تنازعات اور چودھراہٹ کی لڑائی میں اب تک سینکڑوں افراد قتل ہو چکے

تنازعات اور چودھراہٹ کی لڑائی میں اب تک سینکڑوں افراد قتل ہو چکے

لاہور(رپورٹ۔ یو نس با ٹھ)صوبائی دارالحکومت میں پرانی دشمنیوں اور چودھراہٹ کی لڑائی میں 1000سے زائد افرادموت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ جس سے سینکڑوں بچے یتیم،خواتین بیوہ اور متعدد خاندان کچہریوں اور جیلوں کے چکر کا ٹنے کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جوہر ٹاؤن میں تہرے قتل کے مر کزی ملز م اسلم عرف اچھا بھٹی کا نام بلیک بک میں شامل تھا ملزم اس سے قبل بھی کانسٹیبل سمیت 11افراد کو قتل کر چکا ہے اور اس کے سر کی قیمت 1لاکھ روپے رکھی گئی تھی ۔بھٹی ۔کھوکھر گروپ، ماجھا سکھ‘ کالو شاہ پوریا‘ نوری نت‘ بھولا سنیارا‘گو گی ،طیفی بٹ، ریا ض گجر، اسلم ٹا نگے والا ، بلا ٹرکاں والا‘ ٹیپو ٹرکاں والا‘ ارشد امین چودھری‘ عابد چودھری‘ عاطف چودھری‘ نواز جٹ‘ ہمایوں گجر‘ بابا حنیفا‘ راجپوت برادری‘ شیخ روحیل اصغر‘میاں اخلاق گڈو‘ بھنڈر اور ملک زاہد گروپ کی دشمنیاں نمایاں ہیں ۔ کئی اہم شخصیات کو قتل کرنے والے کئی قاتل تاحال گرفتار نہیں کیے جا سکے جبکہ کئی واقعات کی تفتیش کے لیے بنائی گئی کمیٹیاں اور کمیشن کاغذی کارروائیوں کے سوا کچھ نہیں کرتے رہے۔کہا جاتا ہے کہ لا ہور میں ماجھا سکھ اور شیخ روحیل اصغر گروپوں کے درمیاں شہر کی سب سے بڑی جنگ تھی جس میں دونوں خاندانوں کے سب سے زیادہ افراد قتل ہوئے۔دوسرے نمبر پر رشید بھٹی اور ہنجروال کے شاہ گروپ جاری جنگ میں کئی افراد لقمہ اجل بنے۔شہر میں کٹھا برادری اور راجپوت برادری میں جاری گینگ وار میں75سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ماضی کے 2بڑے گروپوں استو نمبردار‘ ملک نثار‘ کالو شاہ پوریا اور عارف حویلیاں والا کے درمیان جاری گینگ وار میں45سے زائد افراد قتل ہوئے۔ اس گینگ وار میں چودھراہٹ‘ زمینوں پر قبضے‘ مخالفین کا ساتھ دینے سمیت ایسی ہی دیگر وجوہات پر انھیں قتل کیا گیا۔ٹاپ ٹین کے الفاظ نے بھی 90کی دہائی میں ہی جنم لیا تھا جب لا ہور کے ٹاپ ٹین اشتہاریوں میں بھولا سنیارا‘ ہمایوں گجر‘ شفیق با با‘ حنیفا‘ ناجی بٹ‘ مناظر علی شاہ‘ اعظم بٹ‘ قیصر بٹ عرف قیصرا‘ ثناء گجر‘ کالی گجر اور لبا موٹی والا لا ہور سمیت پنجاب بھر میں اپنی من مانیوں میں مشغول تھے۔شیخ روحیل اصغر کے گروپ کے اہم کرداروں اشتہاری رشید عرف شیدا اور اچھو بارلا کو بعد میں پولیس نے مقابلوں میں پار کیا۔ رشید بھٹی اور ہنجروال کے شاہ گروپ جاری جنگ میں کئی افراد کو قتل کیا گیا۔اسی جنگ میں استو نمبردار کو تاریخ پیشی پر آتے ہوئے چوک یتیم خانہ میں6ساتھیوں سمیت قتل کیا گیا جس کا مقدمہ رشید بھٹی گروپ کیخلاف درج ہوا۔طالبعلم رہنما عابد چودھری اور ارشد امین چودھری گروپ میں گینگ وار کے باعث بھی کئی افراد قتل ہوئے۔عابد چودھری کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا تب اس گروپ کی قیادت عاطف چودھری نے سنبھالی اور وہ جلد خطرے کی بڑی علامت بن گیا۔عاطف چودھری کو علاقہ غیر میں خاصہ دار کی گولی سے زخمی کروایا گیا اور اسے گارڈن ٹاؤن کے علاقہ میں پولیس مقابلہ میں مار دیا گیا ۔بعد میں ارشد امین چودھری کو عارف چودھری و دیگر ساتھیوں سمیت اقبال ٹاؤن میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ 2گروپوں میں صلح کرواکر ایک گھر سے نکلا تھا۔بابا حنیفا جو ٹیپو ٹرکاں والا کا دست راست تھا کی جب ٹیپو ٹرکاں والا سے مخالفت شروع ہوئی تو یہ ٹاپ ٹین اشتہاریوں کا گروپ ٹیپو ٹرکاں والا کا مخالف ہو گیا اور اس گروپ نے شاہ عالمی میں واقع ٹیپو ٹرکاں والا کے اڈے میں گھس کر ٹیپو ٹرکاں والا کے والد بلا ٹرکاں والا کو قتل کر ڈالا ۔ اسی قتل و غارت گری کے دوران ٹاپ ٹین اشتہاریوں نے اپنے بچاؤ کیلئے گوالمنڈی کے طیفی بٹ‘ گوگی بٹ‘سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر اور مقتول پولیس آفیسر انسپکٹر نوید سعید سے تعلقات بنا لئے جس کی وجہ سے ٹیپو ٹرکاں والا اور طیفی بٹ گروپ کے درمیان بھی سرد جنگ کا آغاز ہو گیا اور یہ سرد جنگ ٹیپو ٹرکاں والا کے قتل پر آ کر ڈرائینگ روم کی سیاست میں تبدیل ہو گئی۔ بادامی باغ کے زاہد گروپ اور سابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عارف بھنڈر کے درمیان دشمنی کے دوران20سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔دونوں گروپوں کے سرپرست عارف بھنڈر اور زاہد ملک عرف زاہدو قتل ہو چکے ہیں۔زاہد ملک کی بہن میمونہ بھی اسی گینگ وار کی بھینت چڑھ گئی۔کریم پارک کے2بھائیوں شانی اور مانی بٹ نے اپنے مخالف ندیم بک میکر کو اس کے گن مین کے ہاتھوں قتل کروایا جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان قتل و غارت گری شروع ہو گئی۔دونوں بھائیوں کو سیشن کورٹ میں قتل کیا گیا ۔نورا کشمیری اور بابر بٹ کے درمیان دشمنی کے باعث18سے زائد افراد قتل ہوئے۔بابر بٹ کو اس کے گن مین نے ہی ڈیر ے کے اندر ہی اسے قتل کر دیا ۔شاد باغ کے علاقہ میں اس گروہ کے اشتہاری راشد بٹ نے اپنے بہنوئی اور اس کے باپ کو قتل کیا ۔باغبانپورہ حوالات میں بھی اسی گروہ نے دوہرا قتل کیا۔ماضی کے روایتی حریفوں میں شاہ دین عرف شاہیا‘ امام مسجد ملا مظفر‘ شاہد میو گروپ‘ صفدر ٹینٹاں والا و دیگر کئی چھوٹے گروپ شامل ہیں۔ملاں مظفر کے بھائی کو قتل کیا گیا تو وہ بد معاش بن گیا اور ملا مظفر اور اس کے مخالف گروپ کے کئی افراد قتل ہوئے جن کا الزام دونوں ایک دوسرے گروپ پر لگاتے رہے۔کا شی سمن آباد والے کو اس کے مخا لفین نے قتل کر دیا ۔جبکہ لاڈا گجر کی دشمنی میں اب ایک ہی خاندا ن کے 5افراد چو ہدری ارشاداور اس کے چار بیٹے قتل ہو ئے ۔اسی طرح سمن آباد میں کاشی کالیا کو اس کے مخالفین اقبال میر وغیرہ کی دشمنی میں 4سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔ سمن آباد میں ہی دو گروپوں کے ایک اور واقعہ میں تین سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں ۔ویسے تو یہ دشمنیاں لاہور کی حد تک بیان کی گئی ہیں مگر قیام پاکستان سے لیکر پنجاب بھر کی دشمنیوں کااگر ذکر کیا جائے تو مقتولین کی تعداد کئی ہزاروں تک پہنچ جائے گی ۔پنجاب میں کہیں گجر برادری ،کہیں جٹ برادری ،کہیں رانا برادری ،کہیں شیخ برادری ،کہیں بٹ برادری اور کہیں ارائیں برادری کی دشمنیاں اپنی ایک تاریخ رقم کر چکی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر