سپریم کورٹ نے پی سی او ججز کو ہٹانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی

سپریم کورٹ نے پی سی او ججز کو ہٹانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد(صباح نیوز228 مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے والے ججز کی 2009 ء کے عہدے سے ہٹانے کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست مسترد کردی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 ججز پر مشتمل لارجر بینچ نے پی سی او ججز کی نظرثانی اپیلوں اور آئینی درخواست کی سماعت کی۔پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز شبر رضا اور حسنات احمد خان نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ ججوں کو نکالنے والے 31 جولائی 2009 ء کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔حسنات احمد خان نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے میں پرویز مشرف کے خلاف کچھ بھی نہیں لکھا گیا اور وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کو نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی سنا گیا، تو ہمارے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کیوں ایسا نہیں کیا گیا، ہمیں نوٹس جاری کیا گیا اور نہ سنا گیا اب ہمیں پنشن بھی نہیں دی جا رہی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے مقدمے کا پس منظر بتا دیں۔پی سی او ججز اور ان کے وکیل علی سبطین فضلی نے بتایا کہ 9 مارچ 2007 کو پرویز مشرف نے افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹایا، 3 نومبر 2007 کو ڈکٹیٹر نے ایمرجنسی نافذ کردی اور اسی دوران افتخار چودھری کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف حکم جاری کیا۔حکم میں کہا گیا کہ جج حلف نہ اٹھائیں، بعد ازاں بحالی کے بعد افتخار محمد چو دھری کی عدالت نے 31 جولائی 2009 ء کو ایک فیصلہ دیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو فارغ کر دیا ن کے خلاف توہین عدالت کیس کا بھی کہا۔11 ستمبر 2011 ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سوال اٹھایا کہ کیا ججوں پر توہین عدالت لگ سکتی ہے؟ اسی بنچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے لکھا کہ قانون میں فرد کا لفظ استعمال ہوا ہے اور اعلی عدلیہ کے جج بھی افراد ہیں اس لیے توہین عدالت لگ سکتی ہے یہ افراد تو ہٹائے جانے کے بعد جج رہے ہی نہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے تو اس وقت کے سپریم کورٹ کے جج زاہد حسین کے خلاف بھی اسی فیصلے میں لکھ دیا تھا۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم وہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا؟پی سی او ججز کے وکیل نے کہا کہ وہ آپ کی مہربانی ہے مگر یہاں ہم آئینی درخواست دائر کرکے آئے ہیں کہ ہمارے خلاف جاری کیا گیا فیصلہ خلاف قانون تھا اور قانون کی نظر میں ایسا فیصلہ دیا ہی نہیں جا سکتا، ہم نے اپیل کی تھی مگر رجسٹرار سپریم کورٹ نے اعتراضات لگائے اور پھر اسے سنا نہیں گیا۔پی سی او ججز نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے عدالت کی تکریم پر حرف آئے ۔عدالت نے شبر رضا اور حسنات احمد کی آئینی درخواستیں خارج کرد یں ۔ عدالت نے پنشن اور مراعات کے لیے ہائیکورٹس کے دس سابق ججوں کی نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی وجہ سے نمٹا دیں۔

مزید : صفحہ آخر