مترکہ وقف املاک بورڈ کی خلاف ضابطہ مختلف بینکوں میں سرمایہ کاری کا انکشاف

مترکہ وقف املاک بورڈ کی خلاف ضابطہ مختلف بینکوں میں سرمایہ کاری کا انکشاف

اسلام آباد(آئی این پی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی عملدرآمد اور جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ مترکہ وقف املاک بورڈ نے خلاف ضابطہ ملک کی مختلف بینکوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری جن میں ایک بینک ختم ہو گیا اور دوسرا بینکوں کی فہرست میں ہی نہیں تھا۔پارلیمینٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی عملدرآمد اور جائزہ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز کنوینیرکمیٹی رانا افضال حسین کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے آڈٹ اعتراضات 2005-06کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے شرکا ء کو بتایا کہ اس میں سے اب تک ایک بینک کے ذمہ 19کروڑ سے زائد رقم آؤٹ سٹینڈنگ ہے،سیکرٹری متروکہ وقف املاک نے اعتراف کیا کہ کریسنٹ کمرشل بینک میں خلاف ضابطہ سرمایہ کاری کی گئی،2006میں جنرل(ر) ذوالفقار بورڈ کے چیئرمین تھے۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ جو بینک تھا ہی نہیں، اس میں سرمایہ کاری کی۔ کمیٹی نے نیب میں متروکہ وقف املاک کے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔اجلاس میں قیام پاکستان سے مختلف بینکوں ،پاکستان منٹ اور سرکاری مال خانوں میں 7من 1کلو 4تولے سونے اور43من 30کلو 63 تولے چاندی کا انکشا ف ہوا ۔ جس کا کوئی دعویدار نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی یہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے،اسے صوبوں کو دینے سے گریز کیا جائے ۔

مزید : صفحہ آخر