خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے فیز ٹو میں بے ظابطگیوں کی نشاندہی

خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے فیز ٹو میں بے ظابطگیوں کی نشاندہی

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) سال 2016اپنے آغاز سے ہی سی اینڈڈبلیو کے لئے مشکلات کا باعث بننے لگا۔ایک طرف روڈ ریسرچ لیبارٹری نے خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے فیز ٹو میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کردی ہے۔ تو دوسری طرف محکمے نے لاہور اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں کے ایگزیکٹو انجنئیروں کو منصوبے میں سست روی پر نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ یہ سلسلہ یہی ختم نہ ہوا بلکہ گجرات اور منڈی بہاؤالدین کے انجنئیروں سمیت دیگر کے خلاف اینٹی کرپشن اور محکمانہ انکوائریوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیاہے۔ساہیوال میں 30کروڑ کے ٹینڈر میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی موضوع بحث بن گیا ہے۔سال 2016کا آغاز ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں نئے سال کی ابتدا ایک نئے عزم ، نیک خواہشات اور دعاؤں کے ساتھ کی گئی ہے۔یہ سال کیسا رہیگا۔اس بات کا علم تو سال گزرنے پر ہی ہوگا۔ لیکن بعض ادارے ایسے بھی ہیں۔ جن کونئے سال کے آغاز پر ہی ناپسندیدہ ایشوز کا سامنا ہے۔ ایسے ہی اداروں میں صوبائی محکمہ مواصلات وتعمیرات ہے۔جو سال نو کی ابتدا سے ہی خبروں میں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام فیز ون کے بعد صوبائی حکومت نے خادم پنجاب دیہی روڈز فیز ٹو کی تعمیر و تکمیل کا منصوبے بھی سی اینڈڈبلیو پنجاب کے حوالے کیا ہے۔ اور محکمے نے منصوبے کے پارٹ اے کی تعمیر شروع کررکھی ہے۔لیکن علم میں آیا ہے کہ روڈ ریسرچ لیبارٹری کی طرف سے فیز ٹو پارٹ اے کی تعمیر کے حوالے سے ابتدا سے ہی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ۔اور کوآلٹی کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔اسی منصوبے کی تکمیل میں سست روی اختیار کرنے پر لاہور ، راولپنڈی اور سیالکوٹ سمیت صوبے کے دیگر شہروں کے ہائی ویز کے ایگزیکٹو انجنئیروں کو تحریری نوٹس بھی جاری کئے گئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام میں سٹرک کی ناقص تعمیر پر منڈی بہاؤالدین کے ڈی سی او نے پارلیمنٹ کے مقامی نمائندوں کی شکایت ہائی ویز کے متعلقہ ایکسئین کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔ اسی طرح ڈی سی او گجرات نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کو دو الگ الگ خط لکھے ہیں۔ جن میں بیان کیا گیا ہے کہ گجرات میں نین وال تا میانوال بذریعہ پانڈووال اور ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے متصل کاکووال پل تا بھکی پل سٹرک کے منصبوں میں ناصرف ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا ہے۔ بلکہ سٹرک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔لہذادونوں منصوبوں میں متعلقہ ایگزیکٹو انجنئیروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے۔حال ہی میں ساہیوال میں عارف والا تا بہاولنگر روڈ کی تعمیر کے منصوبے کا ٹینڈر الاٹ کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ یہ ٹینڈر پول ہوا ہے ۔30کروڑ روپے کے تخمینے کا یہ منصوبہ محض 6ٹھیکیداروں کے مابین مقابلے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔اورچاراعشاریہ نو فیصد کم ریٹس پر دیدیا گیا ہے۔اس قدر کم ریٹس پر ٹینڈ ر حاصل کرنے پر ایکسئین ہائی ویز ساہیوال نے ٹھیکیدار سے اضافی بینک گارنٹی طلب کرتے ہوئے ،ٹینڈر بذریعہ سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ،چیف انجنئیر ہائی ویز نارتھ سرفراز بٹ کو بھجوایا تو چیف انجنئیر نے ایکسین ہائی ویز ساہیوال میاں یونس کے اضافی پرفارمنس سیکیورٹی طلب کرنے کے نوٹ کو مسترد کرتے ہوئے ٹینڈر اس اعتراض کے ساتھ واپس بھیج دیا کہ چونکہ ٹینڈر پانچ فیصد یا اس سے بھی کم ریٹوں پر نہیں دیا گیا۔ اس لیے اضافی پرفارمنس سکیورٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ایگزیکٹو انجنئیر میاں یونس کا کہنا ہے ۔چار سے پانچ فیصد کم ریٹوں کے مابین ٹینڈر الاٹ کئے جانے پر ماضی میں اضافی پرفارمنس سیکیورٹی لی جاتی رہے ۔ لیکن چونکہ چیف انجنئیر نے مسترد کردیا ہے۔ اس لئے اب ٹھیکیدار سے اضافی سکیورٹی نہیں لی جائیگی۔انہو ں نے مزید کہا کہ ٹینڈر پول نہیں ہوا۔سپرنٹنڈنٹ انجنئیر ہائی ویز سرکل ساہیوال ملک انور کا کہناتھا کہ ٹینڈر پول نہیں ہوا۔اور ایکسئین نے جو نوٹ لکھا تھا اور اعتراض اٹھایا تھا۔ وہ غلط ہے۔پانچ فیصد یا اس سے کم ریٹوں پر اضافی سکیورٹی طلب کی جاسکتی تھی۔ لیکن دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایگزیکٹو انجنئیر ساہیوال میاں یونس کی طرف سے اضافی سکیورٹی طلب کئے جانے کے لیٹر کی ایس ای ملک انور نے ہی توثیق کی تھی۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے چیف انجنئیر ہائی ویز نارتھ پنجاب سرفراز بٹ کا کہنا تھا کہ ٹینڈر پول نہیں ہوا۔اور پانچ فیصد یا اس سے کم ریٹ پر الاٹ کئے جانے کی صورت ہی ٹھیکیدار سے اضافی پرفارمنس سکیورٹی طلب کی جاسکتی تھی۔

مزید :

صفحہ آخر -