سیاست کے رنگ نرالے، پیپلزپارٹی لاہور کا مظاہرہ ، عمران دہشت گرد؟

سیاست کے رنگ نرالے، پیپلزپارٹی لاہور کا مظاہرہ ، عمران دہشت گرد؟

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

سیاست کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں گزشتہ روز پیپلزپارٹی لاہور نے گورنر ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان کو دہشت گردوں کا سہولت کار ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جائے۔ یہ مطالبہ خود عمران خان کے ایک انٹرویو کی بنیاد پر کیا گیا جس میں انہوں نے بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال لاہور سے ایک اہم طالبان کمانڈر بھی علاج کرا کے گیا اور ہمیں اس وقت علم ہوا جب اس نے واپس جا کر کافی دیر بعد شکریئے کا خط لکھا، اب اسی بیان یا انٹرویو کی روشنی میں یہ مطالبہ کیا گیا حالانکہ انٹرویو بہت واضح ہے جس کے مطابق طالبان راہنما نے یہ علاج ایک گمنام شخص کی حیثیت سے مریض کے طور پر کرایا اور پھر واپس چلا گیا۔ عمران خان کہتے ہیں کہ کافی عرصہ بعد شکریئے کا خط وصول ہوا تو پتہ چلا اس میں یہ کہاں آگیا کہ کہ عمران سہولت کار ہیں اور انہوں نے خود تسلیم کیا ہے۔ محض الزام لگانے اور ’’تیلی رے، تیلی، تیرے سر پہ کولہو‘‘ والی ضرب المثل کے مطابق عمل کرنے سے تو بات نہیں بنتی۔ مخالفت کرنا ہے تو ٹھوس بنیاد ہونا چاہئے ورنہ ایسے عمل سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے جو حالات حاضرہ میں مناسب نہیں یوں بھی پیپلزپارٹی لاہور کی طرف سے ایسا مظاہرہ فعالیت کی نشانی نہیں۔ مظاہروں کے لئے بہت سے حقیقی مسائل ہیں جن کے حوالے سے جدوجہد کی جا سکتی ہے اور عوام میں مقبول بھی ہو گی۔

ابھی کل ہی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی سماجی برائیوں کے خلاف منظم جدوجہد کرے گی اور سب سے پہلے کرپشن کے خلاف تحریک چلائے گی اب اگر پیپلزپارٹی کرپش کے خلاف تحریک سے گھبراتی ہے تو اس کے لئے مہنگائی، بے روز گاری، جرائم، صحت، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے مسائل ہیں جن کے لئے جدوجہد کی جا سکتی ہے اور یہ عوامی مسائل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے بنیادی اصولوں میں سے روٹی، کپڑا اور مکان بھی تو ہے۔ پارٹی کو ایسے مسائل کے ساتھ جمہوریت کے استحکام اور دہشت گردی کے خلاف بھی متحرک ہونا چاہئے۔

آج کل سیاسی اور سماجی حلقوں میں بہت ہل چل ہے۔ روزانہ کوئی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ آج کل تو مظاہروں کا سیزن ہے۔ گزشتہ روز جی پی او چوک میں سکھوں نے بھی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے سابق پردھان مستان سنگھ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے لئے تھا جن کو ریاست کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان حضرات کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا مذہبی حق استعمال کیا اور ننکانہ صاحب میں سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کے جنم دن پر جلوس نکالا تھا۔ یہ قصہ در اصل اسی روز کا ہے۔ جب جلوس نکالا اور روکنے پر مشتعل ہو گئے اور انتظامیہ سے تنازعہ ہوا۔ مقدمہ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے موجودہ پردھان سردار شام سنگھ کی شکایت پر درج ہوا اور ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ مظاہرین کے مطابق ان کی وفاداریاں ریاست پاکستان سے ہیں اور ان کو مشکوک نہ بنایا جائے۔

اس میں کون سچا ہے ہم فیصلہ نہیں کر سکتے بہتر عمل تفتیش اور تحقیق کا ہے جسے پولیس نے سر انجام دینا ہے تاہم اس میں متروکہ وقف املاک بورڈ کا بھی ایک کردار بنتا ہے کہ یہ بورڈ منتظم ہے اور منتظم اعلیٰ کی حیثیت سے صدیق الفاروق بہتر جج ہو سکتے ہیں۔ ان کو خود اس معاملہ کو دیکھنا چاہئے تاکہ باہمی افہام و تفہیم سے مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے اور بات آگے نہ بڑھے۔ جہاں تک مظاہرین کا تعلق ہے تو اگر وہ ریاست سے وفاداری کی بات کرتے ہیں تو انہیں اپنے عمل سے بھی ثابت کرنا اور قانون کے دائرہ کار میں رہنا چاہئے اگر ان کے آپس کے کوئی تنازعات ہیں تو وہ بھی باہمی طور پر بات چیت سے حل کریں۔ صدیق الفاروق ثالث بن سکتے ہیں کہ موجودہ پردھان نے ایف آئی آر کٹوائی اور سابق پردھان پکڑے گئے۔ معاملہ میں آپس کی چپقلش کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی ساگلرہ پر چار پی کے نئے صدر آصف علی زرداری کا بیان زیر بحث ہے۔ اس بیان کی اصول پسندی سے انکار نہیں لیکن جو کچھ کہا گیا اس کے اعتراض والے حصے پر تو ان کو خود بھی عمل پیرا ہونا چاہئے اور قومی اسمبلی میں اپنے اراکین اسمبلی اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو ہدایت کرنا چاہئے کہ وہ احتساب بل کو جو زیر التوا ہے صاف ستھرا اور بہترین قانون بنوانے کی کوشش کریں جس کے تحت ایک ایسا احتسابی ادارہ بنے جو خود مختار اور آزاد ہی نہ ہو، بے خوف اور دیانت دار بھی ہوتا کہ احتساب کے بارے میں ان کا شکوہ دور ہو جائے یہ بل یوں بھی خود ان کے دور حکومت میں پیش ہوا اور مجلس قائمہ کے سپرد ہوا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کو احتساب بیورو کے اراکین اور ان کی نامزدگی کے طریق کار پر اعتراض تھا۔ اب یہ بھی عجیب بات ہے کہ اب مسلم لیگ (ن) حکمران اور اسے سادہ اکثریت بھی حاصل ہے پھر بھی یہ مسودہ قانون زیر التوا ہے۔ کرپشن اور احتساب کا نعرہ سب لگاتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -