جدید ٹیکنالوجی میں بڑا بریک ڈاؤن تھرو سری لنکا جے ایف 17تھنڈر طیاروں کا پہلا خریدار

جدید ٹیکنالوجی میں بڑا بریک ڈاؤن تھرو سری لنکا جے ایف 17تھنڈر طیاروں کا پہلا ...

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

  سری لنکا پاکستان کے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کا پہلا خریدار بن گیا ہے، وزیراعظم نواز شریف کا دورۂ سری لنکا اس لحاظ سے انتہائی کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس دورے میں سری لنکا کے ساتھ یہ تاریخی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت پاکستان سری لنکا کو آٹھ طیارے فروخت کرے گا۔ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ جب بھارت کو یہ بھنک پڑی تھی کہ سری لنکا جے ایف 17تھنڈر طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے تو اس نے دباؤ ڈالا تھا کہ یہ طیارے نہ خریدے جائیں۔ غالباً بھارت اس میں اپنی سبکی محسوس کررہا تھا کہ اس نے اپنے ہاں مقامی طورپر جو طیارہ بنانے کی کوشش کی تھی وہ ابھی تک رول آؤٹ نہیں ہوسکا جبکہ پاکستان اس معاملے میں بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ 2015ء میں 16،طیارے بنائے گئے، پیداوار کا یہی ہدف مقرر کیا گیا تھا جو سال کے اندر حاصل کرلیا گیا اب آئندہ یہ ٹارگٹ رکھا گیا ہے کہ اس پراجیکٹ کی توسیع کی جائے گی اور پہلے 20اور پھر 24طیارے سالانہ بنائے جائیں گے۔ اس وقت پاکستان ائرفورس کے پاس 66جے ایف 17تھنڈر طیارے ہیں، پاکستان یہ طیارہ چین کے اشتراک سے بنارہا ہے، یہ جدید ترین فائٹر بمبار طیارہ اپنے مقابلے کے طیاروں کی نسبت بہت سستا ہے، سری لنکا نے دو وجوہ کی بنا پر اس طیارے کا انتخاب کیا تھا ایک تو اس کی انتہائی اعلیٰ کارکردگی اور دوسرے مقابلتاً بہت کم قیمت ، کئی ماہ پہلے جب یہ خبر آئی تھی کہ پاکستان نے جے ایف 17تھنڈر طیاروں کی پہلی کھیپ فروخت کرنے کے لئے غیرملک سے معاہدہ کیا ہے تو سری لنکا کا نام خفیہ رکھا گیا تھا، پھر بھی بھارت نے دباؤ ڈالا تو سری لنکا نے قبول نہیں کیا آپ کو یاد ہوگا بھارت نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے دورے سے روکا تھا، لیکن اس کے باوجود دورہ کیا گیا تو لاہور میں کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوگیا۔ بھارت کی پوری کوشش ہے کہ سری لنکا پاکستان کے قریب نہ آسکے لیکن طیاروں کے اس سودے نے دونوں ملکوں کو بہت قریب کردیا ہے ،اعلیٰ ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی اس کامیابی کا شہرہ اب چار دانگِ عالم میں ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی سٹیٹ آف دی آرٹ کسی چیز کو برآمد کیا جائے گا ،ورنہ پاکستان کا اپنی برآمدات کے سلسلے میں زیادہ انحصار ٹیکسٹائل اور لیدر کی مصنوعات ، کھیلوں کے سامان، چاول، تازہ پھلوں وغیرہ پرہی رہا ہے، اگرچہ پاکستان کھیلوں کا سامان بڑی تعداد میں برآمد کرتا ہے اور دنیا میں جہاں جہاں فٹ بال کھیلا جاتا ہے پاکستان میں بننے والے فٹ بالوں کی دھوم ہے لیکن جدید ترین ٹیکنالوجی کے میدان نے پہلی مرتبہ پاکستان کے لئے اپنی بانہیں واکی ہیں اب یہ سلسلہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔

ادھر بھارت میں پٹھان کوٹ ائربیس حملے کی کہانی ہرروز ایک نیا موڑ مڑ رہی ہے حملے کے پہلے روز بھارتی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ 16گھنٹے کے کامیاب مقابلے کے بعد چاردہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کی کل تعداد چار ہی تھی، اگلے روز بتایا گیا کہ دو مزید دہشت گرد ہلاک کئے گئے ہیں ، منگل کے روز بھارتی وزیردفاع نے میڈیا کو جو بریفنگ دی اس میں بتایا گیا کہ دہشت گردوں کے پاس چالیس سے پچاس کلو گرام گولیاں تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر گولیوں کا وزن اتنا تھا تو یہ گولیاں جن ہتھیاروں کے ذریعے چلائی جانا تھیں ان کا اپنا وزن کیا ہوگا ۔اب اس پولیس افسر سلو یندر سنگھ کوگرفتار کر لیا گیا ہے جس کی گاڑی چھین کر دہشت گرد ائر بیس میں داخل ہوئے، گورداس پور کے اس ایس پی کی گرفتاری ان کے اپنے بیانات کی وجہ سے پیش آئی جن میں تضاد پایا جاتا ہے معلوم نہیں یہ تضاد ایس پی کی کسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے یا اس کا کردار واقعی مشکوک ہے، اس نے پہلے بتایا کہ جن لوگوں نے ان کی گاڑی اغوا کی وہ پنجابی اور ہندی بول رہے تھے، پھر کہا کہ ان کی زبان سمجھ میں نہیں آئی، خفیہ پولیس نے ایس پی کو دہشت گردوں سے تعلقات کے شبے میں گرفتار کیا ہے۔ تفتیش میں پتہ چلے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے تاہم اتنا تو پوری طرح واضح ہے کہ پٹھان کوٹ ائر بیس پر حملہ زعفرانی دہشت گردی کا شاخسانہ ہے۔

ائربیس حملے کے بعد بہت سے ایسے سوالات اٹھنے لگے ہیں جو بڑی اہمیت کے حامل ہیں، جب حملے کے بارے میں پہلے سے اطلاع موجود تھی اور علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات پر ہی ائر بیس کے باہر حفاظتی انتظامات وغیرہ کئے جارہے تھے تو پھر سوال یہ ہے کہ حملہ روکنے میں کیوں ناکامی ہوئی، پہلے روز یہ کہا گیا تھا کہ حملہ آوروں کو بیس کے اندر داخل نہیں ہونے دیا گیا اگر یہ دعویٰ درست تھا تو چار دن تک کیا ہوتا رہا اور کس سے مقابلہ کیا جاتا رہا، جو پچاس کلو گولیاں اور دوسرا سامان برآمد ہوا ہے اگر حملہ آور بیس کے اندر نہیں جاسکے تھے تو یہ سامان کون لے کر گیا؟

مزید :

تجزیہ -