پاک امریکا تلخی کا تجزیہ اور چند تجاویز!!

پاک امریکا تلخی کا تجزیہ اور چند تجاویز!!
 پاک امریکا تلخی کا تجزیہ اور چند تجاویز!!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امریکی دھمکیوں کا مل کر مقابلہ کرنے کے لئے تمام پارلیمانی جماعتیں متحد ہوگئیں۔ٹرمپ کے بیان پر متفقہ بیانیہ تیار کرنے کے لئے قومی سلامتی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں فوجی قیادت کو بلانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔دریں اثناء پاک فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی صدر کی سفارتی آداب سے عاری ٹویٹ اور اس کے بعد جاری دھمکیوں کے جواب میں دوٹوک اعلان کر دیا ہے کہ ’’پاکستان کسی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا۔ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، اگر کسی نے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے‘‘ ۔۔۔جبکہ اس متنازعہ اور شرمناک ٹویٹ کے ردعمل میں وفاقی کابینہ نے 30جنوری کے بعد افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے،جبکہ امریکی الزامات کوعوامی جمہوریہ چین اور ترکی نے یکسرمسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔دوسری جانب ریاستِ پاکستان اور پاکستانی قوم کو امریکی صدر کی متنازعہ اور غیر مناسب ٹویٹ سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں کے درمیان جو کشیدگی اور ٹکراؤ کی کیفیت تھی، وہ کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور سیاستدانوں کی تمام توپوں کا رخ امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف ہو گیا ہے۔ٹرمپ کے احمقانہ بیان کے خلاف پاکستان کی حکومت ، اپوزیشن ،افواجِ پاکستان، سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ایک پیج پر اور یک زبان نظر آرہے ہیں۔

یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف کوئی پہلی یا نئی زہر فشانی نہیں ہے، بلکہ امریکی صدر نے بر سر اقتدار آتے ہی پاکستان کے خلاف اپنے خبث باطن کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔پاکستان کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے تحریری اور نشریاتی بیانات اور الزام تراشیوں سے دونوں ملکوں کے تعلقات اور اعتماد سازی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ صرف پاکستان ہی کے لئے نہیں،بلکہ پوری دنیاکے امن کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔گزشتہ ماہ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر دنیا کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی جو کوشش کی ہے، اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر کے عزائم کچھ اچھے نہیں ہیں ۔ ان کی عقل سے عاری حرکتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ’’بندر کے ہاتھ استرا لگ گیا ہے‘‘ اور وہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ نومبر 2017ء میں ،جس طرح اپنی ایک انتہائی نامناسب اور شرمناک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’شمالی کوریا اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو امریکا چند گھنٹوں میں اسے نیست و نابود کر دے گا‘‘۔۔۔ اسی طرح امریکی صدرکی پاکستان کے خلاف حالیہ ٹویٹ ایک افسوسناک ، مایوس کن اور نامناسب ترین حرکت ہے، جس میں پاکستان کے لئے امن کا نہیں ،نفرت، دشمنی، جنگ ،تباہی اور بربادی کا پیغام موجود ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف یہ متنازعہ اور حقائق سے برعکس ٹویٹ کیوں کیا؟ اس سوال کا جائزہ لیا جائے تووجوہات کی فہرست بہت طویل ہے ،لیکن حالیہ چند ماہ میں پاکستان کی طرف سے ظاہر ہونے والے کچھ محرکات اہم ہیں۔

اس ٹویٹ کا ایک محرک یہ بنا کہ گزشتہ برس کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو خوش کرنے کے لئے کشمیر میں برسر پیکار کشمیریوں کی سب سے بڑی تنظیم حزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا،لیکن حکومت پاکستان نے نہ صرف اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، بلکہ مظفرآباد میں حکومت کی طرف سے سید صلاح الدین کا ریڈ کارپٹ پر استقبال کر کے عملاً بتادیا کہ پاکستان ہر قیمت پر کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ اخلاقی،سیاسی اور سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔اس ٹویٹ کا دوسرا محرک شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کے مطالبے پر حکومت پاکستان کا صاف انکار بنا۔تیسرا محرک امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریزیاں چھوڑ کرعوامی جمہوریہ چین کی طرف پاکستان کی مراجعت اور سی پیک جیسے تاریخ ساز منصوبے کو شروع کرنا بنا۔امریکی صدر کی ناراضگی کا چوتھا محرک افغانستان میں 16سال سے جاری لاحاصل جنگ میں امریکی ’’ڈو مور ‘‘ کے جواب میں پاکستان کی طرف سے ’’ نومور ‘‘ کا جواب بنا، جبکہ پانچوں اور تازہ محرک بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کے امریکی اعلان کے خلاف پاکستان کی بھر پور مخالفت اور جنرل اسمبلی میں کھل کر فلسطین کی حمایت بنا۔ان محرکات کے بعد امریکی جنونی صدر کا بس نہیں چل رہا کہ وہ کس طرح پاکستان کی گردن مروڑ کر اسے چیونٹی کی طرح مسل کر رکھ دے۔

ان نازک حالات اور ممکنہ امریکی اقدامات کی روشنی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت، استحکام، سلامتی، دفاع اور علاقائی و بین الاقوامی کردار کو متعین کرنے کے لئے از سرِ نو مربوط حکمت عملی اور نئی داخلی و خارجی پالیسیاں وضع کی جائیں۔ اپنی معیشت کو اپنے وسائل کی بنیاد پر استوار کرنا ، اس حکمت عملی اور نئی پالیسیوں کا بنیادی نکتہ ہونا چاہئے۔ قومی غیرت ، ملکی وقار اور سلامتی کے امور پر امریکا سمیت کسی ملک کے ساتھ کوئی نرمی یا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ عالمی برادری میں ایک فعال رکن کی حیثیت سے پاکستان کو کسی بھی ملک کے ساتھ غیر ضروری بگاڑ کی پالیسی نہیں اپنانی چاہئے، لیکن اتنی نرمی اور لچک بھی مناسب نہیں کہ کوئی ملک پاکستان کی عزت و سلامتی پر سوالیہ نشان لگانے کی جرأت کر بیٹھے۔ملک کو درپیش ان نازک حالات کے تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت ، قوت اور اہمیت، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور عوام کے درمیان مکمل اعتماد اور اتحاد سے مشروط ہے۔ اس میں رخنہ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش پاکستان سے غداری کے مترادف قرار دے دینی چاہئے۔ان حالات میں بھی اگر کوئی شخص یا جماعت اپنے مفادات کے تحت ملک میں عدم استحکام ، انتشار، افراتفری پھیلاتی ہے یادھرنا پالیٹکس کرتی ہے تو اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوجائے گا کہ کہیں اس شر انگیزی کے پس پردہ امریکا یا بھارت کی سازش یا فنڈنگ تو کار فرما نہیں ہے۔موجودہ حالات ہر سطح پر کڑی نگرانی کے متقاضی ہیں۔

علاوہ ازیں! امریکا نے دنیا بھر کے سامنے جو پاکستان کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے، اس کے ردعمل میں سول ملٹری لیڈر شپ کو مل کر امریکا کو سخت اور دو ٹوک جواب دینا چاہے۔ اس وقت پاکستان کے ساتھ امریکا کے چار معاہدے موجود ہیں ۔ ان میں پہلا معاہدہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں خفیہ معلومات کے تبادلے کا ہے۔ دوسرا کراچی بندر گاہ سے طور خم بارڈر تک لاجسٹک سپورٹ کا معاہدہ ہے۔ اسی روٹ کے ذریعے ہی افغانستان میں موجود اتحادی افواج کو سامانِ رسد او راسلحہ وغیرہ پہنچایا جا تا ہے۔ تیسرا معاہدہ پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا کے جہاز پاکستان کی فضا میں پرواز کرتے ہیں، لیکن پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے بیان کے مطابق فضائی حدود استعمال کرنے کے بدلے کسی قسم کے کوئی چارجز امریکا سے نہیں لئے جاتے۔ یہ بات بھی حیران کن اور تشویشناک ہے۔ امریکا اور پاکستان کے مابین چوتھا معاہدہ سمندری حدود کے استعمال کا ہے، جس کے تحت امریکا کا جنگی بحری بیڑہ ہر وقت پاکستان کی سمندری حدود میں موجود رہتا ہے۔موجودہ حالات تقاضا کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی ٹویٹ اور امریکی دھمکیوں کے جواب میں دونوں ممالک کے درمیان موجود یہ چاروں معاہدے ختم کرنے کی نہ صرف جوابی دھمکی دی جائے ،بلکہ ضرورت پڑنے پر ان معاہدوں کو بیک جنبش قلم منسوخ بھی کر دیا جائے۔ ایسی بے سر و پا دھمکیوں کا اس سے بہتر اور کوئی جواب نہیں ہو سکتا۔

مزید : رائے /کالم