کیا اب عمران خان اور مولانا فضل الرحمان ایک صفحے پر آگئے ؟

کیا اب عمران خان اور مولانا فضل الرحمان ایک صفحے پر آگئے ؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور نہ سیاسی دوستیاں اور دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب اپنے دھرنے کے شرکاء سے مخاطب ہوتے تھے مولانا فضل الرحمان کو کیسے کیسے القابات سے یاد نہیں کرتے تھے، مولانا فضل الرحمان بھی حاضر دماغ سیاست دان ہیں وہ بھی عمران خان کو نہیں بخشتے تھے، بلکہ انہوں نے تو کوشش کی کہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت نہ بن سکے، وہ وزیراعظم نوازشریف کو یہ پیشکش کرچکے تھے کہ اگر مسلم لیگ (ن) تعاون کرے تو وہ تحریک انصاف کو صوبے میں حکومت سازی سے روکنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن نوازشریف نے اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے سے معذرت کرلی، ورنہ جس طرح 70ء کی دہائی میں بلوچستان میں ایک بھی نشست نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت بناکر دکھا دی گئی تھی یا سندھ میں جام صادق نے اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کو کھڈے لائن لگا کر صدر غلام اسحاق خان کے تعاون سے حکومت بنا لی تھی اسی طرح کا کرشمہ کے پی کے میں بھی دکھایا جاسکتا تھا، لیکن وزیراعظم نوازشریف نے طے کرلیا تھا کہ صوبے میں سب سے بڑی سیاسی جماعت ہی حکومت سازی کرے گی چنانچہ قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کے تعاون سے تحریک انصاف نے مخلوط حکومت بنالی۔ تھوڑے عرصے بعد قومی وطن پارٹی کے وزراء کو کرپٹ قرار دے کر حکومت سے نکال دیا گیا، لیکن اب پھر قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف باہم شیر و شکر ہیں۔ آفتاب شیر پاؤ کی جماعت پاک صاف ہوچکی ہے اور جن وزراء پر کرپشن کے الزامات تھے وہ بھی وقت کے ساتھ دھل چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پاک چائنہ اکنامک کاریڈور کے مسئلے پر صوبائی حقوق کا پرچم بلند کیا تو انہیں مولانا فضل الرحمان کی ضرورت محسوس ہوئی، چنانچہ سپیکر اسد قیصر سر کے بل چل کر حریف سیاستدان مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے، دونوں نے طے کیا کہ راہداری منصوبے پر صوبائی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور یوں دونوں کے قریب آنے کی راہ ہموار ہوگئی۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان ایک دوسرے کے بارے میں جو گوہر افشانیاں کرتے رہے ہیں ان کو جمع کیا جائے تو سیاسی لغت کا دلچسپ مجموعہ تیار ہوسکتا ہے لیکن اس باب کو اب اس وقت تک بند سمجھا جانا چاہئے جب تک سیاست کوئی نیا موڑ نہیں مڑ جاتی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے بارے میں قومی اسمبلی میں جو بیان دیا ہے اس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ’’گورنمنٹ آف پاکستان‘‘ کا نہیں ریاست پاکستان کا منصوبہ ہے، اس سے ملک کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کو فائدہ ہوگا۔ اسے قومی منصوبہ سمجھا جانا چاہئے اور صوبوں کے نقطہ نظر کی بجائے پاکستان کے منصوبے کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اور منصوبے کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت کو کسی نے نہیں روکا کہ وہ صوبے کے مفاد میں جو بھی منصوبہ بنانا چاہتی ہے بنائے، وفاقی حکومت نے کھلی آفر دی ہے کہ تمام قابل عمل منصوبوں میں وفاق پوری مدد دے گا۔

احسن اقبال نے قومی اسمبلی میں یہ بیان تو دے دیا لیکن لگتا یہی ہے کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت اب اس ایشو پر سیاست ضرور کرے گی حالانکہ احسن اقبال نے وزیراعلیٰ کو فون پر کہا تھا کہ وہ ان کے تحفظات دور کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن اب تک تو تحفظات کی تفصیل بھی سامنے نہیں آئی۔ چلیے یہ تو مان لیا کہ وفاقی حکومت صوبوں سے بعض باتوں کو ’’پوشیدہ‘‘ رکھ رہی ہے لیکن صوبائی حکومت کو تو کسی نے نہیں روکا کہ وہ ان پوشیدہ باتوں کو منظرعام پر لے آئے۔ مولانا فضل الرحمان نے تازہ مطالبہ تو یہی کیا ہے کہ جو سہولتیں مشرقی روٹ پر دی جا رہی ہیں وہی سہولتیں مغربی روٹ پر بھی دی جائیں۔ اس سے پہلے پرویز خٹک نے کہا تھا کہ ہمیں ایک سڑک نہیں چاہئے یہ تو ہم خود اپنے وسائل سے بھی بنا سکتے ہیں ہمیں اس کے ساتھ ساتھ ایل این جی گیس پائپ لائن، آپٹک فائبر، ریلوے اور دوسری سہولتیں بھی درکار ہیں۔ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ اپنی تکمیل کیلئے کم از کم ایک عشرہ لے گا، وہ بھی اس صورت میں جب منصوبے پر کام تیز رفتاری سے شروع ہو اور پھر اسی رفتار سے جاری رہے لیکن اگر کسی نہ کسی انداز میں اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے رہے تو پھر اس کی تکمیل شاید کئی عشروں میں نہ ہوسکے۔ عمران خان نے تو ایک مرتبہ پھر 2016ء کو انتخابات کا سال کہنا شروع کردیا ہے اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگلی حکومت ان کی ہوگی۔ چند روز قبل انہوں نے میانوالی میں نمل کالج کے کانووکیشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کالج سے ملحقہ زمین کے مالکوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی زمین عطیہ کردیں یا فروخت کردیں، ورنہ ہماری حکومت آنے والی ہے، ہم سیکشن فور کے تحت حاصل کرلیں گے اور پھر مالکوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اگر عمران خان کو اپنی حکومت آنے کا اتنا ہی یقین ہے تو پھر راہداری کے منصوبے کے بارے میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ جب ان کی حکومت آئے گی تو وہ مغربی روٹ پہلے بنالیں، یا مشرقی، صوبہ کے پی کے کو ساڑھے تیرہ فیصد حصہ دیں یا بیس فیصد، ان کا ہاتھ روکنے والا کون ہوگا؟ ویسے بھی ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آنے والی حکومت ان میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کرتی رہتی ہے، چاہے اس میں منصوبے کا دھڑن تختہ ہو جائے، اس کی مثال لاہور اسلام آباد موٹر وے، اسلام آباد پشاور موٹر وے اور پنڈی بھٹیاں فیصل آباد سے دی جاسکتی ہے۔ اول الذکر منصوبہ میاں نوازشریف نے اپنی پہلی حکومت میں شروع کیا تھا جو 90ء میں شروع ہوئی اور 93ء میں ختم ہوگئی اگر ان کے بعد آنے والی حکومت پروگرام کے مطابق کام جاری رکھتی، تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں یہ مکمل ہوسکتا تھا لیکن وہ چونکہ اس منصوبے کے خلاف تھیں چنانچہ انہوں نے اس پر کام رکوا دیا یا پھر سست رفتاری سے جاری رہا۔ میاں نوازشریف 97ء میں دوبارہ برسر اقتدار آئے تو انہوں نے 98ء میں اس کا کام مکمل کرکے افتتاح کردیا اور پشاور اسلام آباد موٹر وے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا لیکن اس منصوبے میں بھی بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ چھ لین موٹر وے کو چار لین میں تبدیل کرنے کا پروگرام بنا تو تعمیر کرنے والی کمپنی نے کہا کہ تمام پل چھ رویہ سڑک کے حساب سے تعمیر کردیئے گئے ہیں اب اگر دو لین کم کی گئیں تو بھی اخراجات کی کوئی بچت نہ ہوگی بلکہ ان میں اضافہ ہوگا۔ مقدمے بازیوں اور تاخیری حربوں کے باوجود یہ موٹر وے تاخیر سے مکمل ہوگئی تو اب اس کی افادیت بھی سامنے ہے اور پشاور اور لاہور کے درمیان سفر کا وقت آدھا رہ گیا ہے۔ ماہرین نے لاہور اسلام آباد موٹر وے میں تو سات ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ایف 16 طیارے بھی ہنگامی حالت میں لینڈ کرسکتے ہیں، اس لحاظ سے اس موٹر وے کی سٹریٹجک اہمیت بھی ہے۔ پنڈی بھٹیاں فیصل آباد موٹر وے کی راہ میں بھی بڑی مشکلات آتی رہیں، یہ تینوں منصوبے تاخیر سے مکمل ہونے کی وجہ سے لاگت بھی بہت بڑھ گئی پروگرام کے مطابق مکمل ہوتے تو ایسا نہ ہوتا۔ اس لیے احسن اقبال کی بات پر غور کرکے اس راہداری کو پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھنا چاہئے، ویسے بھی اگر تحریک انصاف کی حکومت آ ہی رہی ہے تو پرویز خٹک تھوڑا سا صبر کرلیں پھر وہ جو روٹ چاہیں جس طرح چاہیں اپنے لیڈر سے بنوا لیں۔ یہ الگ بات کہ اس وقت تک ’’التفاتِ دلِ دوستاں‘‘ رہے یا نہ رہے۔

مزید :

تجزیہ -