ٹریفک پولیس اہلکار وں پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کے 2دہشتگرد گرفتار

ٹریفک پولیس اہلکار وں پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کے 2دہشتگرد گرفتار

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں ٹریفک پولیس اور نجی ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی وین پر حملہ کر کے 3ملازمین کو قتل کرنے والے کالعدم تنظیم کے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے قبضے سے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ملزمان شہر میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کے لیے فرقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور نارتھ ناظم آباد میں پولیس اہلکاروں کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری پر آجی سندھ نے 10 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا ہے جبکہ رینجرز نے شہید پولیس اہلکار خدا بخش کے اہل خانہ کے لیے 10لاکھ اور اس قبل بھی رینجرز نے 2 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کے لیے 20لاکھ روپے دیئے تھے۔ یہ بات ڈی آئی جی ویسٹ فیروز شاہ نے منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتائی، انہوں نے بتایا کہ پولیس کسی سیاسی و مذہبی دباؤ میں نہیں ہے،ڈاکٹر عاصم کا چالان عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ رضویہ تھانے کی پولیس نے خفیہ اطلاع پر اونگی ٹاؤن میں کارروائی کر کے ٹارگٹ کلر ندیم عرف نوید ولد وزیرالدین اور ثاقب احمد عرف چچی ولد اصغر احمد پاشا کو گرفتار کر لیا، ملزم ندیم عرف نوید نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر 18 جنوری 2014 کوایکسپریس نیوز چینل کی ڈی ایس این جی وین پر فائرنگ کر کے ایکسپریس نیوز کے 3 ملازمین وقاص، اشرف اور خالد کو قتل کیا تھا۔ جبکہ 2013 میں اونگی ٹاؤن اسلام چوک پر اہل تشیع 2 باپ بیٹوں، 2014 میں بنارس پل پر ٹریفک پولیس اہلکار، مئی 2015 میں اونگی ٹاؤن میں چائے کے کیبن پر فائرنگ کر کے اہل تشیع غنی ماما جبکہ اسی سال اونگی ساڑھے 11 میں انور،جبکہ چینگچی رکشہ ڈرائیور، گولی مار چورنگی پر 2 ٹریفک پولیس اہلکاروں، نارتھ ناظم آباد بورڈ آفس کے قریب 2 پولیس اہلکاروں، 2014 میں اورنگی ٹاؤن ایرانی محلہ میں ایک پولیس اہلکار اور 2015 میں نارتھ ناظم آباد الحبیب بینک کے پاس 2 پولیس اہلکاروں سمیت سینکڑوں افراد کو قتل کیا ہے جبکہ ملزم ثاقب احمد عرف چچی نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے مل کر 2013 میں مومن آباد تھانے کی حدود میں ہینڈ گرنیڈ پھینک کر فرار ہو گیا تھا جس سے 3 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ جون 2013 میں نارتھ ناظم آباد میں تعویز گنڈا کرنے والے شفیق عرف بابا ولد عبدالرزاق، اقبال مارکیٹ اورنگی ٹاؤن میں عباس زیدی اور اس کے بیٹے عالم عباس زیدی، شارع نور جہاں نارتھ ناظم آباد میں امام بارگاہ زین العابدین کے قریب گرنیڈ پھینک کر فرار ہو گئے جس میں ایک راہگیر سمیت 4 پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ اورنگی ٹاؤن میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان کے گروہ میں 14 سے 18 افراد شامل ہیں جن میں ریحان، کامران، جاوید آفریدی، کاشف، عمران، سرفراز، ثاقب، مراد، طیب، دلشاد، قاری رشید اور قاری محسن سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ ملزمان نے دوران تفتیش بتایا کہ انہیں ٹارگٹ کلنگ کے اہکامات قاری رشید اور قاری محسن دیا کرتے تھے۔ جبکہ قاری محسن کے سکھر اور کراچی سینٹرل جیل میں موجود کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے مجرمان ہدایت دیا کرتے تھے۔ ملزمان کی گرفتاری پر آجی سندھ نے 10 لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا ہے جبکہ رینجرز نے شہید پولیس اہلکار خدا بخش کے اہل خانہ کے لیے 10لاکھ اور اس قبل بھی رینجرز نے 2 پولیس اہلکاروں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کے لیے 20لاکھ روپے دیئے تھے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -