2016ءمیں تیل کی قیمتیں، ایسی پیشنگوئی سامنے آگئی کہ سب کو تشویش میں مبتلا کردیا

2016ءمیں تیل کی قیمتیں، ایسی پیشنگوئی سامنے آگئی کہ سب کو تشویش میں مبتلا کردیا
2016ءمیں تیل کی قیمتیں، ایسی پیشنگوئی سامنے آگئی کہ سب کو تشویش میں مبتلا کردیا

  

نیویارک(نیوزڈیسک)حالیہ دوسالوں میں تیل کی قیمتیںکم ترین سطح پر دیکھی گئی ہیں لیکن اب ایک ماہرنے یہ دعویٰ کیا ہے کہ 2016ءمیں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور کوئی بعید نہیں کہ یہ 80ڈالر فی بیرل کی سطح کو بھی چھولیں۔

بین الاقوامی نیوزایجنسی’رائٹرز‘کےBreakingviewsکے کالمسٹ اینڈی کریچلو کاکہنا ہے کہ اوپیک ممالک نے تیل کو انتہائی کم سطح پر فروخت کرنا شروع کیا ہوا ہے اور اس کا واضح مقصد امریکی اور یورپی شیل کمپنیوں کا دیوالیہ نکالنا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اب شیل گیس کمپنیوں کے لئے یہ گھاٹے کا سودا ہے کہ تیل کی قیمت 40ڈالر بیرل پر رہے کیونکہ اس طرح ان کمپنیوں کے لئے کسی بھی صورت چلنا ممکن نہیں۔تیل کی موجودہ قیمت پر ان کمپنیوں کا دیوالیہ نکل رہا ہے اور یہ بہت تیزی سے بند ہونے کی جانب گامزن ہیں۔بین الاقوامی ادارہ توانائی (آئی ای اے)کا کہنا ہے کہ صرف امریکہ میں شیل تیل کی پیداوار میں یومیہ چھ لاکھ بیرل کی گراوٹ آئے گی جس کی وجہ تیل کی کم قیمتیں ہیں،اس صورتحال کا اثر بین الاقوامی تیل کی قیمتوں پر بھی ہوگا۔اسی طرح شمالی سمندر میں بھی تیل کی پیداوار کم ہوگی ۔توانائی کی ماہر کمپنی Wood Mackenzieکا کہنا ہے کہ 85ڈالر فی بیرل سے کم قیمت پر تیل کی فروخت کسی بھی صورت شیل گیس کمپنیوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے اوراس کی وجہ سے 330آئل فیلڈز کے بند ہونے کا خطرہ ہے۔جب ان کمپنیوں کے بند ہونے سے تیل کی پیداوار میں کمی آئے گی تو خودبخود تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ اسی سال تیل کی قیمت ایک بار پھر 80ڈالر بیرل سے بھی تجاوزکرجائے۔

مزید :

بزنس -