پٹھانکوٹ واقعہ کے بارے میں کئی سوالات ہیں جواب کوئی نہیں ،بی بی سی

پٹھانکوٹ واقعہ کے بارے میں کئی سوالات ہیں جواب کوئی نہیں ،بی بی سی

  

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی شہر پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر گولہ باری کی گونج ابھی خاموش نہیں ہوئی ہے لیکن یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی معلومات ہونے کے باوجود بھی حملہ آوروں کو ائر بیس میں داخل ہونے سے کیوں نہیں روکا جاسکا؟انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، حملے سے پہلے انھوں نے ٹیلی فون پر سرحد پار اپنے ہینڈلرز اور اہل خانہ سے بات چیت بھی کی تھی، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق انھوں نے یہ بات چیت سنی ہے، اور ان کے خیال میں ممکنہ طور پر ان لوگوں کا تعلق جیش محمد سے ہے لیکن حکومت نے باضابطہ طور پر ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔سنیچر کی شام وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ سبھی پانچ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے، لیکن اس کے دو دن بعد بھی آپریشن جاری تھا اور وزیر داخلہ نے اپنی ٹوئیٹ کو اپنے اکاؤنٹ سے ہٹا دیا ہے۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پیشگی اطلاعات مل جانے کے باوجود حملہ آوروں کو ایئر بیس میں داخل ہونے سے کیوں نہیں روکا جاسکا؟ حملہ آوروں نے جب جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات ایک پولیس افسر سے ان کی گاڑی چھینی، تو اس کے بعد کیا ہوا؟حملہ آوروں نے پولیس افسر اور ان کے ایک ملازم کو زندہ کیوں چھوڑ دیا؟ انھیں مارا کیوں نہیں؟رہائی کے بعد پولیس افسر نے کیا کیا؟ کیا یہ خبریں درست ہیں کہ شروع میں خود پولیس نے ان کی کہانی کو درست ماننے سے انکار کیا؟ جب پولیس افسرنے یہ انکشاف کیا کہ گاڑی چھیننے والوں نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں، تو پولیس نے کیا کارروائی کی؟حملہ آور پولیس افسر کے جس سنار (زرگر) دوست کو اپنے ساتھ لے گئے تھے، وہ کیسے زندہ بچا جبکہ شدت پسندوں نے اسے گلا کاٹ کر مارنے کی کوشش کی؟جب یہ واضح ہوگیا کہ کم سے کم چار شدت پسند علاقے میں موجود ہیں تو قومی سلامتی کے مشیر کی ہدایت پر نیشنل سکیورٹی گارڈ کے دستوں کو پٹھان کوٹ روانہ کردیا گیا۔ فضائیہ کے اڈے پر حملہ این ایس جی کے پٹھان کوٹ پہنچنے اور ریڈ الرٹ کا اعلان کیے جانے کے بعد ہوا حالانکہ اس علاقے میں مسلح افواج کا سب سے بڑا اثاثہ یہ ایئر بیس ہی ہے اور اس کے قریب ہی برّی فوج کی بڑی نفری تعینات ہے۔اس لئے سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ ایئر بیس سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر دور پولیس افسر کی گاڑی برآمد ہونے اور حملہ شروع ہونے کے درمیان تقریباً پورا دن کیا کارروائی ہوئی۔ ایئر بیس کے قریب گاڑی ملنا کیا اس بات کا واضح اشارہ نہیں تھا کہ حملہ آوروں کا نشانہ کیا ہے؟حملے کے تیسرے دن بھی واضح نہیں تھا کہ حملہ آوروں کی کل تعداد کتنی ہے، وہ دو ٹیموں میں تھے یا ایک، کیا آپریشن کو لمبا کھینچنا ہی ان کی حکمت عملی تھی، دو حملہ آور سنیچر کی شام سے اتوار کی دوپہر تک کیوں خاموش چھپے رہے، اگر حملہ آور دو ٹیموں میں تھے تو دوسری ٹیم فضائیہ کے اڈے تک کیسے پہنچی؟فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم۔ وقت کے ساتھ ہی اصل تصویر سامنے آئے گی کہ کس کو کیا معلوم تھا اور اگر مجموعی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے تو کیا اس حملے کو روکا یا اس سے ہونے والے جانی نقصان کو کم کیا جاسکتا تھا؟ ریڈ الرٹ کے باوجود اس حملے میں سات فوجی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے زیادہ ہے۔پٹھان کوٹ سے ملحق گرداس پور ضلعے میں گذشتہ برس بھی شدت پسندوں نے ایک پولیس ٹھانے پر حملہ کیا تھا۔ پٹھان کوٹ کی ایئر بیس اس جگہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جس طرح سے یہ آپریشن چل رہا ہے، تاثر یہ ملتا ہے کہ ممبئی پر سنہ 2008 کے حملے سے زیادہ سبق نہیں سیکھے گئے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -