بھائی کا قاتل پولیس تفتیش میں گناہ گار قرار، تختہ دار پر کب لٹکے گا، مدعی کا سوال

بھائی کا قاتل پولیس تفتیش میں گناہ گار قرار، تختہ دار پر کب لٹکے گا، مدعی کا ...

  

لاہور(کامران مغل )لڑکی کے تنازع پر میرے چھوٹے بھائی ٹرانسپورٹر کو پہلے اغواء کیا گیا اوربعد میں اسے گلے میں پھندا ڈال کر قتل کرنے کے بعد سفاک ملزم نے نعش بوری میں بندکرکے کھیتوں میں پھینک دی ۔بھائی کے قتل کا مقدمہ درج ہوئے بھی آج ساڑھے 8سال سے زائد کاعرصہ گزر چکا ہے ،تاریخوں کے سوا عدالتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے ، کیا عمر بھر انصاف کی خاطر مجھے عدالتوں میں دھکے ہی کھانا پڑیں گے ؟پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران کاہنہ پنڈ کے رہائشی مقبول حسین نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے حاجی شریف گڈز ٹرانسپورٹ کے نام سے دفتر بنا رکھا تھا ۔8نومبر2007ء کو اس کا چھوٹا بھائی غلام رسول جب گھر نہیں پہنچا تو اڈے کے منشی آفتاب سے میری بات ہوئی جس نے بتایا کہ غلام رسول تو رات7بجے سے یہاں سے چلاگیا تھا جس پر گھر والوں کو تشویش لاحق ہوئی کہ وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچا ہے ،بعدازاں مقامی مسجد کے امام زبیر کو مدرسے کے کچھ طلباء نے بتایا کہ کھیتوں میں ایک نعش پڑی ہے جس پر پولیس کو اطلاع دی گئی اور ہم بھی موقع پر پہنچ گئے ،مذکورہ نعش میرے بھائی غلام رسول کی تھی جسے گلے میں پھندا ڈال کرقتل کرنے کے بعد اس کی نعش کو بوری میں بند کرکے کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا۔بعدازاں پولیس نے میری مدعیت میں ایک عبدالستار نامی ملزم جس سے ہمار الین دین کاتنازع چل رہا تھا اس کے خلاف شبہ میں قتل کامقدمہ نمبر 1303/07 بجرم302/365درج کرلیاجس کے بعد دوران تفتیش پولیس نے ایک اور ملزم عمر کو حراست میں لیا جس نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے غلام رسول کو ایک ساجدہ نامی لڑکی کے تنازع پر قتل کیا ہے کیوں کہ ساجدہ اس کی دوست تھی جبکہ مقتول غلام رسول نے بھی اس کے ساتھ مبینہ طور پر تعلقات استوار کررکھے تھے جس پر اسے متعدد بار اس نے منع کیا لیکن وہ باز نہ آیا اور اسی وجہ سے اس نے غلام رسول کو قتل کیا ہے ۔بعدازاں 13جنوری2008ء کو مذکورہ مقدمہ کی تفتیش تبدیل ہوکر اس وقت کے ایس پی سرفراز فلکی کو سونپی گئی تاہم انہوں نے بھی اپنی تفتیش میں مذکورہ ملزم کو گنہگار قرار دیا اور تفتیش 4اپریل2008ء کو واپس بجھوا دی تھی ۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اس کے بھائی کو ناحق قتل کیا گیا ہے ،ساڑھے 8سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور وہ انصاف کے لئے عدالتوں کے چکر لگاٍٍرہا ہے لیکن اس کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ،عدالتوں میں آئے روز پیشیاں بھگت کر اب وہ تھک چکا ہے ،خدارا مقدمہ کا فیصلہ کیا جائے اور اس کے بھائی کے قاتل کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے ۔مذکورہ مقدمہ میں مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے ،اب یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج نادیہ اکرام چیمہ کی عدالت میں زیرسماعت ہے جہاں اس کیس کی باقاعدگی سے سماعت جاری ہے ، وکلاء کا مزید کہنا تھا کہاس کیس میں عدالت 5بار تفتیشی کو طلب کرچکی ہے لیکن وہ حاضر نہیں ہورہا ہے جس کے باعث مقدمہ التواء کا شکار ہے ،اب فاضل جج نے دوبارہ تفتیشی کو طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیں ۔وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکار وں نے عدالتی احکامات نہ ماننا وتیرہ بنا رکھا ہے اور یہ ہی مقدمات کے التواء کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -