرنے کیلئے کوئی پلان تک تیار نہیں کیا گیا جبکہ اس کے مقابلہ میں جہاں گیس کے کنوؤں سے ہر سال ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے وہاں گیس حکام نے اپنی نوکریوں کو ’’پکا ‘‘ کرنے کے لئے حکمرانوں کو ہر سال ساڑھے تین لاکھ سے پونے چار لاکھ نئے گیس کنکشن کی فراہمی کامعائدہ کر رکھا ہے، جس سے گیس کے ذخائر میں ہر سال 100 سے 120 ملین کیوبک فٹ کمی واقع ہوئی ہے۔ گیس کے ذخائر جو کہ قادر گیس فیلڈ، سوئی گیس فیلڈ جیسے چھوٹے اور بڑے 28 سے زائد سورس (کنوؤں) سے برآمد ہوتے ہیں۔ اس میں ایسے گیس فیلڈز بھی ہیں جو کہ 30 سے 35 سال سے گیس پیدا کر رہے ہیں اور ان کنوؤں کی عمریں پوری ہو چکی ہیں ۔ قدرتی طور پر ان کنوؤں کی کپیسٹی ( طاقت) ختم ہو چکی ہے اور ان کنوؤں سے ہر سال 10 سے 15 فیصد ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ان سورس سے گیس کے ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ بتائی گئی ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکمرانوں سمیت سابق حکومتوں نے نئے ذخائر تلاش کرنے کی بجائے بیرونی ممالک سے گیس کے معائدے کرنے کو ترجیح دی ہے اور معائدے محض فائلوں کی نذر رہے ہیں اور ادھر گیس ذخائر کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے پر بھی گیس ذخائر کم سے کم ہوتے گئے ہیں، جس کے باعث گیس بحران نے سر اٹھایا ہے۔ اس میں جہاں گیس ذخائر میں ہر سال کمی واقع ہو ہی ہے اور گیس ذخائر گر رہے ہیں وہاں ذخائر کی منصفانہ تقسیم نہ ہونے سمیت نئے کنکشن کی فراہمی نے گیس بحران کی وجوہات میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اس سے گیس کی ڈیمانڈ ( کھپت) بڑھی ہے اور اس کے مقابلہ میں ہر سال میں ذخائر 20 سے 25 فیصد گرے ہیں۔ گیس ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی ڈیمانڈ میں ہر سال 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے بلکہ لاسز چار سالو میں 70 سے 80 فیصد ڈیمانڈ بڑھی ہے اور اس کے مقابلہ میں گیس بحران سے نمٹنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ ماہر انجینئروں کا کہنا ہے کہ گیس کے موجودہ ذخائر کے استعمال میں سیاسی ہاتھ کو نہ روکا گیا تو گیس کے موجودہ ذخائر اگلے چار سے پانچ سال تک ہی کارآمد ہو سکیں گے۔ گیس ماہرین نے اس میں گیس کے نئے منصوبے، نئے ذخائر کی تلاش اور پیداواری کو بڑھانے پر زور دیا ہے اور گیس ذخائر میں بہتری آنے تک گیس کے نئے کنکشنوں پر پابندی عائد کرنے کی بھی تجویز دی ہے ۔ اس حوالے سے گیس کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس ذخائر میں بہتر ی اور نئے ذخائر کی تلاش کے لئے مخلف سیکٹرز کام کر رہے ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -