ای رجسٹریشن کی آڑ میں کرپشن ،ذمہ دارا ن کے انکوائری میں پیش نہ ہونے سے کیس التواء کا شکار

ای رجسٹریشن کی آڑ میں کرپشن ،ذمہ دارا ن کے انکوائری میں پیش نہ ہونے سے کیس ...

  

لاہور(عامر بٹ سے)ای رجسٹریشن پراجیکٹ میں شناختی کارڈ کی تصدیق کی آڑ میں لینڈ ریکا رڈ انفارمیشن سسٹم میں تعینات کنٹریکٹ آفیسر کی جانب سے کی جانے والی 2ارب کی کرپشن کے ریکارڈ کی فراہمی سے انکاری اور ذمہ داران کے انکوائری میں پیش نہ ہونے کے سبب محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت کیس لٹک گیا ،پی ایم یو میں کنٹریکٹ آفیسر کی بیرون ملک فرار ہونے کی اطلاعات نے معاملہ کو مزید سنگین کر دیا، ۔صوبائی دارلحکومت سمیت صوبے بھر میں فراڈ کی مکمل طور پر روک تھام اور روبرو رجسٹری پاس کروانے کیلئے ،رجسٹریوں کی سکیننگ اور ڈیٹا انٹری کیلئے ای رجسٹریشن پراجیکٹ میں فروخت اور خرید کنندہ کے شناختی کارڈ کی تصدیق کے نام پر فی کس 100روپے خود ساختہ ٹیکس نافذ کرکے دو ارب سے زائد کی کرپشن کی گئی ، ای رجسٹریشن پروجیکٹ میں صرف روبرو ہونے والے افراد سے100روپے وصولی کی تجویز دی گئی تھی لیکن پی ایم یو انتظامیہ کے آئی ٹی انچارج فیض الحسن نے تو لوکل کمشن کی توسط سے آنے والی رجسٹریوں پر، وثیقہ نویسوں ، عام شہریوں اور وکلاء سے بھی پیسے بٹورنے کے لیے ان کو لائنوں میں کھڑا کر دیا احتجاج کی صورت میں ریونیو سٹاف کے پھڈوں کے نتیجے میں کئی کئی دن تک رجسٹریشن برانچیں بھی بند رہیں اس غیر قانونی پریکٹس کی نشاندہی پر سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ندیم اشرف، رانا ثناء اللہ ، اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اس غیر قانونی پریکٹس کو ختم کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن اس وقت تک چار ماہ کے عرصہ کے دوران پی ایم یو میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات اور اس پراجیکٹ کے آئی ٹی انچار ج فیض الحسن نے جو رقم وصول کی اس میں برائے نام رقم ڈی سی او کے اکاؤنٹ میں جمع کروا کر باقی رقم پر ہاتھ صاف کر لیے، ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب انور رشید نے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں آئی ٹی انچارج فیض الحسن کی اس کرپشن کو نوٹس لے لیا۔

اس رقم کے خرد برد میں ملوث باقی سرکاری اہلکاران کے تعین کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ۔

محکمہ اینٹی کرپشن میں جاری اس انکوائری میں اصل حقائق سے ہٹ کر آئی آئی انچارج فیض الحسن کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے پی ایم یو کی جانب سے محکمہ ریونیو کی ایڈمنسٹریشن پر دباؤ کے سبب ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن لاہور متعدد نوٹسز کے باوجود اس پراجیکٹ میں اکٹھی کی جانے والی رقم کا ریکارڈ فراہم کرنے سے لعیت ولعل سے کام لے رہی ہے جس کا واضح مقصد کسی نہ کسی طرح پراجیکٹ انچارج فیض الحسن اور اس کے ساتھ ملوث سرکاری اہلکاران کو بچانا ہے ، جس کے باعث یہ کیس ابھی تک کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی جائے محکمہ اینٹی کرپشن اور ڈسٹرکٹ اٰٰیڈمنسٹریشن لاہور کے درمیان لٹکا ہوا ہے ،دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ٹی انچارج فیض الحسن ملک سے فرار ہونے کی تیاریوں میں ہے ،ان اطلاعات نے محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت اس کیس کو مزید الجھا دیا ہے۔ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ پی ایم یو کے آئی ٹی انچارج ک فیض الحسن ی تعیناتی کس نے کن مراعات پر کی ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کیوں کہ کسی کو نہیں معلوم ہے کہ مذکورہ آفیسر کا کنٹریکٹ پیریڈ کب شروع ہوا ہے اور کب ختم ہو گا،اینٹی کرپشن میں اتنی بڑی کرپشن کا کیس زیر سماعت ہونے کے باوجود پی ایم یو کے افسران کی آشیرباد اور سپورٹ سے ابھی تک یہ اپنی سیٹ پر کام کر نے کے ساتھ پی ایم یو میں مزید بھرتیاں بھی کر رہا ہے، یہ سب کس کی اجازت وے ہو رہا ہے اس سوال کہ جواب نہ ہونے کی وجہ سے پی ایم یوکا کردار بھی مشکوک ہو گیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -