سیف سٹی پروگرام کا افتتاح!

سیف سٹی پروگرام کا افتتاح!

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے لاہور میں سیف سٹی پروگرام کا افتتاح کر دیا، جس کے مطابق اب تک لاہور میں آٹھ ہزار سی۔سی۔ٹی۔وی کیمرے نصب کئے جا چکے ہیں، یہ سب جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں۔ ان کے ذریعے کاروں کی نمبر پلیٹ تک پڑھی جا سکے گی اور اس نظام ہی کے تحت جرائم کی روک تھام کے علاوہ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کا بھی سِدباب ہوگا کہ ای۔چالان کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ان کیمروں سے خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کے نمبر کے ذریعے چالان کرکے متعلقہ شخص سے جرمانہ وصول کیا جا سکے گا۔ ہماری اطلاع کے مطابق یہ سیف سٹی پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے، جس سے شہر کے اہم علاقوں کی کوریج ممکن ہو گئی اور جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ابھی اس کی مزید توسیع باقی ہے اور بالآخر پورے ضلع میں چوالیس ہزار کیمرے نصب کئے جا سکیں گے۔ سیف سٹی پروگرام واقعی مفید ہے، دنیا بھر میں اس نوعیت کے نظام کام کر رہے ہیں اور تجربے سے ثابت ہوا کہ یہ واقعی بہت مفید ہے۔ اس کی تعریف کرتے ہوئے توقع کرنا چاہئے کہ یہ حقیقی معنوں میں کارکردگی ثابت کرے گا اور جرائم میں کمی ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کی خدمت میں بعض گذارشات بھی مقصود ہیں، بعض حضرات کی طرف سے یہ شکایت موصول ہوئی کہ کئی مقام ایسے ہیں جہاں ابھی تک کیمروں کی تنصیب کا کام مکمل نہیں ہوسکا، اسی طرح ٹھیکیدار نے جو کھدائی کی اس کی مرمت نہیں کی گئی اور گڑھے موجود ہیں۔ مرکزی سڑکوں سے چھوٹی سڑکوں تک تار بچھانے کے لئے جو روڈ کٹ لگائے گئے تھے ان کی مرمت نہیں کی گئی۔ ٹھیکیدار ایل۔ڈی۔اے اور متعلقہ ٹاؤن میونسپل اداروں کو مرمت کی پیشگی ادائیگی کا دعویدار ہے جبکہ دونوں محکمے لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے میں دو ملاؤں میں مرغی حرام والی بات ہے اور سڑکوں کے کٹ اور گڑھے موجود ہیں۔ محکمانہ غفلت اور ذمہ دار شعبوں کے ملازمین کی لاپرواہی کا نوٹس لیا جانا بھی ضروری ہے، توقع کرنا چاہئے کہ اس مفید تر منصوبے میں جن جن حضرات نے غفلت کی یا غلط رپورٹ مہیا کی، تحقیق کے بعد ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزیراعلیٰ کی دلچسپی اور پنجاب سپیڈ کے عمل سے یہ توقع بے جا نہیں کہ پورا منصوبہ بھی جلدی مکمل کر لیا جائے گا اور پورا ضلع محفوظ ہو جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ