سرکاری مال خانوں میں 7من سے زائد لاوارث سونا موجود ہے، جائزہ کمیٹی میں انکشاف

سرکاری مال خانوں میں 7من سے زائد لاوارث سونا موجود ہے، جائزہ کمیٹی میں انکشاف
سرکاری مال خانوں میں 7من سے زائد لاوارث سونا موجود ہے، جائزہ کمیٹی میں انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (آئی این پی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی عملدرآمد اور جائزہ کمیٹی کے اجلاس میں قیام پاکستان سے مختلف بینکوں، پاکستان منٹ اور سرکاری مال خانوں میں 7 من 1 کلو 4 تولے سونے اور43 من 30 کلو 63 تولے چاندی کا انکشا ف ہوا۔ یہ سونا اور چاندی 1947 سے موجود ہے اور کوئی ان کا دعویدار نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی یہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے،اسے صوبوں کو دینے سے گریز کیا جائے۔

تیسری شادی کے بعدسہاگ رات کے اگلے ہی روز عمران خان کہاں گئے ؟ایسی خبر آگئی کے پاکستانیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

وزارت خزانہ حکام نے کہا صوبوں میں یہ سونا اور چاندی دیا گیا تو نیا تنازع کھڑا ہو جائے گا اور مسائل جنم لیں گے، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے خلاف ضابطہ ملک کی مختلف بنکوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جن میں ایک بینک ختم ہو گیا اور دوسرا بینکوں کی فہرست میں ہی نہیں تھا۔  آڈٹ حکام نے بتایا کہ اس میں سے اب تک ایک بینک کے ذمہ 19کروڑ سے زائد رقم آﺅٹ اٹینڈنگ ہے، سیکرٹری متروکہ وقف املاک نے اعتراف کیا کہ کریسنٹ کمرشل بینک میں خلاف ضابطہ سرمایہ کاری کی گئی،2006میں جنرل (ر) ذوالفقار بورڈ کے چیئرمین تھے۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ جو بینک تھا ہی نہیں، اس میں سرمایہ کاری کی۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

کمیٹی نے نیب میں متروکہ وقف املاک کے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ جمعہ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی عملدرآمد اور جائزہ کمیٹی کا اجلاس کنوینئر کمیٹی رانا افضال حسین کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے آڈٹ اعتراضات 2005-06کا جائزہ لیا گیا، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ قیام پاکستان کے وقت سے اسٹیٹ بینک اور حکومتی تجوریوں میں 7من ایک کلو 40تولے سونا اور 43من 30کلو63تولے چاندی موجود ہے۔ کمیٹی نے اس معاملے پر وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی کہ یہ ملکیت وزارت کی ہے اور اسے صوبوں کو دینے سے گریز کیا جائے۔ وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ یہ قومی دولت ہے اسے صوبوں کو نہیں بانٹنا چاہیے، صوبوں میں بانٹنے سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو جائے گا۔ کمیٹی رکن چوہدری نذیر احمد نے کہا کہ اس خزانے کا ملک کو فائدہ ہونا چاہیے، کہیں اس کا استعمال کیا جائے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد /بزنس