امریکی امداد کی معطلی سے باہمی سکیورٹی تعاون متاثرہو گا : ترجمان پاک فوج ، پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنا سراسر بد نیتی ہے : خواجہ آصف

امریکی امداد کی معطلی سے باہمی سکیورٹی تعاون متاثرہو گا : ترجمان پاک فوج ، ...

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے ہمیں عزت کی قیمت پرسکیورٹی امدادنہیں چا ہیے پاک فوج امریکی مالی امدادکے بغیربھی طاقتورہے،پاکستان نے پیسوں کیلئے نہیں امن کیلئے جنگ لڑی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہماراعزم کبھی کم نہیں ہوسکتا۔گزشتہ روز غیرملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا پاکستان قیام امن کیلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا ہم پرشک امن واستحکام کے مشترکہ مقصد کونقصان پہنچاسکتا ہے،پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں۔ امدادکی معطلی سے قیام امن کی کو ششیں اور باہمی سکیورٹی تعاون متاثرہوگا، ہم نے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کیخلاف بلا امتیاز کا ر ر وائی کی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان برداشت کیا۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا سکیورٹی امداد کی معطلی دہشت گردی کیخلاف عزم پر اثرانداز نہیں ہو سکتی، پاکستان کبھی بھی پیسے کیلئے نہیں بلکہ امن کیلئے لڑا ہے۔ سکیو ر ٹی ضروریات پوری کرنے اور سکیورٹی تعاون کیلئے ہمارے آپشنز کھلے رہیں گے۔ ہماری نیت پر شک کیا جانا مایوس کن اور امن اور استحکا م کیلئے ہمارے متحدہ مقصد کیلئے نقصان دہ ہے۔پاکستان اپنی مخلصانہ کوششوں کو پاکستان کے بہترین مفاد اور امن کیلئے جاری رکھے گا۔ میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی کہا کہ امریکی اقدامات کیخلاف پاکستانی جواب ملک کے عوام کی توقعات کے عین مطابق ہو گا۔

آصف غفور

اسلام آباد،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ،اظہر زمان ) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنا امریکا کی بدنیتی ہے اوروہ دنیاکو بتانا چاہتا ہے افغانستان میں کامیابی اس کو پاکستان کی وجہ سے نہیں ملی۔ امریکا کا کوئی ایسا مطالبہ نہیں جو پاکستان نے قبول نہ کیا ہو۔ گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا امریکہ نے جن قوموں کو انتقام کا نشانہ بنایا وہ آج بھی زندہ ہیں، امریکا افغانستان سے متعلق اپنا موقف بدلتا رہتا ہے، پاکستان کو واچ لسٹ میں ڈالنے کا مطلب ہے امریکہ نے پاکستان کیخلاف تمام ہتھیار استعمال کر لئے، ویسے بھی امریکا نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کو دھوکہ دیا۔ بھارت میں مذہبی تعصب سب کے سامنے ہے، گائے کا گوشت کھانے والے کو قتل کر دیا جاتاہے، نچلی ذات کے باشندوں کو بھی مار دیا جاتاہے، قاتلوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ، پھر میں اسکا نام واچ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا جو امریکہ کی بدنیتی کو واضح کرتا ہے ۔دریں اثناء ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹ اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کا نام واچ لسٹ میں ڈالنے پر دفتر خارجہ کا اپنے رد عمل میں کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ہے اور 15 سال میں 120 بلین ڈالرز خرچ کیے ۔ سکیورٹی معاملات پر امریکی انتظامیہ کیساتھ رابطے میں ہیں ،جواب اور تفصیلا ت کا انتظار ہے۔ ہم اپنے شہریوں اور خطے کے امن کیلئے دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رکھیں گے۔دہشت گردی کیخلاف پاک امر یکی اتحاد در حقیقت امریکی قومی سلامتی کے مقاصد پورے کرتا ہے اور پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون کا فائدہ سب سے زیادہ امر یکا اور عالمی برادری کو ہوا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھاالقاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں دونوں ملکوں کیلئے مشترکہ خطرہ ہیں اور پا کستا ن کے اقدامات سے القاعدہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ ممکن ہوا ہے۔افغانستان میں داعش کی موجودگی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے جبکہ پاکستان نے پاک افغان سرحد پر بہترین بارڈرمینجمنٹ کا نظام متعارف کرایا لیکن افغانستان میں امن کابل حکومت کے تعا و ن کے بغیر ممکن نہیں ، پاکستان ابھی تک اس جنگ میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ اپنے وسائل سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمسایہ ملک میں حکومت کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے وسیع علاقے میں دہشتگرد اپنا اثرو رسوخ قائم کیے ہوئے ہیں۔ انسداد دہشتگردی کے بڑے بڑے آپریشن کر کے جہاں پاکستان نے منظم دہشت گرد ی کیلئے استعمال ہونیوالے علاقوں کو پاک کر دیا ہے جس سے سکیورٹی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ افغانستان سے تعا و ن ، دو طرفہ سرحدی انتظام، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، منشیات کی سمگلنگ کو کنٹرول کرنے اور افغان قیا د ت کی سربراہی میں مذاکرات کی حمایت کرنے کے حوالے سے پاکستان کی کوششیں دنیا کو معلوم ہیں۔ پائیدار امن کی جانب کام کرتے ہوئے صبر اور استحکام کیساتھ ساتھ باہمی احترام اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے یک طرفہ اقدامات اور اپنے اہداف بغیر اپنے حواریوں کے مشورہ سے تبدیل کرنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا، بلکہ اس کا سب کونقصان ہو گا۔ دوسری طرف ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکہ میں متعین پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا افغانستان میں ناکامی پر پاکستان قربانی کا بکرا نہیں بن سکتا۔ افغا ن مسئلے کا عسکری حل ممکن نہیں، دہشتگردی کیخلاف پاکستان اور امریکہ مل کر کام کریں تو برکت ہو گی۔ افغان مفا ہمتی عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سا نجھی ہے ۔ قیادت واضح کر چکی ہمیں امریکی امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہیے ۔ٹرمپ کے بیان سے مایوسی اور حیرت دونوں ہوئیں ۔ امریکہ کی 33ا رب ڈالر امداد میں سے آدھی رقم تو دہشتگردی کیخلاف جنگ پر خرچ ہو چکی ۔ امریکہ کو پاکستان کی امداد بند کرنے کی جانب نہیں جانا چاہیے اس سے فاصلے بڑھیں گے۔ امریکہ کو افغانستان میں 680ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود کامیابی نہ مل سکی۔ بھارت خطے میں سلامتی سے متعلق کردار ادا نہیں کر سکتا۔ پاکستان کوبھارت کی جانب سے افغان سر زمین اپنے خلاف استعمال کئے جانے پر اعتراض ہے ۔ پاکستان سے زیادہ تر طالبان افغانستان جا چکے ہیں، پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ خاصا کم ہو چکا ہے۔ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ کارر وائی کی باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ قومی سلامتی کونسل نے اپنا بیانیہ امریکہ میں پہنچانے کی ذمہ داری مجھے سونپی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان کی کسی ملک نے حمایت نہیں کی۔مفاہمتی عمل کے کردار پر افغانستان کو شکر گزار ہونا چاہیے ۔

خواجہ آصف

مزید : صفحہ اول