حکومت لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے موزوں پالیسیاں تشکیل دے ، صدرلاہور چیمبر

حکومت لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے موزوں پالیسیاں تشکیل دے ، صدرلاہور چیمبر

لاہور(کامرس رپورٹر) لائیوسٹاک پاکستان کے زرعی شعبے کا ایک اہم حصہ اور 300ارب ڈالر سے زائد کی عالمی حلال تجارت کا بڑا حصہ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت لائیوسٹاک سیکٹر کے لیے موزوں پالیسیاں تشکیل دے جس کا زراعت اور جی ڈی پی میں حصہ بالترتیب 55.9فیصد اور 11.8فیصد ہے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید اور پامکوکے چیئرمین ممتاز خان منیس نے لاہور چیمبر کے وفد کے دورہ پامکوسلاٹر ہاؤس کے موقع پر کیا۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشیداور نائب صدر ذیشان خلیل نے بھی اس موقع پر خطاب کیا جبکہ وفد میں سابق صدور میاں شفقت علی، محمد علی میاں، سابق سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر، میاں محمد نواز، اورنگزیب اسلم، خلیق ارشد، باؤ محمد بشیر، ظفر اقبال، خامس سعید بٹ اور ندیم قریشی شامل تھے۔ ممتاز خان منیس نے وفد کو پامکو کی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے حلال ایکسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے لاہور چیمبر سے مدد طلب کی۔

انہوں نے بتایا کہ پامکو کے سٹیٹ آف دی آرٹ سلاٹر ہاؤس میں روزانہ چھ ہزار چھوٹے جبکہ پانچ سو بڑے جانور ذبح کیے اور جدید ٹیکنالوجی سے گوشت پراسیس کیا جاتا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید نے لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے پامکو کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے چیلنجز کے باوجود لائیوسٹاک سیکٹر معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ دیہی علاقوں میں لائیوسٹاک اہم معاشی سرگرمی ، بالخصوص خواتین کے روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر عالمی حلال تجارت میں بڑا حصہ حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو دہائیوں کے دوران گوشت کی عالمی تجارت دوگنی ہوجائے گی، پاکستان اس شعبے میں عالمی لیڈر بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حلال تجارت میں فوڈ اور نان فوڈ دونوں اقسام کی اشیاء شامل ہیں ، انہوں نے کہا بدقسمتی سے حلال تجارت میں غیرمسلم ممالک کا حصہ بہت زیادہ ہے جو لمحہ فکریہ ہے، بطور مسلمان ملک پاکستان کو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان 300ارب ڈالر کی حلال تجارت کا دس فیصد بھی حاصل کرلیتا ہے تو برآمدات میں 30ارب ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان صنعتوں کو پچیس فیصد سبسڈی دے جو آر ایل این جی بطور ایندھن استعمال کررہی ہیں۔

 

مزید : کامرس