تحریک آزادی کشمیر اورقاضی صاحبؒ !

تحریک آزادی کشمیر اورقاضی صاحبؒ !

پروفیسر خورشید احمد

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدؒ کو ہم سے بچھڑے پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یہیں کہیں ہمارے آس پاس موجود ہیں،قاضی صاحب ؒ کی وفات نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ پوری پاکستانی قوم، دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں، خصوصاً اہل کشمیر کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ کشمیر میں جہاد کا آغاز ہوا تو بھارتی میڈیا نے دن رات قاضی صاحبؒ کو کوسنا شروع کردیا ،روزانہ دعوے کئے جاتے کہ آج قاضی حسین احمد ؒ نے کشمیر میں ’’گڑ بڑپھیلانے ‘‘ کیلئے اتنے پیسے بھیج دیئے۔۔۔اتنا اسلحہ بھیج دیا ۔۔۔۔اتنے اگروادی بھیج دیئے ۔ جب جنرل پرویز مشرف کے دور میں سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان دوستی بس کا اجراء ہوا تو مشرف حکومت کی شدید خواہش تھی کہ گیلانی صاحب دوسرے کشمیری لیڈروں کے ہمراہ پہلی بس میں بیٹھ کر مظفر آباد آئیں اور ان نمائشی اقدامات کی توثیق کریں، جو دونوں حکومتیں حالات کو ’’معمول‘‘ پر لانے کے لیے کر رہی ہیں۔ حکومت پاکستان نے حزب المجاہدین کی قیادت اور جماعت اسلامی کے رفقاء کے ذریعے بھی گیلانی صاحب پر دباؤ ڈلوایا کہ وہ پاکستان آنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اگرچہ گیلانی صاحب کی پاکستان آمد کے حق میں ٹھوس دلائل تھے، لیکن گیلانی صاحب محسوس کر رہے تھے کہ یہ ایک منافقانہ کھیل ہے جس سے تحریک آزادی کو فائدہ پہنچنے کے بجائے الٹا نقصان ہو گا، اس لیے انھیں اس کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ جب قاضی صاحب کو معلوم ہوا کہ گیلانی صاحب دوستی بس کے ذریعے پاکستان نہیں آنا چاہتے تو انہوں نے جماعت اسلامی کے رفقاء کو ہدایت کی کہ وہ گیلانی صاحب کو پاکستان آنے پر مجبور نہ کریں، وہ تحریکِ آزاد�ئ کشمیر کے تقاضوں کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ خود قاضی صاحب بھی مسئلہ کشمیر پر کسی مداہنت کے قائل نہ تھے۔ وہ گیلانی صاحب کو تحریک آزادی کا حقیقی ترجمان اور قائد سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔گیلانی صاحب بتاتے ہیں کہ جب ان پر زیادہ پابندیاں نہ تھیں اور بھارت نے انھیں حج پر جانے کی اجازت دی تھی تو ارضِ پاک میں قاضی صاحب سے ان کی کئی ملاقاتیں ہوئیں کیونکہ وہ بھی حج پر آئے ہوئے تھے، اس طرح دونوں قائدین نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور تحریک آزادی کے احوال و کوائف پر تفصیل سے بات چیت کی اور اس کے بعد مسلسل رابطے میں رہے۔

87 ء میں جب قاضی صاحب نے امارت سنبھالی تو مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد آزادی کی راہ ہموار ہو چکی تھی اور کشمیر کے نوجوان محسوس کر رہے تھے کہ پرامن جدوجہد کے ذریعے بھارت سے اپنا حق منوانے کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں اور بھارت کی قابض افواج نے مقبوضہ علاقے میں ظلم کی انتہا کر دی ہے، اس لیے مسلح جدوجہد کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ وہ افغانستان میں جہاد کے سبب سوویت یونین کو گھٹنوں کے بل گرتے دیکھ چکے تھے، مقبوضہ کشمیر میں بھی کشمیری نوجوانوں کی اکثریت جہاد کے حق میں تھی۔ چنانچہ ضروری ہوم ورک کے بعد مقبوضہ علاقے میں جہاد شروع ہوا تو حکومت پاکستان نے بھی اس کی تائید کی اور پاکستانی نوجوان بھی جہاد کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ جماعت اسلامی نے قاضی صاحب کی قیادت میں جہادِ کشمیر کی بھرپور حمایت کی۔

قاضی صاحب اپنی ذات میں خود مجاہد تھے۔ باطل کے خلاف جہاد کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور شہادت کی تڑپ انہیں بے چین کیے رکھتی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں جہاد کا غلغلہ بلند ہوا تو قاضی صاحب دل و جان سے اس کے پشتیبان بن گئے۔ دامے، درمے،سخنے ہر اعتبار سے مجاہدین کشمیر کی مدد کو اپنا وظیفہ بنا لیا۔ ان کا بس چلتا تو وہ خود بھی ہتھیار بدست ہو کر دشمن سے جا بھڑتے اور اپنے سینے پر تمغہ شہادت سجا لیتے، لیکن قدرت نے انہیں سیاسی و سفارتی محاذکیلئے چناتھا۔ اس محاذ پر انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں کھپا دیں۔ قاضی صاحب کی رہنمائی میں متعدد جہادِ کشمیر کانفرنسیں منعقد ہوئیں، پاکستان میں بھی اور آزاد کشمیر میں بھی۔ ان کانفرنسوں میں قاضی صاحب کا خطاب کلیدی ہوا کرتا تھا جسے سننے کے لیے نوجوان چاروں طرف سے امڈ آتے تھے اور قاضی صاحب کے حق میں نہایت پرجوش نعرے لگاتے تھے۔ جہادِ کشمیر کا جو سیاسی مورچہ قاضی صاحب نے پاکستان میں سنبھال رکھا تھا، وہی مورچہ سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر میں سنبھالے ہوئے تھے۔ وہ قاضی صاحب کی طلب کردہ جہادِ کشمیر کانفرنسوں میں ٹیلی فونک خطاب فرماتے اور نوجوانوں میں شہادت کی لگن پیدا کر دیتے تھے۔ اس طرح دیکھا جائے تو دونوں قائدین جہادِ کشمیر میں نوجوانوں کے دوش بدوش حصہ لے رہے تھے۔ آج قاضی صاحب دنیا میں نہیں تو سید علی گیلانی خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

*۔۔۔*۔۔۔*

مجاہدِ ملت قاضی حسین احمد ؒ

تحریر : چوہدری محمد اسلم سلیمی

سابق نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان

قاضی حسین احمد سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان ہر دلعزیز مجاہد ملت،کروڑوں مسلمانوں کے محبوب قائد اور پوری ملت اسلامیہ کے عظیم المرتبت رہنماتھے۔ ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ ، اقامت دین کی بھرپور جدوجہد ، اتحاد امت ، وطن عزیز میں قانون کی بالادستی و حکمرانی اور دنیا بھر میں جہاد کی پشتیبانی کے لیے وقف تھی ۔ وہ ہر وقت مستعد اور متحرک رہتے تھے ۔ اپنی صحت اور آرام کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے ۔ مختلف عوارض اور امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ دعوتِ حق پیش کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بائیس سال تک جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کی ذمہ داری بحسن و خوبی ادا کی۔ جب وہ اپنے گھٹنوں کی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت محسوس کرنے لگے تو انہوں نے 2009ء میں منصب امارت کے نئے انتخاب کے موقع پر ملک بھر کے ارکان جماعت سے امارت کی ذمہ داریوں سے معذرت کرلی اور امارت کے منصب سے ریٹائرہوگئے تھے تو یہ کہاکرتے تھے کہ میں منصب امارت سے تو ریٹائرہوگیاہوں لیکن دعوت الی اللہ کے کام سے فارغ نہیں ہوا۔ یہ کام تومیں آخری سانس تک کرتارہوں گا۔ اُن کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور اپنی زندگی کے آخری ہفتے میں سانس کی بیماری میں چند روز مبتلا رہنے کے بعد جب انہیں قدرے افاقہ ہوا تو پشاور سے اسلام آباد آنے سے پہلے انہوں نے محترم امیرجماعت سیدمنورحسن صاحب سے لاہور فون پر بات کی کہ میں اب ٹھیک ہوگیاہوں اور اسلام آباد روانہ ہورہاہوں تو محترم امیرجماعت نے انہیں کچھ دن آرام کرنے کامشورہ دیا لیکن آرام کا لفظ قاضی حسین احمد کی لغت میں موجودہی نہیں تھا۔

میرا قاضی حسین احمد ؒ سے تعلق 70 ء کی دہائی میں قائم ہوگیاتھا جب میں مرکز جماعت میں ذمہ داری ادا کررہاتھا۔ قاضی صاحب پہلے پشاور شہر کے امیرمنتخب ہوئے پھر کچھ عرصے بعد وہ صوبہ کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری پر فائز ہوئے اور پھر امیرصوبہ منتخب ہوئے ۔ 1978ء میں جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری اداکرنے کے لیے پشاور سے منصورہ لاہور منتقل ہوئے تو مجھے نو سال تک اُن کے ساتھ ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ 1987ء میں وہ امیرجماعت اسلامی پاکستان منتخب ہوئے تو انہوں نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے مجھے سیکرٹری جنرل مقرر کردیا۔ اس کے بعد 1992ء سے لے کر 2009ء تک سترہ سال میں اُن کے ساتھ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی حیثیت سے کام کرتارہا۔چالیس سالہ تعلقات کے دوران میں نے انہیں ان تھک ، سراپا حرکت اور جرأت مند، ہردلعزیز قائد ،ایک نہایت شفیق اور مہربان بھائی، اُمت مسلمہ کا مخلص ہمدرداور دنیا بھر میں جہاد کا پشتیبان پایا۔1979ء میں افغانستان جہاد کے آغاز سے لے کر روسی فوجوں کے انخلاء تک قاضی حسین احمد صاحب جہاد افغانستان کے مکمل پشتیبان رہے ۔ اور مختلف جہادی تنظیموں کے سربراہوں کے درمیان باہمی اختلافات کو دور کرانے کی کوشش بھی کرتے رہے۔

قاضی حسین احمد میرے انتہائی شفیق بھائی تھے ،ہمارے خاندانوں کے درمیان محبت والفت کے تعلقات قائم رہے۔ ان کی بیٹیاں میری بیٹیوں کی بہنوں کی طرح ہیں اور میرا ایک بیٹاقاضی صاحب کے بیٹے ڈاکٹر انس فرحان قاضی کا گہرا دوست ہے۔ میرے دوبیٹوں اور ایک بیٹی کا نکاح انہوں نے پڑھایاتھا۔ مجھے تین جنوری کو معلوم ہواکہ ان کی طبیعت ناساز ہے ۔ میں نے 4 جنوری کو فون کرکے عیادت کی تو معلوم ہواکہ انہیں سانس کی تکلیف سے افاقہ ہے۔ میں ان کی مکمل صحت یابی کے لیے پانچ جنوری کی نماز عشاء تک دعائیں کرتارہا۔ اُسی رات نصف شب کے بعد یہ افسوسناک اطلاع مل گئی کہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

6جنوری کو صبح آٹھ بجے پشاور کے لیے روانہ ہوا۔ ان کی نماز جنازہ سے پہلے میں محترم امیرجماعت اور قیم جماعت کے ساتھ اُن کے جسد خاکی کے ساتھ کھڑا تھاتو سوچ رہاتھاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد برحق ہے کہ ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ o وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِِکْرَامِ (الرحمن۵۵:۲۶۔۲۷)۔میرے دل میں یہ خیال آرہاتھاکہ اللہ کا یہ بندہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک اقامتِ دین کی جدوجہد میں مصروف رہا ۔ دعوت الی اللہ کے کام سے کبھی فارغ نہ ہوا ۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابدی نیند سوگیا اور اب قیامت تک آرام کرتارہے گا۔

اللہ تعالیٰ قاضی صاحب کی عمر بھر کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے ،ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے ،آمین۔

قافلہ حجازکا حسین

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

(دختر: قاضی حسین احمدؒ )

آغا جان کو ہم سے رخصت ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں ، ان پانچ سالوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب آغا جان کی کوئی بات ، کوئی جملہ ، کوئی قہقہہ یا کوئی مسکراہٹ آس پاس چمک نہ رہی ہو ۔ میں ہر روز چشم خیال سے اُن کا شفیق مسکراتاہوا چہرہ دیکھتی ہوں اور اُن کی روشن خوبصورت آنکھیں اور محبت سے لبریز لبوں سے اپنے لیے زندگی کی راہنمائی لیتی ہوں ۔ مجھے اُن کے مضبوط کاندھے ہمیشہ اپنے سامنے اپنی ڈھال بن کر دکھائی دیتے ہیں ، جن سے گزر کر کوئی مشکل کبھی مجھ تک پہنچی ہی نہ تھی ۔ اُن کا وہ مخصوص انداز جس میں وہ ہمیں اپنے شفیق سینے میں چھپا کر ماتھے اور گالوں پر بوسہ دے کر ایسے چمٹاتے تھے کہ روح تک محبت اور حفاظت کے احساس سے سرشار ہوجاتی تھی ۔ میرے آغا جان محبت فاتح عالم کے سارے گر جانتے تھے اور انہوں نے اس محبت کے اظہار میں کبھی بھی بخل سے کام نہ لیاتھا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک روایت کے مطابق عورت حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیداہوئی ہے ۔ پسلی بازو کے نیچے اور دل کے قریب ہوتی ہے۔ جس عورت کو محبت اور حفاظت کے حصار مل جائیں وہ ہر ناممکن کام کو ممکن بنالیتی ہے۔ میرے آغا جان نے اپنی زندگی میں آنے والی ہر عورت اور ہر عورت کے ہر روپ کو محبت اور حفاظت کے ان حصاروں سے نوازا۔ وہ ہماری دادی جان کے سب سے چھوٹے لاڈلے بیٹے ، 5بہنوں کے سب سے چھوٹے بھائی ، 2بیٹوں کے بہت ہی شفیق باپ اپنی دونوں بہوؤں کے انتہائی عزیز آغا جان اور ہماری پیاری امی کے نصف صدی کے ہم سفر تو تھے ہی مگر وہ اپنے اتنے بڑے خاندان کی سینکڑوں عورتوں کے آغا جان اور اپنی جماعت کی ہزاروں کارکنان کے قاضی صاحب بھی تھے جن سے ہمیشہ وہ شفقت اور محبت سے ملے ۔ میں نے انہیں زندگی بھر کسی بھی عورت سے بدتہذیبی سے پیش آتے ہوئے نہ دیکھا ۔ اپنے گھر میں کام کرنے والی خواتین کے وہ ہمیشہ سے شفیق باپ بن کر رہے جن کی ضرورتوں کو پورا کرنا اُن کا فرض اولین تھا اور آج پانچ سال ہوگئے ہیں ۔ سب اُن کو ایسے ہی اپنے قریب پاتے ہیں کہ کسی دورے پر گئے ہیں اور ابھی آجائیں گے ، ابھی دروازے پر اُن کی مخصوص دستک ہوگی اور اُن کے گھر میں داخل ہوتے ہی جیسے عید کا سماں بن جائے گا ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتاکہ وہ اپنا ہر ہر لمحہ کتنے بھرپور طریقے سے گزارتے تھے کہ لگتاتھاکہ ایک ایک پل میں وہ صدیاں گزار کے گئے ہیں ۔ اُن کے اوقات میں اللہ نے کوئی خصوصی برکت ڈال رکھی تھی ۔ انہوں نے تمام مردوں ،لیڈروں یا مذہبی رہنماؤں کی طرح رعب داب والی گھریلو زندگی نہیں گزاری بلکہ وہ اپنے ساتھ محبت ، حفاظت ، آسائش اور راحت کا جان فزا احساس لیے ہمارے پاس آئے۔ ہمارے ہر مسئلے کا حل اور ہر تکلیف کا علاج اُن کے ایک جملے میں موجود تھا کہ ’’بس فکر نہ کرو یہ کون سی اتنی بڑی پریشانی ہے ۔ ‘‘اُن کے چہرے کی ایک مسکراہٹ اور اُن کے تسلی کے دو بول ہمارے سارے درد کا درماں بن جاتے ۔ اس پورے عرصے میں کسی بھی روز یہ ممکن نہ ہوا کہ ہم سب کہیں بیٹھے ہوں اور اُن کا تذکرہ نہ ہوا ہو ۔ اُن کی خوشبو جیسی یادیں ہمیں آبدیدہ نہ کردیں ۔ اُن کے ساتھ گزارے گلاب جیسے لمحات ہمیں فکرِ خیال میں اُن کے پاس پہنچا نہ دیں۔

میرے آغا جان ایک شجر سایہ دار بھی تھے اور عزم وہمت کی چٹان بھی ۔ میں نے اپنے آغا جان کو جماعت اسلامی کے ایک عام سے کارکن سے قائد تک کا سفر طے کرتے ہوئے دیکھا ۔ میں اپنے کارکن آغا جان کو پوسٹر لگاتے ہوئے ،نعرے بلند کرتے اور اسٹیج سجاتے ہوئے دیکھتی ہوئی بڑی ہوئی ، میں نے انہیں الخدمت کے ٹرکوں کے ساتھ مزدوروں کی طرح دور دراز دیہات میں سامان تقسیم کرنے کے لیے جاتے بھی دیکھا اور لاکھوں کے مجمع میں اونچے اسٹیجوں سے وقت کے طاغوت کو للکارتے ہوئے بھی سنا۔ حلقۂ یاراں میں انہیں ریشم کی طرح نرم، سمندر کی طرح وسیع، شفقت سے معاف کردینے والا، اپنوں کے درد پر تڑپ اٹھنے والا ، محبت سے چمٹا کر بوسہ دینے والابھی پایا اور رزم حق وباطل میں آہنی اعصاب والے قائد کی حیثیت سے بھی دیکھا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر ہردم مستعد ، قرون اولیٰ کے کسی لشکر کا مجاہد بھی پایا اور مڑنے نہیں موڑ دینے ، دبنے نہیں دبا دینے اور جھکنے نہیں جھکا دینے کی صلاحیت رکھنے والا بے باک وجی دار لیڈر بھی پایا ۔ افغانستان میں برستی گولیوں سے لے کر بوسنیا کے جنگی میدانوں تک میرے آغا جان مجھے جب بھی ملے صف اول میں ملے۔ یہی نہیں اُن کے بدترین مخالف ، ان پر زبان طعن دراز کرنے والے بھی جب ان کے اوصاف اور اُجلے کردار کی بات کرنے پر آئے تو الزام کاکوئی ایک چھینٹا بھی نہ اُڑا سکے۔ مجھے اپنے ایسے ہی آغا جان پر فخر ہے ۔ جنہیں آج اپنے پرائے سب Saint Qaziکے نام سے یاد کرتے ہیں۔

وہ میرے محبوب اور شفیق آغا جان بھی تھے کیونکہ ہر بیٹی اور باپ کاتعلق محبت اور شفقت سے بھرپور ہوتاہے ۔ وہ میرے قائد بھی تھے کہ انہوں نے اپنے کردار کے حسن کی بدولت مجھے اپنی جماعت کی طرف راغب کیااور میرے آئیڈیل بھی کیونکہ آئیڈیل کے ساتھ انسان کا معاملہ اخلاص ، انسپائریشن اور اُس کے لیے سب کچھ وار دینے سے عبارت ہوتاہے۔ حضور نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق اُن کو ورثے میں ملاتھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام آتے ہی اُن کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں اور وہ آبدیدہ ہو کر گلوگیر آواز میں ہمیں اقبال کاکلام سناتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اُن کا عشق چھلکنے لگتا۔ خود کہتے کہ مولانا شاہ احمد نورانی کہتے ہیں کہ قاضی صاحب آپ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے عاشق اُمتی ہیں مجھے آپ سے اسی لیے بہت محبت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد اور لاہور میں اپنے دونوں دفتروں میں روضۂ مبارک کی ایک بڑی تصویر فریم کرکے اُس کے نیچے کاتب سے لکھوایاتھا کہ ’’اسے خوشاشہر ے کہ آنجادلبراست ‘‘ ہمیں اُنہوں نے بچپن سے یہ بات ذہن نشین کروائی تھی کہ لوگ چھوٹی چھوٹی سنتوں کے اہتمام میں تو بہت خیال کرتے ہیں کہ ان کو ضرور کرناہے مگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی سنت یعنی اللہ کی زمین پر اللہ کانظام قائم کرنے کی جدوجہد کو بھول جاتے ہیں۔

وہ ہمیشہ ہمیں بتاتے کہ قافلہ حجاز کے ہمراہیوں میں شامل ہونے کے اعزاز کو اگر پاناہے تو اس جدوجہد میں شامل بھی ہوناہے ۔ مجھے وہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عاشق اُمتی اور سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے ایک جانثار سپاہی لگے جو امام المجاہدین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جان نثاروں کی صف میں کسی غلام کی طرح ہی سہی شامل ہونے کے لیے ہمہ وقت متحرک اور بے قرار رہتاہو۔

آغا جان آپ نے میری تخلیق کے ابتدائی لمحوں سے اپنے پیار بھرے لمس اور بھرپور محبت سے حاصل ہونے والی ایک پُرکیف آسودگی کو میرے شعور اور لاشعور کاحصہ بنادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی نہ ختم ہونے والی زندگی میں وہی آسودگی اور اطمینان بھردے ۔ اللہ آپ سے راضی ہوجائے اور آپ کے ساتھ اُسی رحمت اور شفقت کا معاملہ فرمائے جس محبت سے آپ نے ہمیں پالاتھا۔

*۔۔۔*۔۔۔*

’’چراغِ آخر شب‘‘

تحریر : ڈاکٹر فرید احمد پراچہ

ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان

مجاہدِ ملت قاضی حسین احمدؒ ایک تاریخ ساز شخصیت تھے جو تاریخ کی کتابوں سے نکل کر ہمارے پاس آئے اور پھر ایک تاریخ بنا کر ہمیشہ کے لیے تاریخ کی کتابوں میں چلے گئے ۔ وہ جادۂ حق پر چلنے والے ایسے مسافر تھے کہ کانٹوں بھری راہوں کی صعوبتیں اور طویل مسافتیں بھی ان کے عزم سفر کشکست نہ دے سکیں ۔ وہ ایک ہدی خوان تھے جو بھٹکتے قافلوں کو ہمیشہ نشان منزل دکھاتے رہے ۔ وہ ایک ایسے سالار کارواں تھے کہ جن کے نفس گرم کی تاثیرسے قافلہ ہمیشہ تیز قدم رہا ۔ وہ ایسے چراغ آخر شب تھے کہ جن کے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے ۔ بلاشبہ وہ ہمارے درمیان سعادت کی ایسی زندگی گزار کر گئے ہیں کہ جو حیات جاوداں کا عنوان بن جاتی ہے ۔

قاضی صاحب ، جرأتوں کے پیکر اور عزیمتوں کے کوہ گراں تھے ۔ وہ مینار�ۂ نور تھے ۔ وہ اتحاد امت کے نقیب تھے ۔ وہ داعئ انقلاب تھے ۔ وہ حاضرو موجود سے بیزار کرنے والے امام برحق تھے اور وہ را�ۂ جہاد پر گامزن ایک مجاہد کبیر تھے ۔ وہ محبت کرنے والی ایسی شخصیت تھے کہ جن کاپیغام محبت دور دور تک پہنچا ۔ آج جب کہ وہ ہم میں نہیں ہیں تو ہر لکھنے والا قلم یہ لکھ رہاہے کہ ان کا سب سے زیادہ تعلق میرے ساتھ تھا۔ دوست تو لکھتے ہی ہیں ان کے تو نظریاتی مخالف بھی ان کے لیے رطب اللسان ہیں ۔ رفقاء تو ہدی�ۂ تبریک پیش کرتے ہی ہیں ان کے لیے محبتوں کے پھول تو اغیار بھی نچھاور کررہے ہیں ۔ جنہوں نے ان کے پیغام انقلاب کو قبول نہیں بھی کیا ان تک بھی ان کی محبتوں کی خوشبو ضرور پہنچی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ ، اخبارات کے رنگین صفحات ہو ںیا اداریے ، کالم نگارہوں یا دانشور ، اینکر پرسنز ہوں یا نامو ر قلم کار ، سب نے ان کے لیے کلمات خیر کہے اور لکھے اور ہر ایک نے ان سے ذاتی تعلق کی گواہی دی ہے ۔ایسا ہی ایک تعلق ان کا میرے ساتھ بھی تھا لیکن یہ رفاقت کا نہیں تابعداری و اطاعت کا تعلق تھا اس لیے کہ میں ایک کارکن ہوں اور وہ ہمارے امیر اور اب سابق امیر تھے ۔ ہم ان کے خوشہ چیں تھے اور وہ ہمارے مربی و محسن تھے۔ اس دوران ان سے سینکڑوں ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے بے شمار خطابات سنے ، ان کے ساتھ متعدد بار سفر کا موقع ملا ۔ تربیت گاہوں میں ان کے انداز تربیت کا مشاہدہ کیا ان کے ہمراہ کئی تقاریب ، مجلسوں ، محفلوں ، کانفرنسوں میں شرکت کی ۔ ان کی قیادت میں جلسوں جلوسوں دھرنوں اور ریلیوں میں حصہ لیا ان کے پاس کئی مرتبہ ایسے وقت میں بھی حاضری دی کہ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔ ان سے حکایت غم آرزو اور حدیث ماتم دلبری کے قصے بھی سنے ۔وہ ایک سچے کھرے اور منافقت سے پاک انسان تھے ۔ یعنی ظاہر و باطن ایک ہے جو دل میں ہے وہ زبان پر ہے اور جو قول ہے وہی عمل بھی ہے۔

ابا جی ( مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم ) کی وجہ سے وہ ہم بہن بھائیوں کے ساتھ خصوصی شفقت و محبت کا تعلق رکھتے تھے ۔ ہمارے خاندان کی شادیوں میں شرکت فرمائی ، ہمارے اکثر بچوں بچیوں کے نکاح بھی انہوں نے پڑھائے ۔ ابا جی کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کا اکثر اظہار کرتے ۔

وہ یہ خواہش رکھتے تھے اور اس کے لیے انہوں نے بھر پور کوشش بھی کی کہ جماعت اسلامی کی دعوت اور پیغام معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچے ، بالخصوص معاشرے کے پسے ہوئے اور محروم طبقات یہ سمجھنے لگیں کہ ان کے مسائل کا حل جاگیرداروں ، وڈیروں اور روایتی سیاستدانوں کے پاس نہیں بلکہ صرف اسلام اور دیانتدار قیادت کے پاس ہے ۔اس مقصد کے لیے انہو ں نے اپنے امیر بننے کے بعد 1988 ء میں ’’کاروانِ دعوت و محبت ‘‘کا اہتمام کیا ۔ یہ کارواں جس میں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں کارکن شامل تھے ، ملک کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچا ۔ یہ سینکڑوں میل کی مسافت تھی تھکا دینے والا سفر تھا مسلسل بے آرامی تھی دن کو جلسے رات کو مساجد میں ڈیرے کم و بیش ایک ماہ تک کارواں رواں دواں رہا ۔ پاکستانی سیاست میں یہ منفرد تجربہ تھا ۔ کارواں کا نعرہ تھا ’’ دور ہٹو سرمایہ دارو پاکستان ہمارا ہے ‘‘۔ دو ر ہٹو جاگیردارو پاکستان ہمارا ہے ۔‘‘ سرمایہ داری و جاگیردار ی کے خلاف یہ ایک واضح احتجاج تھا ۔ ایک تواناآواز تھی چنانچہ پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں میں ننگے پاؤں چلنے والے کتنے ہی کسان اور ہاری کارواں کے ہم رکاب رہے ۔ جماعت اسلامی کے کلچر میں ترانے اگرچہ پہلے بھی شامل تھے لیکن اس کارواں کے دوران افضال احمد اور سلیم ناز بریلوی مرحوم کے ترانوں نے ایک خاص فضا بنادی

یہ دیس جگمائے گا نورِ لا الہ سے

کفر تھر تھرائے گا نورِ لا الہ سے

قاضی صاحب پاکستان کی قومی سیاست میں کئی نئے تجربات کے بانی ہیں ۔ دھرنا ، ملین مارچ ، روڈ کارواں ۔ یہ سب اصطلاحیں ان کی دی ہوئی ہیں ۔ انہوں نے اپنی انتہائی متحرک زندگی میں کئی ریلیاں نکالیں ۔سینکڑوں جلسے کیے ۔ بیشمار جلوسوں کی قیادت کی ۔ ان گنت مظاہروں میں شریک ہوئے ۔ لاتعداد تربیت گاہوں ، شب بیداریوں ، افطار پارٹیوں اور فہم قرآن و سنت کلاسوں سے خطاب کیا ۔ شاید ہی پاکستان میں کوئی سیاسی لیڈر اتنا متحرک ہو کہ صبح کہیں شام کہیں دم بھر میں یہاں پل بھر میں وہاں ۔

جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں

ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلے

5فروری کا یوم یکجہتی کشمیر محترم قاضی صاحب کا ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے کہ جس نے مظلوم کشمیریوں کے حق میں پوری قوم کو کھڑا کردیا۔ اس دن کو منانے کی اپیل انہوں نے ہی سب سے پہلے 1990 ء میں کی تھی ۔ حکومت نے بھی اس اپیل کا ساتھ دیا اور اس وقت سے لے کر آج تک (5فروری 2018ء آنے والا ہے ) قریباً28سال ہو چکے ہیں ہر سال 5فروری کو پاکستان آزاد و مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں لاکھوں فرزندان توحید مردو زن اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسوں ، جلوسوں ، ریلیوں اور انسانی ہاتھوں کی زنجیروں کا اہتمام کرتے ہیں ۔ قاضی صاحب علمائے کرام کادل کی گہرائیوں سے احترام اور ان کی تکریم کرتے تھے ۔ مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کے ساتھ تو ان کے خصوصی قلبی تعلقات اس طرح بنے کہ پھر دونوں شخصیات یک جان دو قالب کی مصداق بن گئیں ۔ بے نظیر حکومت کے خلاف دھرنے کے موقع پر محترم شاہ احمد نورانی صاحب بھی قاضی صاحب کے ساتھ ٹرک پر شانہ بشانہ موجود تھے ۔ محترم قاضی صاحب ان کی اس عظمت کا اکثر ذکر فرماتے تھے کہ جب آنسو گیس کی اندھا دھند شیلنگ کے سبب سانس لینا دوبھر ہو گیا تو میں نے کہا شاہ صاحب آپ بزرگ اور مریض ہیں آپ ٹرک سے نیچے تشریف لے جائیں اور آرام کر لیں تو انہوں نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہاکہ قاضی صاحب میں نے آپ کا ساتھ دیاہے تو آخر تک آپ کا ساتھ نبھاؤں گا۔ اس روز دونوں بڑی شخصیات کی استقامت اور جرأت و ہمت نوجوانوں کے حوصلے بڑھا رہی تھی ۔ قائدین مظاہروں کی اپیل کرتے او راپنے پیروکاروں اور کارکنوں کو میدان میں چھوڑ کر خود کو بلٹ پروف گاڑیوں اور حفاظتی حصاروں میں محفوظ کرلیتے ہیں لیکن محترم قاضی صاحب ہمیشہ کارکنوں سے آگے رہے ان پر لاٹھیاں بھی برسیں لیکن ان کے قدم میدان سے پیچھے نہیں ہٹے ۔

سچ تو یہ ہے کہ جس طرح ان پر ایک خود کش حملہ ہواتھا اگر کسی دوسرے پر ہوتا تو اس کی سرگرمیاں رک جاتیں ۔ اس کے دورے ختم ہو جاتے ۔ اس کی آمد و رفت محدود ہو جاتی اور وہ ڈھیر ہو کر گر جاتا لیکن محترم قاضی صاحب کا سفر اس حملے کے بعد بھی ذرا نہ رکا ، ذرا نہ تھما۔وہ اس حالت میں جلسہ گاہ تک پہنچے کہ ان کے محافظ زخمی تھے او ران کی اپنی گاڑی کے شیشے ٹوٹ چکے تھے اس حالت میں انہوں نے کسی معمولی سے بھی خوف کے بغیر جلسے میں اپنا خطاب کیا اور پھر ان کی دعوتی و دینی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں اور بے گناہوں کے قتل کو خلاف اسلام، خلاف انسانیت قرار دینے کے ان کے موقف میں بھی ذرا برابر فرق نہ آیا۔

اس حملے کے بعد ایک روز مجھے ان سے کھل کر بات کرنے کا موقع میسر آیا ۔ وہ جہاں عالمی سازشوں بالخصوص امریکہ بھارت اور اسرائیل کی طرف سے ہونے والے خونی کھیل کی گرہیں کھول رہے تھے وہیں وہ ان مہم جوؤں کا ذکر بھی کرتے تھے کہ جو اسلامی تعلیمات سے قطعاً نابلد ہیں اور جن میں سے اکثریت دینی تعلیم سے بھی آشنا نہیں اسی لیے وہ سمجھتے تھے کہ دینی جماعتوں کو اکٹھا ہوناچاہیے اور اگر وہ اکٹھے نہ ہوئے تو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے ، پاکستان میں اسلامی نظام اور جہاد کو متنازعہ بنانے ، پاکستان کو ناکام ریاست اور غیر محفوظ ملک ثابت کر کے ہمارے ایٹمی اثاثوں کو عالمی اداروں کی تحویل میں دینے اور آئین پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ختم کرانے کے عالمی ایجنڈے کو تقویت ملے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں اتحاد امت کی عالمی کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا۔

قاضی صاحب عالم اسلام کے رہنما تھے ۔ شرق و غرب اور عرب و عجم میں ان کی آواز گونجتی تھی ۔ وہ اخوان المسلمون کے لیے بھی ان کے مرشد عام تھے اور کشمیر و فلسطین ، بوسنیا ، شیشان اور عراق و افغانستان کے مجاہدوں کے لیے بھی ایک مینار�ۂ نور تھے ۔ سوڈان کی اسلامی تحریک ہو یا ترکی میں اسلام کے نام لیوا ، ان سب کے لیے قاضی صاحب مرکز وحدت تھے ۔ انہوں نے سوڈان کے جنرل عمر البشیر اور ڈاکٹر حسن ترابی اور ترکی کے نجم الدین اربکان ؒ اور ان کے شاگرد طیب اردگان اور عبداللہ گل کے درمیان پیدا اختلافی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے اور دلوں میں موجود خلیج ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یقیناً وہ سب کے لیے مرکز وحدت تھے ۔

قرآن پاک میں قاضی حسین صاحب جیسی پاکیزہ روحوں کے لیے ہی نفس مطمئنہ کی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں ۔ ایسے پاکیزہ سیرت اہل ایمان جو جاد�ۂ حق پر گامزن رہے ، عزیمت و استقامت کا مظاہرہ کیا ، مشکلات و تکالیف برداشت کیں ، لمحہ لمحہ اطاعت ربانی میں گزارا اور پھر دنیا سے ایسے عالم میں رخصت ہوئے کہ وہ بھی اپنے خالق سے راضی اور ان کا خالق بھی ان سے راضی ۔۔۔ ایسے ہی اہل ایمان کا استقبال اللہ کریم کی رحمت یہ کہہ کر خود کرتی ہے ’’ یا یتھا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ ‘‘ اے نفس مطمئنہ لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف وہ بھی تم سے راضی اور تم بھی اس سے راضی ۔۔ ۔

یقیناً قاضی صاحب نفس مطمئنہ تھے ۔ کوہ گراں تھے ، سالار کارواں تھے ۔

جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

راہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا

******

حالاتِ زندگی : قاضی حسین احمد

سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان

مرتبہ : محمدانور نیازی

سابق سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان

پیدائش و پچپن

بانی جماعت سید ابوالاعلی مودودی اور میاں طفیل محمد صاحب کے بعد قاضی حسین احمد جماعت اسلامی پاکستان کے تیسرے منتخب امیرتھے۔ قاضی صاحب1938ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ سرحد)کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا قاضی محمدعبدالرب صاحب ایک ممتاز عالم دین تھے اور اپنے علمی رسوخ اور سیاسی بصیرت کے باعث جمعیت علمائے ہند صوبہ سرحدکے صدر چنے گئے تھے۔

قاضی صاحب اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انکے بڑے بھائی ڈاکٹرعتیق الرحمن صاحب اور مرحوم قاضی عطاء الرحمن صاحب اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے۔ قاضی حسین احمد بھی ان کے ہمراہ جمعیت کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگے۔لٹریچر کا مطالعہ کیا اور پھر اپنا سب کچھ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے وقف کردیا۔

ابتدائی تعلیم اور عملی زندگی

قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد محترم سے حاصل کی ۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاوریونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔بعد از تعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرار تعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔ جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رحجان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا۔ یہاں بھی انہوں نے اپنی موجودگی کے نقوش ثبت کیے اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

سیاسی سفر

دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے، پھر جماعت اسلامی پشاور شہر اور ضلع پشاور کے علاوہ صوبہ سرحد کی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ 1978ء میں آپ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور 1987ء میں آپ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے اورچار مرتبہ(1994،1999،1992،2004ء) تک امیر رہے۔ قاضی حسین احمد1985ء میں چھ سال کے لیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔1992ء میں دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے، تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔2002ء کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔جماعت اسلامی کی امارت سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ متحرک رہے ۔ اتحاد امت ان کا خواب تھا اور پوری زندگی انہوں نے اس کے لیے وقف کیے رکھی ۔اپنی وفات سے چند ماہ پیشتر انہوں نے ملی یکجہتی کونسل قائم کی اور ملک سے فرفہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جدوجہد کی ۔

اتحاد امت اولین ترجیح

قاضی حسین احمد نے ہمیشہ اپنی ایک ہی شناخت پر فخرواصرار کیا کہ ان کی حضوراکرم ﷺ کے امتی کی حیثیت سے شناخت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے امتیوں کے اتحاد کی سعی کی۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کی اہم پارٹیوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل(MMA) آپ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ کسی منصب یا عہدے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد آپ کو اتفاق رائے سے اس کا صدر چن لیاگیا۔ اس سے پہلے شیعہ ،سنی اختلافات کی بنیاد پر بھڑکائی جانے والی آگ پر قابو پانے کے لیے آپ کی کوششوں سے ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، آپ اس کے روحِ رواں تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام بھی آپ کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔80کے عشرے میں متحدہ شریعت محاذ وجود میں آیا تو آپ اس کے سیکرٹری جنرل تھے کراچی میں لسانی تعصبات کے شعلے بلند ہوئے تو آپ نے پشاور سے ’’کاروانِ دعوت ومحبت ‘‘لے کر پورے ملک کا دورہ کیا اور کراچی پہنچے اور پورے ملک کو محبت ووحدت کاپیغام دیتے ہوئے واپس پشاور آئے۔تحریک نظام مصطفٰی ؐمیں امت متحد ہوئی تو آپ نے صوبہ سرحد کا محاذ سنبھالا اور پسِ دیوار زنداں بھی رہے۔

اتحاد امت کی ان کی کوششوں کا دائرہ پاکستان تک ہی محدودنہیں تھابلکہ قاضی صاحب نے یہ پیغام دنیا بھر میں عام کیا۔ سوویت یونین سے برسرِ پیکار افغان مجاہدین کے درمیان اختلافات افغان تاریخ کا سب سے افسوس ناک حصہ ہیں ۔ قاضی حسین احمدصاحب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور علماء و مفکرین کو ساتھ ملا کر ان اختلافات کو پاٹنے کی مسلسل کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے صلح کا ہر معاہدہ بیرونی سازشوں اور اندرونی بے اعتمادی کی نذر ہوگیا۔

قاضی حسین احمد نے اتحاد و وحدت کی یہی کاوشیں کشمیر میں بھی جاری رکھیں۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں مجاہدین کے درمیان پھیلائی جانے والی کئی غلط فہمیاں اور اختلافات پربروقت قابو پایاگیا۔

سوڈان میں اسلامی تحریک کے بانی ڈاکٹر حسن ترابی اور صدر مملکت جنرل عمر حسن البشیر کے درمیان اختلافات علیحدگی کی صورت اختیار کرنے لگے تو فریقین نے قاضی صاحب کو حکم تسلیم کیا۔ ایک بار صلح کا معاہدہ عمل میں بھی آگیا لیکن عالمی و علاقائی سازشوں کی نذر ہوگیا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب کے مسلسل رابطے کے باعث اختلافات کو تصادم میں بدلنے کی کئی سازشیں ناکام ہوئیں۔

عراق کویت جنگ ہو یا مسئلہ کشمیر ، فلسطین، بوسنیا اور کوسوو میں مسلم کشی ہویا چیچنیا میں قتل عام، برما کے خون آشام حالات ہوں یا اریٹیریا کے غریب عوام کے مصائب، قاضی حسین احمد نے پورے عالم میں امت کی توانائیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ امت کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش۔

قاضی صاحب اور توسیع دعوت

قاضی حسین احمدنے امارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد توسیع دعوت پر خصوصی توجہ دی۔ ملک گیر کاروان دعوت و محبت کے علاوہ موثر افراد سے خصوصی رابطے اور مختلف قومی مشاورتی مجالس کی تشکیل اس سلسلے کی اہم سرگرمیاں تھیں۔ اس ضمن میں 1997ء میں ممبرسازی کی ملک گیر مہم شروع کی گئی اور پینتالیس لاکھ(45)افراد نے جماعت اسلامی کی دعوت و پروگرام کی حمایت کی۔

گرفتاریاں

قاضی حسین احمدصاحب نے بھی ہر حق گو کی طرح قیدو بند کی صعوبتوں اورگرفتاریوں کاسامنا کیا۔ تحریک نظام مصطفی کے دوران گرفتاری کے علاوہ افغانستان پرامریکی حملوں اور یورپ میں رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں پر احتجاج کرنے کی پاداش میں بھی انہیں گرفتار کیاگیا۔ اسیری کے دوران انہوں نے متعدد اہم مقالہ جات لکھے،جوبعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔

عائلی زندگی

قاضی حسین احمد کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، اور سب اپنی والدہ سمیت جماعت اسلامی کی دعوتی وتنظیمی سرگرمیوں میں پوری طرح فعال رہتے ہیں۔ قاضی صاحب منصورہ میں دوکمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے رہے، ان کے اہل خانہ منصورہ کے اسی فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ جماعت کے دیگر ذمہ داران بھی اسی طرح رہتے ہیں۔قاضی صاحب کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو، انگریزی،عربی،اور فارسی پرعبور حاصل تھا۔ وہ شاعر اسلام علامہ محمد اقبال کے بہت بڑے خوشہ چین تھے، انہیں فارسی اور اردو میں ان کا اکثر کلام یادتھا اور وہ اپنی تقاریر وگفتگو میں اس سے استفادہ کرتے رہے۔

وفات :۔

قاضی حسین احمد پانچ اور چھ جنوری (2013ء )کی درمیانی رات ،نصف شب کے قریب اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ انہیں چند روز بخاراور سانس کی تکلیف رہی ۔ طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں اسلام آباد پرائیوٹ ہسپتال لے جایا گیا لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ان للہ و انا الیہ راجعون

******

قاضی حسین احمد۔۔۔ محبت فاتح عالم

تحریر : عبدالہادی احمد

قاضی حسین احمد کو اس دنیائے فانی کو چھوڑے ہوئے پانچ سال گزر گئے ہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھے کہ جو زندہ ہوتے ہیں تو زندگی ان پر رشک کرتی ہے اور موت آتی ہے تو بھی وہ مرتے نہیں۔ قاضی صاحب مرکر بھی زندہ ہیں، اس لیے کہ جس مشن کی تکمیل کے لیے انہوں نے پوری زندگی گزار دی ان کا وہ مشن زندہ ہے۔ وہ عظیم مشن، جس کی بنیاد سید مودودیؒ نے جماعت اسلامی کے نام سے رکھی تھی، قاضی صاحب نے پوری ایمان داری، وفاداری اور عزیمت و استقامت سے اسی مشن میں اپنی جان کھپا دی۔ قاضی صاحب کے جانے کے بعد بھی سید مودودیؒ کا یہ قافلہ سخت جاں رکا ہے نہ رکے گا، یہ ابد آفریں قافلہ جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جواں رہے گا۔۔۔ ان شاء اللہ قاضی کے لاکھوں بیٹے اور بیٹیاں ان کے مشن کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ان کے راستے پر رواں دواں ہیں۔ چھ جنوری کی شام جب لاکھوں انسانوں کا ہجوم سید مودودیؒ کے لازوال افکار کے اس عظیم علم بردار کو رخصت کر رہا تھا، تو نوجوانوں کے نعرے دلوں کی دنیا زیر و زبر کر رہے تھے۔ اس وقت ان کے نعرے پتھروں کو بھی موم کر رہے تھے۔ہم بیٹے کس کے ۔۔قاضی کے ، ہم ساتھ مریں گے۔۔۔ قاضی کے‘‘ آنسوؤں سے لبریز آنکھوں کے ساتھ نوجوان ان کی ایمبولینس کے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔ قاضی صاحب کو یہ بے مثال محبت اس لیے ملی کہ انہوں نے اپنے غیر فانی مشن اور نظریے کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دی۔ جسم کی تمام صلاحیتوں اور زندگی کی تمام سانسوں کو اس کے لیے وقف کیے رکھا اور جاتے جاتے اپنے پیچھے روشنی کی ایسی ان مٹ اور غیر فانی لکیر چھوڑ کر گئے جو ان کا نقش قدم اپنانے والوں کی ہمیشہ رہنمائی کرتی رہے گی۔ اللہ کے دین کے تمام سپاہی اس روشنی سے اپنی منزل کا رخ متعین کیا کریں گے اور اس میں ہماری لیڈر شپ کے لیے بھی تقلید کا بہترین نمونہ موجود ہے۔

افغانستان کا محاذ گرم کرنے، مجاہد لیڈروں کے ساتھ قریبی روابط رکھنے اور روس کو عبرت ناک شکست دینے کے لیے بے مثال منصوبہ بندی کرنے میں قاضی صاحب کا بنیادی کردار تھا۔ وہ مجاہدین کی قیادت میں اختلافات دور کرنے، ان کی جہادی سرگرمیوں کو مربوط کرنے اور جہاد کی حکمت عملی طے کرنے کی مشاورت میں بھی شامل رہے۔ نہ صرف افغان جہاد سے ان کی گہری وابستگی تھی، بلکہ دنیا کی تمام جہادی تنظیموں سے ان کے رابطے تھے۔ وہ سارے عالم اسلام بالخصوص افغانستان ، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، فلسطین، عراق، برما، فلپائن اور تھائی لینڈ کے مسلمانوں کے ہر دکھ اور المیے پر آواز اٹھاتے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور ان کی پشت پناہی کرتے تھے۔ 1990 ء کے اوائل میں مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ہو گیا تو قاضی صاحب نے اسی سال ’’کاروان جہاد کشمیر‘‘ کے نام سے پاکستان بھر کا طوفانی دورہ کر کے جہاد کشمیر ریلیوں سے خطاب کیا۔ قاضی صاحب کی کوششوں سے ہی کشمیر پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا جس میں آپ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تاریخی تقریر کی۔ قاضی صاحب کی اپیل پر ہی 5فروری 1990 ء کو ملک میں پہلی بار کامیاب ہڑتال کے ذریعے پاکستانی عوام نے کشمیریوں کو بھرپور یک جہتی کا پیغام دیا۔ اس کے بعد سے 5 فروری کو سرکاری سطح پر بھی ’’یوم کشمیر‘‘ قرار دے کر ہر سال منایا جانے لگا۔ جماعت اسلامی کے امیر بننے کے بعد قاضی صاحب نے چاروں صوبوں کے 313 قائدین کے ہمراہ ’’کاروانِ دعوت و محبت‘‘ کی قیادت کی،کاروان میں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں کارکنان محو سفر تھے۔ ایک ماہ تک مصروفِ سفر رہنے والے اس کاروان نے، چاروں صوبوں کے اہم شہروں اور بستیوں کو محبت کا پیغام دیا۔۔۔ محبت جو فاتح عالم ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کو عوامی سطح پر متعارف کروانے کی یہ منظم اور موثر ترین کوشش تھی۔

قاضی صاحب کا دو مرتبہ دل کا بائی پاس اور خون کی بڑی رگ کا خطرناک آپریشن بھی ہوا تھا، مگر انہوں نے آرام کرنا نہیں سیکھا تھا، وہ آخر دم تک گھر پر نہیں بیٹھے۔ افغانستان ہو، فلسطین ہو، مصر ہو یا دیگر اسلامی ممالک، ان کے آپس کے معاملات طے کرنے کے لیے اکثر ان کو مصالحتی مشن پر جانا پڑتا تھا۔ اخوان المسلمون کی مصر میں کامیابی پر بے حد خوش تھے۔ طیب اردگان، نجم الدین اربکان اور عرب و عجم کے تمام مسلم لیڈروں سے ان کے تعلقات اور روابط تھے۔ حماس کے رہنما خالد مشعل کے متعلق تو یہ بھی مشہور ہے کہ ان کے والد نے انہیں قاضی صاحب کی خدمت میں تربیت کے لیے بھیجا تھا۔ قاضی حسین احمد نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کے لیے مئی 1990 ء میں ترکی، مصر، عراق، ایران، سعودی عرب، کویت، متحد عرب امارات اور قطر کا دورہ کیا۔ دورے کے بارے میں ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ میں صلاح الدین مرحوم نے لکھا: ’’جو کام حکومت نہ کر سکی

قاضی صاحب نے کر دکھایا۔‘‘ خلیج کے بحران میں قاضی صاحب نے عالمی اسلامی تحریکوں کے وفود کی قیادت کی اور اردن، سعودی عرب، عراق اور ایران کے تیرہ روز ہ دورے میں ان ممالک کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں کر کے خطے سے جنگی اثر و نفوذ کو ختم کروانے کی ہر ممکن کوششیں کیں۔ ترکی کی اسلامی تحریک سے ان کے خصوصی روابط رہے۔ قاضی صاحب ضعیف العمری اور تین بڑے آپریشنوں کے باوجود کسی جوان کا سا حوصلہ رکھتے تھے۔ ان کے دور میں جماعت اسلامی پر کئی بار ایسا وقت آیا کہ بہت سے لوگ حوصلہ ہار بیٹھے، لیکن انہوں نے کٹھن حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کارکنوں کو حوصلہ دیتے رہے۔

قاضی حسین احمد ذاتی زندگی میں انتہائی درویش منش اور سادہ مزاج تھے، منصورہ میں دو کمروں کے فلیٹ میں سارا دور امارت گزارا، امیر جماعت کے لیے مخصوص گھر میں نہ گئے۔ پشاور میں ان کا شاندار مکان موجود تھا، جو انہوں نے افغان جہاد کے لیے وقف کر دیا تھا۔ منصورہ میں اپنے گھر سے پیدل نکل کر دو گلیوں سے گزر کر مسجد آتے، نماز پڑھاتے اور اسی طرح اکیلے پیدل ہی واپس روانہ ہو جاتے۔ قاضی صاحب سب کے سر پر

ہاتھ رکھتے، پیار کرتے اور چومتے تھے۔ کوئی بھی فردتن تنہا دو مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر، سینیٹر، ایک ملک گیر جماعت کے سربراہ عالمی اسلامی تحریکوں کے مقبول رہنما کو راہ چلتے روک کر ملاقات کر لیتا، بات چیت اور اپنا کوئی مسئلہ بیان کر لیتا تھا۔ یہ مثال پاکستان کے سیاستدانوں میں ڈھونڈھے سے بھی نہیں ملتی۔قاضی صاحب کی اعلیٰ ظرفی کی ایک بڑی مثال یہ تھی کہ جب نواز شریف نے اپنے دوسرے اقتدار میں لٹن روڈ لاہور کے دفتر میں قاضی صاحب سمیت بہت سے رہنماؤں اور کارکنان پر بدترین پولیس گردی کروائی۔ شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج نے اس مقام کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا تھا اور قاضی صاحب اس دفتر میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

اس وقت خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ نواز شریف نے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ یہ سلوک کسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا تھا۔ بعد میں جب نواز شریف اپنی گرفتاری کے بعد قاضی صاحب سے معافی کے خواست گار ہوئے تو انہوں نے بنا کسی ردوکد کے انہیں خلوص دل سے معاف کر دیا۔ قاضی صاحب نے ملت اسلامیہ کی بھرپور ترجمانی کی، لیکن ہم خود کو ملت ثابت نہ کر سکے۔ بونوں کی دنیا میں ایک قد آور شخص کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے۔ زرداری صاحب جب بدعنوانی کے مقدمے میں جیل میں تھے تو قاضی صاحب انہیں تفہیم القرآن اور دیگر کتابوں کا سیٹ دے آئے جو بقول زرداری’’میں نے پڑھ کر ان سے بہت کچھ سیکھا۔‘‘ واللہ اعلم۔ عمران خان اپنی اسلام فہمی کا ذریعہ قاضی صاحب کو ٹھہراتے ہیں۔

۔۔۔*۔۔۔

مجاہد ملت قاضی حسین احمد ؒ

(تحریر : چوہدری فرحان شوکت ہنجرا)

مجاہد ملت قاضی حسین ا حمد کو آج جہان فانی سے کوچ کیے پانچ برس ہو گئے ہیں لیکن شاہد ہی کوئی لمحہ ہو کہ قاضی حسین احمد اپنے پر نور چہرے کے ساتھ محبت کے پھول بکھیرتے دل و دماغ میں نہ آئے ہوں ہر ذی شعور شخص آج بھی ان سے والہانہ محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن ان کی دنیا سے رحلت سے چند دن پہلے جماعت اسلامی کے راہنما اور بزرگ قومی سیاستدان پروفیسر غفور احمد ؒ وفات پا گئے ان دونوں عظیم قومی راہنماؤں کا صدمہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ملا دونوں شخصیات اپنی ذات میں ایک الگ انجمن تھے لیکن قاضی حسین احمد کی وفات امت مسلمہ کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا انہوں نے امت مسلمہ کی فلاح کے لیے بہت سی تحریکوں میں حصہ لیا وہ ہمہ گیر شخصیت تھے قومی یکجہتی کے فروغ اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے عملی جدو جہد کر کے ملی یکجہتی کونسل تشکیل دی انہوں نے تمام دینی سیاسی دھڑوں کو یکجا کرنے کی بھر پور کوشش کی۔رکن پارلیمنٹ ،رکن سینٹ ،متحدہ مجلس عمل کے صدر اور ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ ہوتے ہوئے اخلاص ،اخوت،محبت،عاجزی،امانت،دیانت،شرافت، پیکر بالخصوص امت مسلمہ امت اسلامیہ پاکستان کومسائل کے گرداب سے نکالنے ،ظالم و جابر حکمرانوں کے غیر آئینی ،غیر قانونی ،آئین و قانون سے ماورا اقدامات کے خلاف ہمہ تن جد وجہد کی وہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے حوالے سے نہ صرف بے چین رہتے تھے بلکہ ایک ہوں مسلم حرم کی پا سبانی کے لیے عملی جد وجہد کرتے رہے ہم بیٹے کس کے قاضی کے یہ پاکستان کے نوجوانوں کا مقبول نعرہ تھا اور نوجوان اس نعرے پر فخر کرتے تھے اور قاضی حسین کا چہرہ نوجوانوں کو دیکھ کر چمکتا دھمکتا تھا وہ کہتے تھے کہ یہ نوجوان نہ صرف میرے جگر گوشے ہیں بلکہ امت مسلمہ کے مجاہد صفت اور پاکستان کا روشن مستقبل ہیں۔قاضی حسین احمد 4 مرتبہ جماعت اسلامی کی امارت کے منصب پر فائز رہے اس سے قبل جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل ،امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر ،امیر جماعت اسلامی پشاور رہے۔ان کا دورامارت جماعت اسلامی دنیا میں اسلامی تحریکوں کی کامیابی کا بھی سبب بنا۔ 1996 میں پیپلز پارٹی کی کرپٹ حکومت کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں کامیاب دھرنے پورے ملک میں کاروان دعوت و محبت 5 فروری کویوم یکجہتی کشمیر کو قومی سطح پر منانے پر کلیدی کردار ادا کیا ان کی وفات سے جہدو جہد آزادی کشمیر کے حریت راہنما سید علی گیلانی تنہا رہ گئے لیکن کشمیر کے مظلوم عوام اپنے محسن سے محروم ہو گئے کشمیر کی آزادی پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام قاضی حسین احمد کی زندگی کا مشن تھا وہ اپنے مشن سے مخلص تھے آنے والے دنوں میں 5 فروری 2018 یوم یکجہتی کشمیر کا دن قاضی احمد کی کمی پوری ملت ?

مزید : ایڈیشن 1