ظفر وال، اربوں کی 200ایکڑ اراضی فراڈ کر کے منتقل کرانے کے سکینڈل کا انکشاف

ظفر وال، اربوں کی 200ایکڑ اراضی فراڈ کر کے منتقل کرانے کے سکینڈل کا انکشاف

  

لاہور(اپنے نمائندے سے )ناروال کی تحصیل ظفروال میں اربوں روپے مالیت کی کم و بیش 200ایکٹراراضی مبینہ طورپر فراڈ کرکے منتقل کرانے کے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے بااثرافراد نے قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے شاملاٹ کی قیمتی اراضی بھی فروخت کردی تاہم اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سینئر ممبربورڈ آف ریونیو نے ڈی سی او نارروال کو تحقیقات کا حکم دے دیا اور 6ہفتوں کے اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ ارسال کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔بتایا گیا کہ محمد اکرم خان کی نشاندہی پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے اس معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں اورسینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ثاقب عزیز نے درخواست گزار اورتحصیل ظفروال کے تحصیلدار رفیق گل اورحلقہ پٹواری ٹپیالہ محمد علی کوسماعت کے لئے طلب کیاتو اس دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ جمع بندی 1967,68میں کھیوٹ نمبر 34\120میں اصل زمین 31کنال 2مرلے ہیں جس کو تبدیل کرکے 154کنال 19مرلے بنادیا گیا۔ان کاغذات میں شامل کی گئی اضافی اراضی پر قبضہ کرلیا گیا ہے ۔ کھیوٹ نمبر 84میں اصل زمین 16کنال 18مرلے ہیں جس کو ٹمپرنگ کرکے 56کنال 18مرلے بنادیا گیا۔انتقال نمبر 498تاریخ 14اگست 1992کے مطابق پرت سرکار میں 18کنال 10مرلے اور مالک سلطان خان ولد یعقوب خان ہے جبکہ پرت پٹوار انتقال نمبر498میں زمین 110کنال سے زائد ہے حیران کن بات یہ ہے کہ پرت پٹوار میں مالک بھی کوئی اور ہے ۔علاوہ ازیں شاملاٹ کی اراضی بھی فروخت کی گئی جس کو قانون کے مطابق فروخت ہی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی انتقال ہوسکتی ہے ۔کھیوٹ نمبر22جو کہ دیہہ شاملاٹ کا کھیوٹ ہے جس میں تقریبا 303 کنال سے زائد ارضی ہے اسے انتقالات کرکے فروخت کردیا گیا ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -