ڈاکٹرعاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع

ڈاکٹرعاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر) احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر ڈاکٹر عاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی ہے۔سابق مشیر پیٹرولیم اور آصف زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم کو منگل کو سخت سیکیورٹی میں کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت سے ڈاکٹر عاصم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عاصم کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق عاملے کی 80 فیصد انکوائری مکمل کرلی گئی ہے، ڈاکٹر عاصم اور ان کے خاندان کے 26 اکاونٹس سے منی لانڈرنگ ہوئی ہے۔ ان بینک اکانٹس کی تحقیقات ماہرین کررہے ہیں جب کہ 10 فیصد ریکارڈ بھی ابھی قبضے میں لینا ہے۔سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم کے وکیل عامر رضا نے عدالتی حکم پر ماہر نفسیات کی رپورٹ پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عاصم کو نفسیاتی مسائل لاحق ہیں، ڈاکٹر عاصم حسین کو سائیکو تھراپی کی ضرورت ہے، اس لئے انہیں اسپتال منتقل کیا جائے۔وکیل صفائی نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کے خلاف موقف اختیار کیا کہ طبی رپورٹ میں یہ واضح ہے کہ ڈاکٹر عاصم اتنے نفسیاتی دبا ؤکا شکار ہیں کہ وہ خودکشی کرسکتے ہیں، ڈاکٹرعاصم کوموجودہ ماحول میں رکھا گیا تو ان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،جب ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت بھی کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھا، 3 ماہ تک کسی وکیل کو ڈاکٹر عاصم تک رسائی نہیں دی گئی، ڈاکٹر عاصم کو3 ماہ تک حراست میں رکھ کر جو پوچھنا تھا پوچھ لیا گیا اور وہ سب کچھ بتا چکے ہیں، عدالت دیکھے کہ گرفتاری کے وقت کیا ثبوت تھے اور اب تک کیا اضافہ کیا گیا، ڈاکٹر عاصم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے بجائے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔ تاہم عدالت نے ڈاکٹر عاصم کو مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیاجبکہ عدالت نے ملزم کا ایم آر آئی کرانے اورطبی سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -