ایران میں حکومت مخالف مظاہرے

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے
 ایران میں حکومت مخالف مظاہرے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

28دسمبر2017ء سے ایران میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ۔غیر جانبدارانہ اطلاعات کے مطابق ایران میں1979ء کے بعد کبھی اتنے بڑے مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافے، بے روزگاری، سماجی عدم مساوات،اور انتہائی محدود جمہوریت کے خلاف شروع ہونے والے یہ مظاہرے دیکھتے ہی دیکھتے27ایرانی صوبوں کے 52شہروں تک پھیل گئے۔ ان مظاہروں کا آغاز ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا ۔’’ مشہد‘‘ کو ایک طرح سے مذہبی اور انتہائی قدامت پسند شہر کہا جا تا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایران کے حکمرانوں کو 1979ء سے اس شہر سے سیاسی حمایت ملتی رہی ہے، مگر اس مرتبہ اس شہر میں بھی ایران کے مذہبی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بھرپور مظاہرے کئے گئے، جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔اسی طرح ’’قم‘‘جیسے مذہبی شہر میں بھی، جہاں سے ایرانی حکمران اپنے لئے روحانی اور مذہبی حمایت حاصل کرتے آئے ہیں ’’ علی خامنہ ای اقتدار چھوڑ دو ‘‘جیسے نعرے بلند ہوئے۔ایران میں ہونے والے یہ حالیہ مظاہرے اس لئے اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ اس مرتبہ یہ مظاہرے ایسے شہروں اور علاقوں میں ہورہے ہیں، جن کو ایران کے مذہبی حکمرانوں کا مضبو ط گڑھ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔دراصل ایران میں مظاہرے شروع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری اورمعاشی عدم مساوات کے خلاف کافی عرصے سے ایک فضا تیار ہورہی تھی،جبکہ مزید مہنگائی کا طوفان لانے والے بجٹ نے عوام کو مظاہرے کرنے پر مجبور کردیا۔

ایران کی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ایران میں ہونے والے ان مظاہروں کے پیچھے بھی 2009ء کے حکومت مخالف مظاہروں کی طرح امریکہ، سعودی عرب اور اسرائیل کا ہا تھ ہے۔اب یہاں پر بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا واقعی 2009ء کی طرح اس مرتبہ بھی یہ مظاہرے امریکہ ہی کی سازش ہیں یا پھر ان میں اندرونی عوامل کا بھی حصہ ہے؟کیا ان مظاہروں کی2009ء میں ہونے والے مظاہروں، جس کو ’’سبز انقلاب‘‘ قرار دیا گیا تھا،کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی مماثلت ہے؟۔۔۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ا مر یکی ادارہ’’ سی آئی اے‘‘ 1950ء کی دہا ئی سے لے کر تا حا ل ایک ایسی حکمت عملی پر عمل پیر ا ہے جس کے تحت امریکہ جس بھی ملک میں تبد یلی کا خو ا ہاں ہوتا ہے، وہ اس ملک کے حکمر ان طبقے میں سے اپنی پسند کے عنا صر کی د ر پر دہ حما یت شرو ع کر دیتا ہے ۔یہ امریکی نو ا ز سیا سی عنا صر منا سب موا قع ملتے ہی ایک طے شد ہ ا یجنڈے کے تحت ا پنے ملک میں ہڑتالیں ،مظا ہر ے ،اور جلسے جلوس شر و ع کر دیتے ہیں ۔ا پنی اسی کا میا ب حکمت عملی کو پو ر ا کر تے ہوئے امریکہ نے 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں عراق، ایران ،مصر، لبنان، پاکستان، انڈو نیشیا اور کئی لاطینی امریکی مما لک میں ا یسی تبدیلیاں کر وا ئیں ، جن میں ڈا کٹر مصد ق ،جما ل عبدلنا صر،عبدالکر یم قاسم، ذولفقار علی بھٹو،اور سوئیکار نو جیسے قو م پر ست حکمر ا نو ں کے خلا ف انہی ممالک کے چند مغر ب نواز عنا صر کے ذریعے احتجاج اور مظا ہر ے منظم کروائے گئے اور نتیجے کے طو ر پر ان تما م حکمرا نو ں کو نہ صرف اپنی حکمر ا نی سے محرو م ہو نا پڑا، بلکہ ان میں سے کئی راہنما ؤ ں کو اپنی جا ن سے بھی ہا تھ د ھو نے پڑے۔

کئی ایشیائی،لاطینی امریکی ،افریقی اور مشرقی یورپی ممالک (یوکرائن ، جارجیا وغیرہ) میں بر پا ہو نے والے نا م نہاد رنگ برنگے انقلابات برپا ہوئے جن کے نتیجے میں ان ملکوں میں امریکہ نواز حکو متیں قا ئم ہوئیںِ۔ ’’نیشنل انڈومنٹ فار ڈیمو کر یسی ‘‘ یا ’’ این ای ڈی‘‘ نامی ایک امریکی این جی او گزشتہ کئی سال سے اس سلسلے میں نہایت فعال کردار ادا کرتی آئی ہے۔ بظا ہر ’’ این ای ڈی‘‘ ایک خودمختار غیر حکومتی ادارہ ہے، مگر درحقیقت اس ادارے کو امریکی کانگر س سے سا لانہ لا کھوں ڈالرز مہیا کئے جا تے ہیں۔ 2004ء اور2005ء میں مشرقی یورپ کے کئی مما لک میں کامیاب ’’انقلابات ‘‘ کے بعد ’’این ای ڈی‘‘ نے ایران اور چین میں اپنی تمام توجہ مرکوزکئے رکھی۔ایران چونکہ 1979ء کے انقلا ب کے بعدسے امریکی پالیسیوں کا شدید ناقد رہا ہے۔خا ص طور پر احمدی نژاد کے اقتدار میں آنے کے بعد امر یکی عزا ئم کو شدید زک پہنچی۔ایران د نیا کے ان چند ممالک میں شا مل رہا ہے، جہا ں کی منڈی امر یکی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مصنوعات کے لئے مکمل طور پر بند ہے۔امریکی کمپنیاں عرب ممالک کے بر خلاف ایرانی تیل کے ذخائر سے بھی مکمل طور پر محروم رہیں۔ایرانی فوجی قوت مشرق وسطیٰ میں امر یکہ نواز عرب ممالک اور اسرائیل کے لئے ایک بڑا خطرہ رہی ہے۔ انہی وجو ہات کی بنا پر امریکا کی یہ شدید خواہش ہے کہ ایران میں فو ری طو ر پر تبدیلی کر کے امر یکہ نواز حکو مت قا ئم کی جائے۔جو شاہ ایران کی طرز پراس کے مفا دات کا خیا ل ر کھے۔اسی تناظر میں 2009ء میں ایرانی صدر احمدی نژاد کے خلاف چلنے والی تحریک میں اسی ’’این ای ڈی‘‘ نے بھر پور کردار ادا کیا۔

2009ء میں ایرانی سیاست پر نظر رکھنے والے کسی بھی تجز یہ نگا ر کے لئے یہ سمجھنا قطعی طور پر مشکل نہیں تھاکہ یہ تحر یک ناکام ر ہے گی ،کیونکہ پوری دنیا کے آزاد اخبا رات کے مطا بق اس تحریک میں صرف تہران کے چند پو ش علاقوں کے مغرب زدہ نوجوان اور متو سط طبقے نے، جو اپنی بقاء کے لئے ہمیشہ حکمران طبقا ت کا محتاج ہو تا ہے فعا ل کر دار ادا کیا تھا،حتی ٰکہ تہران کے اکثر علاقوں میں جہا ں عا م اور غریب افراد کی اکثریت مقیم ہے ،و ہا ں پر بھی اس تحریک کا کو ئی اثر نہیں تھا، جبکہ د یہی ایران تو مکمل طور پر اس تحریک سے لاتعلق رہا۔ایر انیوں کو معلو م تھاکہ امریکہ ان کے ملک کے لئے ایک سامراجی سوچ رکھتا ہے۔ امریکی سامراج ایران کے تیل، اس کی اہم جغرافیا ئی پوزیشن(افغانستان، پاکستان،عراق کا پڑ و سی ہو نے کے علاوہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنو بی ایشیا میں اس کا اثر و رسوخ)پر مکمل دستر س رکھنا چا ہتا ہے،اس لئے ایرانیو ں نے اس تحر یک میں امر یکی کٹھ پتلی بننے سے انکار کر دیا۔اب ایران کی اندرونی صورت مکمل طور پر مختلف ہے۔ایرانی صدر حسن روحانی جب 5سال پہلے اقتدار میں آئے تھے توان کا سب سے بڑا وعدہ یہی تھا کہ ایران میں عام آدمی کو معاشی وسائل میں حصہ دیا جائے گا۔۔۔ ’’ عام انسان تک معاشی خوشحالی‘‘ کے نعرے نے لاکھوں ٖغریب ایرانیوں کو حسن روحانی کا زبر دست حمایتی بنا دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ روحانی نے سیاسی حقوق دینے کی بھی بات کی تھی۔ روحانی یہ سب کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ایران میں مہنگائی اور بے روزگاری میں شدید اضافہ ہو رہا ہے، خود ایران کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ایران میں15سے29سال کے درمیان والی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 24فیصد سے بھی زائد ہوچکی ہے، جبکہ غیر جانبدار اطلاعات کے مطابق ایران میں بے روزگاری کی شرح 40فیصد کے لگ بھگ ہے۔

ایک طرف امارت تو دوسری طرف غربت ٖ کی انتہائیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ 2009ء کے برخلاف ایران کے چھوٹے شہروں دیہاتوں اور زنجان, توسرکان، ارک، ساوے،امول ساری اور کازون جیسے ایرانی علاقوں میں بھی حکومت اور نظام کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے۔ ان علاقوں کی اکثریت انتہا ئی غریب اور بنیادی حقوق سے محروم ہے۔یہ حقا ئق ثابت کر رہے ہیں کہ ایران کے عام لوگ اب معاشی وسائل کے حصول کے خواہشمند ہیں اور اگر ایران کے حکمران طبقات نے اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا تو ایران میں حقیقی انقلاب بھی برپا ہو سکتا ہے،تاہم یہاں پر اس بات کو مد نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کے حکمرانوں کے خلاف تحریک برپا کرنا اس ملک کے عوام کے اپنے شعور پر منحصر ہو تا ہے۔ حکمرانوں یا نظام کی تبدیلی کسی سامراجی طاقت کی امداد سے نہیں ،بلکہ اپنے دم پرہی کی جائے تو مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ امید ہے کہ ایران کے عوام اس حقیقت کو نظر انداز کئے بغیر اپنی لڑائی خود لڑیں گے اور غیروں کے دام میں نہیں آئیں گے۔ ایران کے عوام سامراج کے خلاف لڑنے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، کیونکہ وہ ایک ایسی شاندار تہذیب کے وارث ہیں جو صد یوں پہلے نہ سکندر اعظم کے سامنے جھکی اور نہ اب امریکہ کے سا منے جھکنے کو تیار ہے، کیو نکہ یہ عظیم تہذیب ہمیشہ سے اپنی انفرادیت پر نازاں ہے اور رہے گی۔

مزید : رائے /کالم