مقدمات کے جلد فیصلے کیسے ہو سکتے ہیں؟

مقدمات کے جلد فیصلے کیسے ہو سکتے ہیں؟

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مِسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین اور قانون ہمارے سامنے ہیں اس لئے کِسی سے ہدایت لینے کی ضرورت نہیں، پروفیشنل ازم کی روشنی میں عدلیہ اپنا کام کرتی ہے اور مضبوط ادارے مستحکم پاکستان کی علامت ہیں، اُن کا کہنا تھا کہ عدلیہ میں اصلاحات لا رہے ہیں اور انفراسٹرکٹر مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ لوگوں کو جلد انصاف میّسر آ سکے، ججوں اور وُکلا کی اصل طاقت عِلم ہے، انہیں سیاست اور سیاسی معاملات سے الگ رہنا چاہئے۔ پنجاب میں 62 ہزار کی آبادی کے لئے ایک جج مُیّسر ہے کیس مینجمنٹ کو بہتر کرنا اوّلین ترجیح ہے، سفارشی تبادلوں پر قدغن لگی اور ججوں کے مسائل حل ہوئے ہیں، وہ وزیر آباد میں نوتعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح کر رہے تھے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ جب سے اس منصب پر تعینات ہوئے ہیں انہوں نے نظامِ انصاف میں بہتری لانے کے لئے مسلسل کوششوں کا آغاز کر رکھا ہے، اُن کی کوشش ہے کہ مقدمات کا جلد سے جلد فیصلہ ہو اور ججوں کے فیصلے قانون کی نظر میں اتنے جامع اور ٹھوس ہوں کہ اعلیٰ عدالتوں تک انہیں بدلنے یا برعکس فیصلے دینے کی نوبت نہ آئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لوئر کورٹس کے بُہت سے فیصلے ایسے ہیں جو ہائی کورٹس اور سُپریم کورٹ میں عدل و انصاف کے معیار پر پورے نہیں اُترتے، جن ملزموں کو سزا ہوتی ہے وہ ہائی کورٹس یا سپریم کورٹ میں اس لئے بری ہو جاتے ہیں کہ فیصلہ کرتے وقت بُہت سے قانونی پہلوؤں کو یا تو نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا پھر اُن میں بُہت سے جھول رہ جاتے ہیں۔ اس لئے جناب چیف جسٹس کی یہ خواہش اور کوشش بھی ہے کہ لوئر جوڈیشری کے جج اپنی پروفیشنل قابلیت اور صلاحیتّ کا معیار اتنا بلند کر یں، اور ایسا ٹھوس فیصلہ لکھیں کہ اس میں ردّوبدل یا اسے سرے سے تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو، اس مقصد کے لئے جوڈیشل اکاڈمی میں تربیتی کورسز کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

جناب چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 60 ہزار لوگوں کے لئے ایک جج ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوئر جوڈیشری میں ججوں کی کمی ہے، اور روزانہ کے حساب سے اتنے زیادہ مقدمات سماعت کے لئے شیڈول کئے جاتے ہیں جن سب کو سننا ممکن نہیں ہوتا، نتیجہ یہ ہے کہ ہزاروں مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت ہی مُمکن نہیں ہوتی اور بغیر سماعت یہ اگلی تاریخوں پر مُنتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اُنہوں نے اس سے پہلے بھی ایک تقریب میں کہا تھا کہ پنجاب کی عدالتوں میں -11لاکھ مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان میں بُہت سے ایسے بھی ہوں گے جن کی سزائیں زیادہ سے زیادہ دو چار سال ہوں گی لیکن ان میں ملوث ملزمان سال ہا سال سے جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے مقدمات کی الگ سے ایک فہرست مرتب کر لی جائے جن کے جرائم کی سزائیں پانچ سات سال ہوں اور اگر تین چار سال سے لوگ ایسے مقدمات کی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں ہیں تو کوئی ایسا سِسٹم وضع کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کی رہائی ممکن ہو سکے کیونکہ جتنی سزا ان لوگوں کو ملنے کا امکان ہے اتنی تو وہ پہلے ہی بغیر سماعت بھگت چُکے ہیں۔

مقدمات کی سماعت میں تاخیر کی ایک وجہ وکیل بھی ہیں، وہ کِسی دوسری عدالت میں مصروف ہوں تو اُن کا مُنشی اگلی تاریخ لے لیتا ہے۔ عام طور پر دیوانی مقدمات میں لمبی تاریخیں پڑتی ہیں اور ملزمان جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ دیکھنے میں آئی ہے وُکلا کو مرضی کی تاریخ نہ ملے تو وہ ہنگامہ آرائی پر اُتر آتے ہیں، زیریں عدالتوں میں ہونے والے ہنگاموں کی اگر فہرست مرتب کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ آخر ہنگامہ ہوا کیوں تھا تو یہی معلوم ہوگا کہ کِسی وکیل کی مرضی کا فیصلہ نہیں ہوا یا اُسے مقدمے میں ایسی تاریخ نہیں ملی جو وہ چاہتے تھے تو ہنگامہ کر دیا گیا اور نوبت جج کے ساتھ انتہائی بدتمیزی تک پُہنچی۔ یہاں تک کہ وکیل، جج کو کمرہ عدالت کے اندر بند کرکے باہر سے تالا لگا کر اِدھر اُدھر ہو گئے اور مسئلے کو نپٹانے کے لئے خود جناب چیف جسٹس کو مداخلت کرنا پڑی۔ بعض ہنگامے تو اتنے زیادہ پھیل جاتے ہیں کہ ان کی صدائے بازگشت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک سُنی جاتی ہے۔ ایسے ہی روّیوں کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اگر راستے میں کِسی وکیل کا ٹریفک سارجنٹ چالان کر دے تو وہ عدالت پُہنچ کر وکلاء کو ساتھ ملا کر ہڑتال کرا دیتا ہے اور ایسی ہڑتالیں بعض اوقات طویل بھی ہو جاتی ہیں جس کا منفی اثر مقدمے پر پڑتا ہے اور مقدمے کے فریق بُری طرح متاثر ہوتے ہیں، ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ غریب سائلین کے لواحقین ادھار مانگ کر کرایہ خرچ کرکے عدالت پُہنچے تاکہ اپنے سائل کی شکل ہی دیکھ سکیں لیکن ہڑتال کی وجہ سے ملزموں کو جیل سے لانے والی گاڑی اِس طرح واپس چلی گئی اور لواحقین کا ارمان پورا نہ ہو سکا۔ جوں جوں مقدمہ طویل ہوتا ہے غریب سائلین پر اس کا منفی اثر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جتنی تعداد میں جج عدالتوں میں درکار ہیں غالباً اتنے جج دستیاب بھی نہیں ہوتے کیونکہ ہر سال ایک محدود تعداد میں ہی جج امتحان پاس کرکے عُہدوں پر مُتعیّن ہوتے ہیں، ججوں کی کمی پوری کرنے کے لئے ایک کریش پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ضرورت کے مطابق جج دستیاب ہو سکیں۔

مقدمات کے جلد فیصلوں کا ایک ذریعہ مصالحتی نظام بھی ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ بُہت ہی معمولی نوعیت کے مقدمات بھی عدالتوں میں پُہنچ جاتے ہیں جو پنچایتی نظام میں بڑی آسانی سے نپٹائے جا سکتے ہیں، کوئی ایسا نظام ضرور وضع ہونا چاہئے کہ معمولی مقدمات عدالتوں میں جا ہی نہ پائیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں بھی آج کل ایسے مقدمات کا رحجان دیکھنے میں آ رہا ہے جو قانون کی نظر میں زیادہ جاندار نہیں ہوتے لیکن وُکلا کا ایک گروہ ہر روز ایسا کوئی نہ کوئی مقدمہ دائر کر دیتا ہے، بعض وُکلا کی شہرت اس سلسلے میں مقدمات کی نوعیت بھی واضح کر دیتی ہے۔ اس طرح عدالتوں کے فاضل ججوں کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے جس سے کام لے کر دوسرے اہم مقدمات نپٹائے جا سکتے ہیں، کوئی ایسا طریقِ کار ضرور وضع ہونا چاہئے کہ وکیل میرٹ کے بغیر کوئی مقدمہ عدالت میں لے جا ہی نہ سکے کیونکہ اس وقت جو طریقِ کار موجود ہے وہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ چیف جسٹس کی جانب سے ججوں اور وُکلا کو یہ تلقین بُہت ہی برمحل اور مناسب ہے کہ علم ہی اُن کی طاقت ہے اس لئے وہ اپنے عِلم میں اضافے کے لئے بھی چوبیس گھنٹوں میں سے کچھ وقت نکالیں، جو وقت ہڑتالوں وغیرہ پر صرف ہوتا ہے وہ آسانی سے اس کام کے لئے نکالا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /اداریہ