ذوالفقار علی بھٹو اور اصغر خان: ایک کی سالگرہ، دوسرے کی وفات!

ذوالفقار علی بھٹو اور اصغر خان: ایک کی سالگرہ، دوسرے کی وفات!
 ذوالفقار علی بھٹو اور اصغر خان: ایک کی سالگرہ، دوسرے کی وفات!

  

ذکر تو ایک اس ہستی کا مقصود تھا جو پاکستان کی تاریخ میں انمٹ نقوش چھوڑ کر رخصت ہوئے تھے کہ آج 5جنوری ان کی پیدائش کا دن ہے، سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو اس روز 1928ء میں سرشاہ نواز بھٹو کے ہاں لاڑکانہ میں پیدا ہوئے ایک بڑے لیڈر ہونے کی وجہ سے ان کی جماعت ان کی موت کے بعد بھی سالگرہ مناتی ہے اور 5۔ جنوری کو تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، گھر سے دفتر روانگی سے قبل ٹیلیویژن پر خبریں دیکھ رہے تھے کہ ایک اور تاریخ ساز ہستی کی خبر آگئی۔ اطلاع تھی کہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائیر مارشل (ر) اصغر خان طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے، یہ کیسا اتفاق ہے کہ ایک کی یاد پیدائش کے حوالے سے تھی تو دوسری ہستی اللہ کو پیاری ہونے کے سبب افسردگی لے آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ائیر مارشل (ر) اصغر خان کے حوالے سے ہمیں بہت کچھ یاد آتا ہے کہ ہم نے ہر دو حضرات کے ساتھ پیشہ ورانہ فرائض کے حوالے سے ڈیوٹی کی اور ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ جانتے ہیں، سچ پوچھئے تو ہم ہر دو کے مداح ہیں اور اس کے لئے حوالے اپنی اپنی جگہ مختلف ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو ایوب کابینہ سے مستعفی ہونے کے بعد سیاست میں آئے اور انہوں نے قوم کو ایک نئی سوچ دی، مروجہ نظام کو ہلا کر رکھ دیا، خارجہ محاذ پر نام کمایا اور بے شمار کارنامے انجام دے کر دنیا سے رخصت ہوئے، آج ملک کے جو حالات ہیں، خصوصاً پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے تو ان دونوں حضرات کا بھی گہرا تعلق رہا، بھٹو کی تو موت یا سزائے موت کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے’’گرے ہاؤنڈز‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش کے حوالے سے لکھنا مقصود تھا اس لئے گزشتہ روز ان سے متعلق کتابوں کی چھان بین کی، بے نظیر بھٹو کی خود نوشت ’’دُختر مشرق‘‘ کی ورق گردانی کی تو خود بھٹو کی تحریریں بھی پھر سے پڑھیں، اس حوالے سے ’’دختر مشرق‘‘ میں بے نظیر بھٹو کی تحریر ہے، اس میں وہ والد سے ایک ملاقات کا حال لکھتی ہیں کہ بھٹو کی سزائے موت کے بعد وہ ان سے ملاقات کے لئے گئیں، جو سخت پہرے اور نگہداشت میں ہوتی تھی، بی بی کے بقول اس روز بھی منکرنکیر ان کے سرپر تھے، بھٹو کو سزائے موت والی ایک مختصر سی کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا، ان کی بات چیت بند دروازے کے سلاخوں والے جنگلے کے آر پار ہوتی تھی کہ دروازہ کھول کر بھٹو کو ان کی پیاری بیٹی سے بھی ملنے نہیں دیا جارہا تھا، اس کے علاوہ پہرے دار وہ گفتگو بھی سن رہے تھے جو باپ بیٹی میں ہورہی تھی، بے نظیر بھٹو کے بقول جب ہم نے بتایا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی تو وہ سختی سے منع کرتے رہے، کہ کوئی فائدہ نہیں یہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے، بی بی کے مطابق ان کے اصرار پر بھٹو مان گئے اور پھر اپنے ہاتھ سے لکھے نکات پر مشتمل کاغذ کے چند ٹکڑے تھمائے جو انتہائی خفیہ عمل تھا اور یہ کچھ نکات تھے جو قانونی تھے اور اپیل میں معاون ہوسکتے تھے یوں جو اپیل سپریم کورٹ میں سنی گئی اس کے حوالے سے جو کہا گیا تھا وہی ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کی تو اس میں ایک مقام بھی بنایا، انتخابات ہوچکے تھے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ تھا، شیخ مجیب الرحمان اپنی جگہ بات منوانا چاہتے اور بھٹو کا اپنا موقف تھا یوں یہ سلسلہ اسی اختلاف کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، اس سلسلے میں بھی بے نظیر بھٹو کہتی ہیں کہ ان کے والد آئین سازی یا قانون سازی کے لئے اسمبلیوں سے باہر ایسا سمجھوتہ چاہتے تھے جس سے ملک کو کوئی نقصان نہ ہو، لیکن مجیب نہ مانے اور بالآخر ملک دولخت ہوا، باقیماندہ ملک ہی کا اقتدار ان کے حصے آیا اور بھٹو نے اپنی ذہانت اور محنت سے پھر سے پاکستان بنادیا، معیشت بنائی تو ملک کا نام بھی دنیا میں روشن رکھا۔۔۔ آج ذوالفقار علی بھٹو ہم میں موجود نہیں لیکن ان کی باتیں اور یادیں ہیں، اسی طرح ائیر مارشل (ر) اصغر خان بھی بہت مواد چھوڑ کر گئے وہ بہت بڑی شخصیت تھے، ہمیں یاد ہے کہ جب بھٹو کو گرفتار کیا گیا، راولپنڈی میں طلباء پر تشدد ہوا، ایسے وقت اصغر خان میدان میں اترے اور انہوں نے جمہوریت کا پرچم تھام لیا، یہ بھی یاد ہے کہ لاہور میں انہوں نے پہلی پریس کانفرنس پی سی (اس وقت انٹر کانٹی نینٹل) میں کی اور طلباء کے ساتھ ساتھ بھٹو کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، ان کے لہجے میں گرج اور اصرار تھا، چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایسے متعدد مظاہروں کی قیادت کی اور ایک سیاسی ہلچل پیدا کردی، اس وقت یہ قیاس آرائیاں ہوئیں کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔

اصغر خان (مرحوم) کی اپنی سیاست اور اپنا ذہن تھا اس کے مطابق وہ خود اپنے پروگرام کے مطابق ایک انقلاب کے داعی تھے، چنانچہ بھٹو کی رہائی کے لئے جدوجہد کرتے رہے وہ اپنی جماعت کے لئے راہ ہموار کرتے رہے جو پہلے جسٹس پارٹی کے نام سے وجود میں آئی اور پھر جلدی ہی یہ جماعت تحریک استقلال میں تبدیل ہوگئی اور ایک بڑی پارٹی بن گئی۔ ائیر مارشل (ر) اصغر خان دیانت دار اور بااصول شخص تھے ان امور پر ان کے ہاں لچک بھی نہیں تھی اور زندگی بھر وہ ایسے ہی رہے، تحریک استقلال نے بڑے بڑے نام دیئے ان میں محمد نواز شریف بھی شامل ہیں، جبکہ میاں منظور وٹو کی بھی سیاست اسی جماعت سے شروع ہوئی، ایک وقت تھا، میاں محمود علی قصوری اور ملک وزیر علی سمیت بڑے بڑے نام ان کی جماعت میں تھے، تاہم ان کے غیر لچکدار رویے نے جماعت کو مقبول عام جماعت نہ بننے دیا، ایک دور میں وہ بھٹو کی گرفتاری کے خلاف میدان میں نکلے تو دوسرا دور وہ بھی تھا، جب پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے بھٹو مخالف تحریک میں وہ سخت گیر اور انتہا پسندانہ موقف رکھتے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے فوج کے نام خط بھی لکھ دیا تھا اور پھر نوابزادہ نصراللہ کی محنت سے وہ دن بھی آیا جب ائیر مارشل اصغر خان ایک سیاسی اتحاد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ تھے اور آپس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کی اور پھر دور اقتدار میں بے نظیر مخالف بھی ہوئے، بڑی خوبیوں والے، اناپرست اور دیانت دار شخص تھے، آخری عمر گوشہ نشینی اور بیماری میں گزاری، اپنی جماعت انہوں نے تحریک انصاف میں ضم کردی تھی، اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔

مزید : رائے /کالم