اقتصادی راہداری منصوبہ، وفاق تمام صوبوں کو یکساں مراعات دے: سراج الحق

اقتصادی راہداری منصوبہ، وفاق تمام صوبوں کو یکساں مراعات دے: سراج الحق

  

اسلام آباد (صباح نیوز) سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے حوالے حکومت طے شدہ معاملات سے ہٹ رہی ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے جو وعدے اور یقین دہانیاں کرائی تھیں، وہ اب ان کی پاسداری نہیں کررہی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف کسی ایک صوبے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیر اعظم بنیں، اقتصادی راہداری کا فائدہ کسی ایک صوبے کو دینا اور دیگر صوبوں کو اس سے محروم رکھنا افسوس ناک بات ہے۔ اس سے صوبوں کے اندر عدم اعتماد اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوگا۔ وفاق کو چاہیے کہ وہ تمام صوبوں کو یکساں مراعات دے۔سپیکر خیبرپختونخواا سمبلی اسد قیصر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے گزشتہ روز اسلام آباد میں امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی اور اُنہیں چائنہ ، پاکستان اکنامک کوریڈور کے مغربی روٹ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پرسینیٹر سراج الحق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے بلوچستان میں اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے نام پر جس حصے کا افتتاح کیا تھا، بعد میں پتہ چلا کہ وہ این ایچ اے کا ہی کوئی پرانا منصوبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اکنامک کوریڈور پورے پاکستان کا منصوبہ ہے جو کاشغر سے لیکر گوادر تک کے علاقے پر محیط ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگر چھوٹے صوبوں کو بھی اس سے استفادے کی سہولت فراہم کرے ،ا ور اس حوالے سے حکومت نے جو پے درپے اعلانات کیے ہیں، اور تمام جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر جو یقین دہانیاں کرائی تھیں، انہیں پورا کیا جائے اور چھوٹے صوبوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور واضح طور پر چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے مغربی روٹ کا نقشہ سامنے لایا جائے تاکہ چھوٹے صوبے اس حوالے سے مطمئن ہوسکیں۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس لیے اس حوالے سے جو کچھ بھی طے کیا جائے، وہ شفاف انداز میں ہو۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ چونکہ اکنامک کوریڈور پورے ملک پر محیط ایک قومی منصوبہ ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے کاشغر تا گوادر تک جانے والے اس روٹ سے پنجاب کی طرح دیگر صوبوں کو مستفید ہونے کا موقع فراہم کریں اور دیگر صوبوں سے صرف سڑک نہ گزاری جائے بلکہ پوری اقتصادی راہداری، جس میں صنعتی زونز، بجلی کے پیداواری منصوبے، تجارتی مراکز وغیرہ بھی وہاں تعمیر کیے جائیں، تاکہ چھوٹے صوبوں کا احساسِ محرومی ختم ہو اور انہیں بھی اس منصوبے سے مستفید ہونے کا پورا پورا موقع میسر آسکے۔

مزید :

صفحہ آخر -