قائمہ کمیٹی قومی صحت، ہیلتھ کیئر ریگولیٹری بل، ہیلتھ اکیڈمی کو یونیورسٹی بنانے کی منظوری

قائمہ کمیٹی قومی صحت، ہیلتھ کیئر ریگولیٹری بل، ہیلتھ اکیڈمی کو یونیورسٹی ...

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے انسانی اعضاء کی پیوند کاری سے متعلق ترمیمی بل پر اعتراضات لگاتے ہوئے وزارت قومی صحت کو اگلے اجلا س میں دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردیں ہیں جبکہ ٹی بی اور کینسر کی ادویات زائد المیعاد ہونے کے حوالے سے سیکریٹری ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔کمیٹی نے ہیلتھ اکیڈمی کو یونیورسٹی کادرجہ دینے اور ہیلتھ کیئر ریگولیٹری بل کی متفقہ طورپر منظوری دیدی ہے۔جمعہ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر حفیظ الرحمن دریشک کی زیرصدارت ہوا اجلاس میں چیئرمین ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی( ہوٹا)بریگیڈئیر( ر)ڈاکٹر عامر اکرام نے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کے ترمیمی بل 2016پر بریفنگ دی ۔ اس موقع پرکمیٹی اراکین نے ہیومن آرگن عطیہ کرنیوالے کو چھ لاکھ روپے اعزاز یہ کی مخالفت کی اور کہاکہ اس سے عطیہ کرنے کے جذبات مجروح ہوتے ہیں کمیٹی نے مذکورہ بل مزید ترمیم کیلئے وزارت کو بھجوا دیا گیا ۔قائمہ کمیٹی میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی بل 2017 زیرغورلایا گیاڈی جی وزارت قومی صحت ڈاکٹراسد حفیظ نے بل پرتفصیلی بریفنگ دی ۔جس کے بعدکمیٹی نے ہیلتھ سروسز اکیڈمی کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اجلاس میں اسلام آباد ٹیریٹری ہیلتھ کئیر ریگولیٹری بل 2017 زیر بحث لایا گیا جس کے بعد اسے بھی متفقہ طور پر منظور کر لیاگیا ۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی ڈاکٹر رمیش کمار نے کمیٹی کی توجہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کی زائدالمیعاد ادویات کو ڈیرہ غازی خان بھجوانے کی خبر پر توجہ دلائی جس پر سیکریٹری وزارت قومی صحت نے معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کر لیااجلاس میں جنوبی پنجاب میں انفلوئنزا کی بیماری بھی زیر بحث آئی جس پرڈی جی ہیلتھ نے اسے موسمی بیماری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ زیادہ خطرناک نہیں ہے ۔

مزید : صفحہ آخر