راہداری منصوبے میں ایک انچ بھی تبدیلی کی گئی تو وفاق کا بوریا بستر گول کر دینگے: جماعت اسلامی

راہداری منصوبے میں ایک انچ بھی تبدیلی کی گئی تو وفاق کا بوریا بستر گول کر ...

  

چارسدہ( بیورورپورٹ)جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء نے دھمکی دی ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری میں ایک انچ تبدیلی کی گئی تو مرکزی حکومت کا بوریا بستر گول کرینگے ۔ وفاقی حکومت ایک طرف چینی حکومت کے سامنے بدنامی سے ڈر رہی ہے جبکہ دوسری طرف چھوٹے وبوں کا حق مار کر راہداری منصوبہ کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ بنا نے پر تلی ہوئی ہے ۔ ژوب میں سڑک کی تعمیر کا افتتاح کرکے وزیر اعظم نے راہداری منصوبے کے افتتاح کا نام دیکر قوم کو دھوکہ دیا۔ ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیربلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ خان اور صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے دولت پورہ میں عوامی اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔اس موقع پر سابق یو سی ناظم ارشار افضل نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ جلسہ سے جماعت اسلامی ضلع چارسدہ کے امیر مصباح اللہ، ڈسٹرکٹ نائب ناظم حاجی مصور شاہ، سابق ایم پی اے محمد ارشد خان،پیر مسعودجان، حمیداللہ خان اور ارشاد افضل نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ سے خطاب کر تے ہوئے صوبائی وزراء عنایت اللہ اور مظفر سید نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مل جل کر چھوٹے صوبوں کے حقوق پر دن دھاڑے ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ اقتصادی راہداری منصوبے پر سب سے زیادہ حق خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا ہے یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پختونوں کے آنے والے نسلوں کا مسئلہ ہے۔ اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالے سے خدشات اور تحفظات جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے پچھلے دنوں بلوچستان میں جس سڑک کا افتتاح کیا اس کا پاک چائنہ اقتصادی راہداری سے کوئی تعلق نہیں ۔ وزیر اعظم نے جھوٹ موٹ کا افتتاح کرکے چائنہ اقتصادی راہداری منصوبہ کا نام دیا ہے ۔ وفاقی حکومت خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کو ہر صورت اپنا دینا ہو گا ۔ وفاقی حکومت کی بدنیتی کا یہ عالم ہے کہ راہداری کے مشرقی روٹ پر کام شروع کیاگیا ہے جبکہ مغربی روٹ پر کام کا کوئی نام ونشان نہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ خیبر پختونخواہ کو نظر انداز کیا گیا تو اقتصادی راہداری کو کسی صورت نہیں بنانے دینگے ۔ وفاق سے کوئی خیرات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔وفاقی حکومت اقتصادی راہداری میں خیبر پختونخواہ کو صرف ایک سڑک دے رہی ہے ۔ اگر منصوبے میں شامل ایل این جی،بجلی کی پیدوار،گیس پائپ لائن ،آپٹک فائبر،انڈسڑیل پارک ،ریلوے لائن اور اکنامک زون جیسے منصوبوں کو خیبر پختونخوا کے روٹ میں شامل نہ کیا گیا تومجوزہ منصوبے کا خشر بھی کالا باغ ڈیم سے مختلف نہ ہوگا ۔ ایک طرف حکومت چین کے سامنے بدنام ہونے سے خوف زدہ ہے جبکہ دوسری طر ف چھوٹے صوبوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ۔ وفاقی حکومت نے منصوبے میں ایک انچ کی تبدیلی کی تو اسلام آباد میں فیصلہ کن احتجاج کرکے حکومت کا بوریا بستر گول کرینگے ۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -