شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کا تجربہ، کیا آپ کو معلوم ہے ہائیڈروجن بم اور ایٹم بم میں کیا فرق ہے؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کا تجربہ، کیا آپ کو معلوم ہے ہائیڈروجن بم ...
شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کا تجربہ، کیا آپ کو معلوم ہے ہائیڈروجن بم اور ایٹم بم میں کیا فرق ہے؟ وہ تمام باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

  

پیانگ ینگ(مانیٹرنگ ڈیسک)ملکی دفاع کے نام پر دنیا بھر کے ممالک میں مہلک ترین اسلحے کی تیاری کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ شمالی کوریا نے کچھ عرصہ قبل ایٹم بم کے کامیاب تجربے کا اعلان کرکے دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا مگر گزشتہ روز شمالی کورین حکام نے ایٹم بم سے بھی خطرناک ہتھیار ’’ہائیڈروجن بم‘‘ کے کامیاب تجربے کا بھی اعلان کر دیا ہے، جس نے امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان سمیت شمالی کوریا کے سبھی مخالف ملکوں کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریانے اپنے مقامی وقت کے مطابق آج (6جنوری 2016ء ) صبح 10بجے تجربہ کیا۔امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق شمالی کوریا کے اسی تجربے کے باعث 5.1شدت کا زلزلہ آیا جس سے دھماکے کا پتہ چلا۔شمالی کوریا کے اس تجربے کے بعد سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

شمالی کوریاکی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق محفوظ اور کامل طریقے سے دشمنوں سے اپنے دفاع کیلئے کامیاب تجربہ کرلیاہے۔ کوریا کے سنٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق ہائیڈروجن بم کے تاریخی تجربے کی کامیابی کے بعدجوہری طاقتوں کی صف میں ایک اور ملک کا اضافہ ہوگیاہے۔ہائیڈروجن بم کا سب سے پہلا تجربہ امریکا نے یکم نومبر 1952 کو کیا تھا جب کہ روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے پاس بھی ہائیڈروجن بم موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروجن بم ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ذیل میں ہائیڈروجن اور ایٹم بم میں فرق بیان کیا جا رہا ہے۔

ایٹم بم کو’’ فیژن بم‘‘(Fission Bomb) یا اے بم (A-bomb)بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بم نیوکلیئس کی فیژن یعنی نیوکلیئس کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے توانائی پیدا کرتا ہے جس سے تباہی ہوتی ہے۔ اس میں یورینیم یا پلوٹینیم استعمال کی جاتی ہے۔ دوسری طرف ہائیڈروجن بم جسے تھرمونیوکلیئر بم یا ایچ بم بھی کہا جاتا ہے وہ فیژن کی بجائے فیوژن(2نیوکلیائی کو انتہائی تیزرفتاری کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک بڑا نیوکلیئس بنانے کا عمل) کے عمل کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے اور یہی ایٹم اور ہائیڈروجن بم میں بنیادی فرق ہے۔ فیوژن کے عمل کے نتیجے میں فیژن عمل کی نسبت سینکڑوں گنا زیادہ نیوکلیئرتوانائی خارج ہوتی ہے اور تباہی بھی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہائیڈروجن بم بنانے کے لئے ایٹم بم کا ہوناضروری ہے جس کی وجہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ ہائیڈروجن بم کے لئے بہت زیادہ حرارت اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ صرف ایٹم بم کے دھماکے سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -