آر ایل این جی پائپ لائن منصوبے ، درآمدی کاٹن پر سیلز ٹیکس ، کسٹم ڈیوٹی واپس لینے کی منظوری

آر ایل این جی پائپ لائن منصوبے ، درآمدی کاٹن پر سیلز ٹیکس ، کسٹم ڈیوٹی واپس ...

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس نے کراچی سے لاہور آر ایل این جی III کے یومیہ 1.2 ارب کیوبک فٹ گنجائش کے پائپ لائن منصوبے کے فنانسنگ پلان کی منظوری دے دی جو ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کی طرف سے شروع ہوگا۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو وزیراعظم دفتر میں منعقد ہوا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ منصوبے کے لئے سرکاری‘ نجی شراکت داری کے امکانات کا بھی جائزہ لے۔ایس ایس جی سی ایل کو آرم I-X سے 10 ملین مکعب فٹ یومیہ اور آرم ویسٹ I-X سے 18 ملین مکعب فٹ یومیہ مختص کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جامشورو کے مقام پر 660 میگاواٹ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے دو منصوبوں کی تعمیر کے لئے 39 ہزار ملین روپے کے حکومت پاکستان کی گارنٹی کے اجراء کی بھی منظوری دی۔ یہ منظوری منصوبے کی ڈیمانڈ اور سپلائی کے حوالے سے این ٹی ڈی سی کے پیش کردہ اعداد و شمار کی تھرڈ پارٹی جائزہ اور تصدیق کے بعد دی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 8 جنوری 2018ء سے موثر درآمدی کاٹن پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی واپس لینے کی بھی منظوری دی۔ وزیراعظم اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اراکین نے سیکرٹری خزانہ شاہد محمود کی حکومت پاکستان کے لئے شاندار خدمات کو بھی سراہا جو 6 جنوری 2018ء کو ملازمت سے ریٹائر ہوں گے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے ٹویٹ کا مناسب فورمز کے ذریعے جواب دیدیا گیا، کوئی این آر او نہیں ہو رہا، اس حوالہ سے قیاس آرائیاں مناسب نہیں، یہ فیصلہ جماعت کا ہو گا کہ ملک کا آئندہ وزیراعظم کس نے بننا ہے، مسلم لیگ (ن) کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی، میری کوشش ہے کہ سیاست مستحکم ہو، انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہوں تاکہ جمہوریت کا سفر چلتا رہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں کیں اور سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، ہم نے پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کر دیا، افغانستان سے دہشت گرد آ کر ہمارے ملک میں حملے کر رہے ہیں، دنیا کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں امن قائم کرے، اس سلسلہ میں ہم اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے کہا کہ کوئی این آر او نہیں ہو رہا، مجھ سے کسی نے این آر او کی بات نہیں کی، این آر او پاکستان کا قانون تھا،سعودی عرب کا نہیں، نواز شریف اور شہباز شریف نجی دورہ پر سعودی عرب گئے، ان کے اپنے تعلقات ہیں اور وہ اکثر عمرے پر بھی جاتے ہیں، اس حوالہ سے قیاس آرائی کرنا یا اخبارات کی زینت بنانا مناسب نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ ہوں، میری کوشش ہے کہ سیاست مستحکم ہو، انتخابات وقت پر اور منصفانہ ہوں تاکہ ملک میں جمہوریت کا سفر چلتا رہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کو عدالت کا جو فیصلہ آیا اس پر رائے زنی نہیں کروں گا لیکن یہ ضرور کہوں گا اسے عوام نے قبول نہیں کیا، فیصلہ کے پیمانے کے بارے وقت خود بتا دے گا، ہم نے اس پر عمل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، یہاں جس کے پاس 10 ہزار ووٹ نہیں وہ بھی دھرنا دے دیتے ہیں، اگر نواز شریف نے عوامی قوت کا مظاہرہ کیا تو یہ ان کا حق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہاں ایک جملہ سے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے جاتے ہیں، بات کو ہمیشہ درست تناظر میں لینا چاہئے، سیاسی لوگ تبصرہ کرتے ہیں یہ ان کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مجھے وزیراعظم بنایا، میں نے کام کرنا ہے، کام کرنے کا طریقہ کار اپنا اپنا ہوتا ہے، مجھ پر تنقید کرنے والے اپنے دور حکومت کے کام بتا دیں، ہم نے مشکلات کے باوجود کام کئے، جو کام نواز شریف نے شروع کئے وہ ہم مکمل کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ فیصلہ جماعت کا ہو گا کہ آئندہ وزیراعظم کس نے بننا ہے، کوشش ہے کہ میری جماعت کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو۔

وزیراعظم

مزید : صفحہ اول