اسلام اور اس کی عظیم اقدار!

اسلام اور اس کی عظیم اقدار!
 اسلام اور اس کی عظیم اقدار!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔ قرآن عظیم الشان میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر جو کوئی بھی دوسرا نظام زندگی اختیار کرے گا وہ اللہ کے نزدیک مردوداور مسترد ہوگا۔ اسلام اپنی ذات میں عظیم قوت اور شوکت رکھتا ہے۔ اسلام کا دعویٰ کرنے والے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ حقیقی اسلام ہمیشہ سے موجود رہا ہے اور موجود رہے گا۔ حقیقی اسلام دلوں کو فتح کرتا ہے، اس کی جملہ اقدار بھی اتنی مؤثر ہیں کہ وہ بھی اندھیروں میں روشنی بکھیرتی ہیں۔ قرآن بھی ایک زندہ معجزہ ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تو مرکز معجزات تھی۔ آپؐ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر اور آپؐ کی گفتگو سن کر بے شمار لوگ کفر کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آئے۔ سب سے اہم واقعہ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے قبول اسلام کا ہے، جو یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ کے معروف علماء میں سے تھے۔

عبداللہ بن سلّامؓ خود بیان کرتے ہیں کہ جب آپؐ کے چہرۂ انور پر میری پہلی نظر پڑی تو میں نے کہا: لیس الوجہ بوجہ کذّاب۔ یہ چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہے۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم پر اترنے والی وحی ربّانی کی تو اپنی ہی شان ہے۔ ظاہر ہے کہ خالق بے مثل ہے تو اس کا کلام بھی اسی کی طرح بے مثل ہے۔ جس قلبِ مصفّٰی پر یہ کلام نازل کرنے کا فیصلہ ہوا، وہ بھی ساری مخلوق میں یکتا ہے۔ اس کا کوئی مثل اور ثانی نہیں۔ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ اقدس سے نکلے ہوئے کلمات بھی اپنی تاثیرمیں بے نظیر ہیں۔ حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے آپؐ سے جو سب سے پہلا کلام سنا وہ اتنا جامع اور دل میں اتر جانے والا تھا کہ سبحان اللہ! وہ معجزہ نما کلام یہ تھا: اَیُّہَاالنَّاسُ! اَفْشُوا السَّلَامَ وَاَطْعِمُوا الطَّعَامَ وصِلُوْا الْاَرْحَامَ وَصَلُّوْا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِالسَّلَامِ۔ اے لوگو! آپس میں سلام کو عام کرو، (مستحقین، مہمانان اور احباب کو) کھانے کھلایا کرو، صِلہ رحمی کیا کرو، راتوں کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو اٹھ کر (تہجد کی) نماز پڑھا کرو، تم اس کے نتیجے میں سلامتی وعافیت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی، مسنداحمد)۔

کئی سال قبل جب راقم الحروف افریقہ کے ملک کینیا میں مقیم تھا تو وہاں دور دراز جنگلی ، صحرائی ، پہاڑی اور ساحلی علاقوں میں دعوت و تبلیغ کے لئے جانے کا موقع ملتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک دور دراز گاؤں میں جانا ہوا تو وہاں ایک مدرسہ دیکھا۔ اندر جانے پر ایک یورپی بزرگ نے استقبال کیا ۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ مدرسہ میں ایک یورپین مسلمان بطور معلم کام کر رہا ہے۔ جب ان سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ انھیں کسی مبلغ نے مسلمان نہیں کیا بلکہ ترکی کی سیاحت کے دوران ترکی کی مشہور تاریخی مسجد المعروف نیلی مسجد نے انھیں اسلام کی طرف راغب کر دیا، اس مسجد کی تعمیر دیکھ کر یہ یونانی سیاح مسلمان ہوگیا اور مائیکل سے عبداللہ بن گیا۔ اس نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اسلامی تعلیمات ایک مصری ڈاکٹر سے حاصل کیں اور پھر مصر سے ہوتا ہوا کینیا پہنچا۔ اب زندگی کا یہی مشن ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام کی طرف دعوت دی جائے اور جو اسلام قبول کریں انھیں تعلیماتِ اسلامی سے روشناس کرایا جائے۔

سکاٹ لینڈ (یو کے ) راچڈیل کے شہر میں ایک مسجد کا نام ترکی کی اسی مشہور و عظیم الشان تاریخی مسجد Blue Mosque کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ترکی کی مسجد تو خیر بہت خو ب صورت ہے۔ اس کی تعمیر میں بادشاہِ وقت کی ذاتی دلچسپی اور خصوصی ذوق کے ساتھ شاہی خزانے کے وسائل اور بہترین و مشاق ماہرینِ تعمیرات کی خدمات بھی حاصل تھیں۔ راچڈیل کی یہ مسجد بھی بہرحال بہت خوب صورت ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے آباد بھی ہے۔ تازہ ترین خبر جس نے اہل اسلام کے دلوں کو ٹھنڈا کردیا ہے اور اہل کفر اس سے تلملا رہے ہیں، حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔ اس خبر کے مطابق بھارت میں ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کرنے والے ہندوؤں میں سے کئی ایک اسلام کی آغوش میں آگئے ہیں۔ یہ ایمان افروز خبر جو پریس میں چھپ چکی ہے، قند مکرر کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

’’ممبئی (این این آئی) ایودھیا میں 25سال قبل 6دسمبر1992ء کو تاریخی بابری مسجد کی شہادت میں ملوث بلبیر سنگھ قبول اسلام کے بعد محمد عامر بن چکا ہے۔ محمد عامر صاحب روایتی نہیں، حقیقی مسلمان ہیں۔ حالت کفر میں کیے گئے اپنے اس فعل کے کفارہ کے طور پر انھوں نے 100مساجد تعمیر کرنے کا عزم کیا ہے اور اب تک 35مساجد تعمیر کراچکے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ بلبیر سنگھ بابری مسجد کی شہادت کے بعد اپنے ضمیر کے قیدی بن گئے تھے۔ انھوں نے دل میں ایمان کی شمع روشن ہونے کے بعد اپنے اس گناہ سے معافی مانگ لی۔ انڈین میڈیا کے مطابق محمد عامر کا تعلق ہریانہ کے علاقہ پانی پت کے ایک گاؤں سے ہے۔ ان کے خاندان نے ہجرت کرکے شہر کا رخ کیا۔ حال ہی میں انھوں نے بتایا کہ بچپن سے وہ آر ایس ایس کی مقامی شاخ سے وابستہ رہے اور پھر شیوسینا میں شمولیت اختیار کرلی۔ انھوں نے بتایا بابری مسجد پر ہتھوڑا چلانے کے ساتھ ہی ان کی بے چینی بڑھ گئی۔ اس دوران طبیعت مزید بگڑی اور دوستوں نے مسجد کی شہادت کے بعد پانی پت منتقل کیا۔

انھوں نے بتایا کہ میرے والد کو میری اس حرکت کا پتہ چلا تو انھوں نے گھر کے دروازے مجھ پر بند کر دیے اور کہا کہ ایک استاد کے بیٹے نے ایک غلط کام میں حصہ لیا، میرے دل کو کسی طرح سے چین نہیں تھا۔ میں نے دماغی حالت بگڑنے کے ڈر سے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اس نے مجھ پر واضح کر دیا کہ میری یہ بے چینی موت کا باعث بن سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت میں شامل ان کا ایک ساتھی پاگل ہوگیا تھا۔ محمد عامر نے بتایا کہ جب تمام امیدیں دم توڑ گئیں تو میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کرکے خود کو اسلام میں داخل کر لیا۔ 27کارسیوکوں نے میرا ساتھ دیتے ہوئے اسلام قبول کرلیا۔ (روزنامہ نوائے وقت، 4جنوری 2018)

آج دنیا میں اسلامو فوبیا نے ٹرمپ مودی اور ان جیسے متعصب اسلام دشمنوں کو پاگل کر رکھا ہے۔ وہ اسلام کے خلاف ہر روز زہر اگلتے ہیں۔ امت مسلمہ قیادت سے محروم اور اعلیٰ اخلاق و کردار سے دور ہے، لیکن اللہ کے گھر مساجد ،اس کا کلام قرآن عظیم الشان اور اس کے محبوب نبیؐ کی حیات طیبہ غالب و فاتح ہے۔ دشمن جتنی چالیں چل لیں، اللہ کا دین مغلوب نہیں ہوسکتا۔ آنحضورؐ نے فرمایا الاسلام یعلوولا یعلیٰ علیہ اسلام کا مقدر غلبہ ہے مغلوبیت نہیں۔

مزید : رائے /کالم