پہلی با بلدیاتی انتخابات کرا کے اختیارات منتقل کردئے ، عنایت اللہ

پہلی با بلدیاتی انتخابات کرا کے اختیارات منتقل کردئے ، عنایت اللہ

  

 پشاور( پاکستان نیوز) صوبہ خیبرپختونخواکے سینئروزیربلدیات عنایت اللہ خان نے کہاہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں صوبہ خیبرپختونخواکی پہلی جمہوری حکومت ہے جس نے صوبہ میں آزادانہ ومنصفانہ بلدیاتی انتخابات کرواکے اپنے اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کیے جس میں صوبہ بھر میں 43 ہزار بلدیاتی نمائندے منتخب ہوئے ٹرانسفروپوسٹنگ اورچیک دستخطی بلدیاتی نمائندوں کی صوابدیدنہیں ہے بلدیاتی نمائندے صرف ترقیاتی عمل اوراداروں میں کرپشن کی روک تھام میں اپناکرداراداکریں ان خیالات کااظہارانھوں نے گزشتہ روز ضلع ہری پورمیں چمن پارک ہری پورمیں الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام کونسلرزکنونشن اورتقسیم چیک بلاسودکاروباری قرضہ کی تقریب کانگڑہ کالونی ،ڈی سی آفس اورٹی ایم اے آفس ہریپورمیں منعقدہ مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا اسموقع پرسابق ایم این اے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ڈاکٹرفرید پراچہ ،صدرالخدمت فاؤنڈیشن خیبرپختونخوانورالحق ،ضلعی امیرغزن اقبال خان ،ممبر ضلع کونسل تیمورحیدرشاہ ،تحصیل ناظم طارق خان ،نائب ناظم سیدا حسن علی شاہ ،ممبران تحصیل کونسل،اے ڈی لوکل گورنمنٹ ،ٹی ایم اے کے افسران ودیگربھی موجودتھے سینئرصوبائی وزیربلدیات عنایت اللہ خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس بلدیاتی نظام کے تحت 42ارب روپے صوبہ میں بلدیاتی اداروں کومنتقل کردیے گئے ہیں جس میں دوہزارآبادی والی ویلج کونسل کو20لاکھ روپے اوردس ہزارآبادی والی کو50لاکھ روپے فنڈفراہم کیاگیاہے انھوں نے بلدیاتی نمائندوں کوہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوام کی بلاتفریق خدمت اورترقیاتی کاموں پرزوردیں کیونکہ انھیں عوام نے اسی لیے منتخب کیاہے ٹرانسفروپوسٹنگ اورچیک دستخطی بلدیاتی نمائندوں کی صوابدیدنہیں ہے بلدیاتی نمائندے صرف ترقیاتی عمل اوراداروں میں کرپشن کی روک تھام میں اپناکرداراداکریں انھوں نے کہاکہ اس طرح کابااختیاربلدیاتی نظام پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں موجودنہیں ہے صوبائی وزیرنے کہاکہ میں اپنے دفترمیں ناظمین اورکونسلرزکے لئے سہولیاتی سنٹرقائم کررہاہوں جوآپ کے مسائل کے حل کے لئے مددگارثابت ہوگا ٹی ایم اے کے مسائل پورے صوبے میں ہمارے دورمیں جوبھی نیلامی ہوئی ہے وہ میرٹ پرہوئی ہے 2013میں پورے صوبے کے اندرایک پالیسی بنائی گئی جس کی وجہ سے73فیصد ٹی ایم اے کے ریونیومیں اضافہ ہواہے اورہرٹی ایم اے خودمختارادارہ ہے تحصیل اورضلع ناظمین اجلاس کرکے اپنے فیصلے میرٹ کی بنیادپرخودکرسکتے ہیں انھوں نے کہاکہ ہمارے صوبہ میں باقی تمام محکموں کی جتنی اے ڈی پی ہے اس سے زیادہ صرف ایک محکمے بلدیات کی اے ڈی پی بنتی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں کوئی چیف انجنیئریاٹیکنیکل سٹاف موجود نہیں ہے ہمارے حکومت نے صوبے بھرمیں ٹی ایم اے کے لیے24انجنیئر،44سب انجنیئرسمیت ایک 150ٹیکنیکل افراد کوبہت جلدبھرتی کررہی ہے جس کی بدولت ٹیکنیکل مسائل میں کمی آئے گی انھوں نے کہاکہ صوبے کے اندرضلع وتحصیل ناظمین کے لئے تجاوزات ہٹانے کے لئے ایک باقاعدہ فورس قائم کی جارہی ہے جوانکی معاونت کرے گی انھوں نے ضلع وتحصیل ناظمین کوہدایت کی کہ فنڈزکی منصفانہ تقسیم کویقینی بنایاجائے اوراپوزیشن ممبران کوبھی مساوی حقوق فراہم کیے جائیں ۔انھوں نے آخرمیں الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام 40افراد میں بلاسودکاروباری قرضہ کے چیک تقسیم کیے ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -