صوبہ بھر میں ہرتحصیل کی سطح پر سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جائیں : عنا یت اللہ

صوبہ بھر میں ہرتحصیل کی سطح پر سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جائیں : عنا یت اللہ

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر بلدیات ودیہی ترقی عنایت اللہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا ایجنڈا ہے کہ صوبہ بھر میں ہرتحصیل کی سطح پر سپورٹس کمپلیکس تعمیر کئے جائیں تاکہ نوجوانوں کو مقامی سطح پر کھیلوں کی بہترین سہولیات میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں تو وہاں کے ہسپتال غیرآباد ہوتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کی شام چمکنی سپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر این اے فور سے جماعت اسلامی کے امیدوار واصل فاروق ،ڈسٹرکٹ کونسل ممبر خالد وقاص چمکنی، معززین علاقہ اورنوجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ چمکنی سپورٹس فیسٹیول میں ہاکی ،کرکٹ، فٹ بال، بیٹ منٹن، ٹیبل ٹینس، والی بال ،باڈی بلڈنگ ،شطرنج اورنیلام گھر سمیت دیگر کھیلوں کا انعقاد کیاگیاجن میں تقریباً 400 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیااوراپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کیا جبکہ فیسٹیول میں نوجوانوں کے جذبے کوشائقین نے خوب سراہا۔ سینئر وزیر عنایت اللہ نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ صوبائی اتحادی حکومت نے کھیلوں کی ترقی اورفروغ کیلئے اہم اقدامات اٹھائے ہیں اورکئی تحصیلوں میں کھیلوں کے میدان تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کود ذہنی نشونما میں انتہائی اہم کردار ادا کرتاہے اورساتھ ہی ساتھ نوجوانوں میں سپورٹس مین سپرٹ کو بھی فروغ دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد ی حکومت تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے فروغ پربھرپور توجہ دے رہی ہے اور اس کی واضح مثال یہ ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پرہمارے کھلاڑی ملک کانام روشن کررہے ہیں اوراپنے کھیل کے ذریعے اپنے ملک کی سفیر کاکردار اد اکررہے ہیں۔ سینئر وزیر نے کھیلنے والی مختلف ٹیموں کی کارکردگی کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ ہارجیت کھیل کاحصہ ہواکرتی ہیں اورہارنے والی ٹیموں کو دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیئے بلکہ انہیں پہلے سے زیادہ محنت کرنی چاہئے کیونکہ محنت میں جیت کاراز مضمر ہوتاہے ۔انہوں نے اس موقع پرعلاقے میں کھیل کے میدان کی تعمیر کے سلسلے میں بھرپور کوشش کرنے کاوعدہ کیا۔بعدازاں انہوں نے جتینے والی ٹیموں میں شیلڈ ،ٹرافی اوردیگرانعامات بھی تقسیم کیئے اور انہیں مبارکباد دی۔ واضح رہے کہ مذکورہ سپورٹس فیسٹیول 27 دسمبر سے 5 جنوری تک جاری رہا۔

مزید : کراچی صفحہ اول