رجسٹریشن کے نئے قوانین کے سبب 90% نجی تعلیمی ادارے بند ہو جائیں گے، شاہد نور

رجسٹریشن کے نئے قوانین کے سبب 90% نجی تعلیمی ادارے بند ہو جائیں گے، شاہد نور

  

لاہور(پ ر)پاکستان ایجوکیشن کونسل فار پرائیویٹ سکولز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایم شاہد نور نے کہا ہے کہ رجسٹریشن کے نئے قوانین سے 90% سکولز بند ہو جائیں گے۔ اس سے ملک میں شرح ناخواندگی میں اضافہ ہوگا اور سرمایہ دار بڑے بڑے سکول کھول کر بھاری فیس لیں گے اور متوسط طبقے کا بچہ تعلیم سے محروم رہ جائے گا۔ یہ قوانین تو حکومتی تعلیمی ادارے بھی پورا نہیں کرتے۔ ایسے قوانین ان ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہیں شرح خواندگی 100% ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیم دوست کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے قوانین ختم کریں۔ پرائمری سکول کے 10 مرلہ مڈل کیلئے 15 مرلہ اور ہائی سکول کیلئے 1 کنال ٹیچر کی Pay کم سے کم 13ہزار سکول کی ہے۔ گراؤنڈ ہال، جنریٹر، سیکورٹی کیلئے گارڈ اور رجسٹریشن DCO لاہور کو دے دی گئی ہے جبکہ یہ کام ماہرین تعلیم اور محکمہ تعلیم کا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کا آرڈیننس ایک سازش ہے۔ پاکستان کے آئین میں بھی اس چیز کی اجازت ہے کہ بچے کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی بڑی عمارت کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا حکومت رجسٹریشن کے قوانین میں آسانی پیدا کرے تاکہ غریب کابچہ اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

اگر حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی تو نجی تعلیمی ادارے احتجاج کریں گے۔ اجلاس میں رفیع الدین پراچہ، ڈاکٹر میاں محمد اسلم، ڈاکٹر ندیم سحر، چوہدری طاہر محمود نے شرکت کی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -