بلوچستان ، سیاسی بحران سنگین شدت اختیار کر گیا ، ایک اور وزیر مشیر مستعفی

بلوچستان ، سیاسی بحران سنگین شدت اختیار کر گیا ، ایک اور وزیر مشیر مستعفی

کوئٹہ(آئی این پی ) بلوچستان میں سیاسی بحران مزید سنگین ہوگیا، ایک وزیر راحت جمالی اور مشیر عبدالماجد ابڑو نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ۔تفصیلات کے مطابق عام انتخابات سے قبل بلوچستان اسمبلی شدید بحران کا شکار ہوگئی ہے، جہاں ایک جانب وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے وہیں وزرا اور مشیروں نے استعفے جمع کرانا شروع کردیئے ہیں۔راحت جمالی کے پاس محنت اور افرادی قوت کا قلمدان تھا جب کہ ماجد ابڑو وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن تھے۔

بلوچستان

اسلام آباد (صباح نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ڈٹ گئے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انتخابات کے بعد بلوچستان میں حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو بات کرنا تو دور کی بات ہے ہم سے رابطہ بھی نہیں کیا ۔ہم حکمران اتحاد کا حصہ تھے ان کے وزیراعلی نے کوئٹہ میں ہماری جماعت کیساتھ ملاقات کرنابھی گوارا نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں آج جب ایسا وقت آ گیا اب میں دوستوں سے کیا کہوں گا کیسے کہوں گا کہ آپ ایسا نہ کریں یا یہ کریں۔ ہم نے مرکز کی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مضبوطی سے اتحاد کو نبھایا ہے۔ دوستی کو وفاداری کے ساتھ نبھایا ہے مگر صوبوں میں ہمیں تعاون نہیں ملا۔ ہم نے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو پیشکش کی کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہیں بن سکتی۔ آئیں ہم مل کر حکومت بنائیں۔ مگر ہماری بات نہیں مانی گئی جب کہ خیبرپختونخوا میں ہم حکومت بنا سکتے تھے ۔ یہاں چار ماہ تک دھرنے دیئے گئے ہم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کیخلاف تحریک اعتماد منظور ہو سکتی ہے۔ دوسری جماعتیں مان گئی ہیں مگر مسلم لیگ (ن) تیار نہیں ہوئی۔ سینٹ کے ضمنی انتخابات میں دونوں بار مسلم لیگ (ن) نے صوبوں میں تحریک انصاف کو ووٹ دیئے جب صوبوں میں ہماری جماعت کیساتھ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ یہ رویہ رہا تو آج میں تو کس منہ سے اپنی صوبائی جماعت سے کہونگا کہ تحریک اعتماد کے حوالے سے ایسا نہ کریں دو ماہ سے اس طرح کے حالات تھے کسی کو کوئی فکر کیوں نہیں ہوئی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں اس تبدیلی کے معاملے پر دوچار دن انتظار کریں۔ جو بھی امیدوار ہو گا۔ اس کیلئے دوچاردن انتظار کریں۔

مولانا فضل الرحمن

مزید : صفحہ اول