دو ماہ گزر گئے کمسن بچی سے بد اخلاقی کرنیوالے ملزمان پر مقدمہ درج نہ ہو سکا

دو ماہ گزر گئے کمسن بچی سے بد اخلاقی کرنیوالے ملزمان پر مقدمہ درج نہ ہو سکا
 دو ماہ گزر گئے کمسن بچی سے بد اخلاقی کرنیوالے ملزمان پر مقدمہ درج نہ ہو سکا

  

 لاہور( رپورٹ؛ محمد یونس با ٹھ تصاویر حاجی ند یم ) نشتر کالونی کے علاقہ میں ایک کمسن بچی کو اغواکرنے کے بعد بداخلاقی کا نشانہ بنایاگیاملزم اس معصوم بچی پر تشدد بھی کرتے رہے مگرافسوسناک امر یہ ہے کہ دوماہ گزرنے کے باوجود مقامی پولیس نے مقدمہ درج کرناتودرکنار عدالت کے احکامات کی بھی پرواہ نہیں کی ،کمسن بچی کی ماں کو ملزموں کی سرپرستی کرنے والے ایک تھانیدار نے دھکے دے کرتھانے سے باہر نکا ل دیااور کاروائی کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی ہیں ،عدالت سے رجوع کرنے پرملزم پارٹی نے متاثرہ خاتون کوپکڑلیااور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دوبارہ عدالت جانے کی صور ت میں قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ متاثرہ خاتون کے مطابق تھانے سے لے کروہ سی سی پی او کے دفاتر تک دھکے کھاچکی ہے مگر اس کی شنوائی نہیں ہوئی اب اس نے فیصلہ کرلیاہے کہ وہ مقدمہ درج نہ ہونے کی صورت میں کمسن بچی سمیت لاہورپریس کلب کے سامنے خودسوزی کرے گی ۔بتایاگیاہے کہ تھانہ نشتر کالونی کے علاقہ محلہ وسیم پارک کی رہائشی ناصرہ سرور کی آٹھ سالہ بچی نایاب فاطمہ تقریبا دوماہ قبل رات آٹھ بجے گھرکے قریب واقعہ دوکان سے کوئی چیز لینے نکلی تو محلے دار محمدمصطفی کے جوان بیٹے فیصل نے اسے اغوا کرلیااور کچھ فاصلے پر لے جاکرویران کھیتوں میں اس سے بداخلاقی کرتارہا ۔ والدین بچی کے اچانک غائب ہونے پر پریشان ہوگئے اور انہوں نے تلاش شروع کردی، قریبی مساجد میں اعلانات کروائے گئے ایمرجنسی پولیس کو بھی اطلاع دی گئی ۔چار گھنٹے بعد خاندان کو اطلاع ملی کہ ان کی بچی کھیتوں میں بے ہوش پڑی تھی ۔ایک فیملی کے ساتھ جانے والے راہ گیر نے بچی کو ہوش دلوایا،اور فیملی اسے گھر چھوڑ گئی۔ را ت گئے بچی کے گھر آنے پر اس کے والدین پر یہ سکتہ طاری رہاکہ ان کی بچی کے ساتھ کیا ہواہے مگر وہ کرتے بھی کیا۔اس بارے میں کمسن بچی کی والدہ ناصرہ سرور نانی عنایت بی بی نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ وہ ساری رات جاگتے رہے اور اپنی بار بار رونے والی بیٹی کو چپ کرواتے رہے ،بچی کواس واقعہ کے بعد سخت بخار ہوگیااور اس کی حالت ایسی تھی وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔ کچھ روز گزرنے کے بعد بچی نے اس بداخلاقی کے مرتکب ملزم کو پہچان لیاجس کی اطلاع مقامی پولیس کو دی گئی ۔ پولیس کئی روز تک ٹال مٹول سے کام لیتی رہی جب پولیس نے مقدمہ درج نہ کیاتووالدہ کے مطابق انہوں نے عدالت سے رجوع کرکے مقدمہ درج کرنے کی اجازت حاصل کی، مقامی پولیس نے اس اجازت کی بھی پرواہ نہ کی ۔جب وہ دوبارہ سب کچھ بتانے کے لئے عدالت پہنچی تو گیٹ سے قبل ہی ملزم پارٹی نے اسے گھیر لیااور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے خاموش رہنے کو کہا ورنہ دھمکی دی کہ وہ اسے قتل کردیں گے ۔اس وقوعہ کے بارے میں جب کمسن بچی سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ مقامی پولیس نے اس بارے میں موقف اختیار کیاہے کہ یہ وقوعہ ان کے علم میں نہیں ہے اگر کسی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیاہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ مقدمہ در ج نہ ہوتا،متاثر ہ خاندان کومقامی پولیس اسٹیشن بھجوا دیاجائے قانون کے مطابق کاروائی عمل میں ضرور لائی جائے گی۔ متاثرہ خاندان نے روزنامہ پاکستان کی وساطت سے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ۔

مزید :

علاقائی -